‏اقتباس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اقتباس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 4 جنوری، 2014

خطرناک کھیل - - - جوابی وار - جنرل پرویزمشرف کی کتاب سب سے پہلے پاکستان سے اقتباس (7 قسط)

خطرناک کھیل - - - جوابی وار


شام ساڑھے چھے بجے تک کراچی کا رَن وے بندکردیا گیا تھا، اس کی روشنیاں بجھادی گئی تھیں اور آگ بجھانےوالے تین انجن کھڑے کردیئے گئے تھے۔ تمام داخلی پروازوں کا ملک کے دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف رُخ موڑ دیا گیا تھااور بیرونی پروازیں پاکستان سے باہرروک دی گئی تھیں۔ اب اصل کاروائی شروع ہوئی۔ شاہد علی اور ان کے دوتین سپاہی وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پر پہنچے۔ انہیں تعجب ہوا کہ وہاں سترہ لوگ موجود تھے اور قریب ہی چارستاروں کی پلیٹ لگی ایک سیاہ رنگ کی گاڑی کھڑی تھی، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کار ایک پورے جنرل کی تھی، ظاہر ہے کہ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے سے پہلے ضیاءالدین نے آرمی چیف کے تمام لوازمات جمع کرلئے تھے۔ جنرل ضیاءالدین اپنی وردی پہنے پورچ میں ایک میجر اور دو فوجی ایس ایس جی کے کمانڈوز کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہاں پر پولیس، ایلیٹ فورس اور ڈی جی آئی ایس آئی کے محافظ دستے کے سپاہی بھی موجود تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل اکرم، جو میرے کوارٹرماسٹرجنرل تھے، لیکن جنہیں نوازشریف نے جنرل عزیزخان کی جگہ سی جی ایس بنادیا تھا، بھی وہاں موجود تھے، وہ بھی وردی پہنے ہوئے تھے۔ ان کے برابر بریگیڈیئرجاویدوزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری تھے۔ وزیراعظم کے محافظ دستے کے ڈائریکٹرجنرل ، جوایک ریٹائرڈ میجرجنرل تھے اور نوازشریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی بھی وہاں تھے۔ شاہد علی نے اپنے آدمی پورچ کے چاروں طرف لگادیئےاورپھرضیاءالدین کی طرف آئے۔ ملٹری سیکرٹری نے اُنہیں متنبہ کیا کہ اگر ان کے سپاہیوں نے اپنا فاصلہ برقرار نہ رکھا تو وزیر اعظم کے محافظ گولی چلادیں گے۔ اگر وہاں پر گولیاں چلنی شروع ہوجاتیں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انجام کیا ہوتا اور کون کون مارا جاتا۔اگر سپاہیوں کے ہاتھوں جنرل مارے جاتے تو اس سے فوج میں ایک دراڑ پیدا ہوجاتی، وزیراعظم بھی شاید زندہ نہ بچتے۔ جیسا کہ پہلے کہہ  چکا  ہوں کہ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ شاہد علی اور ان کے سپاہیوں کو معلوم نہیں تھاکہ وزیر اعظم نے ہمارا جہاز اغواکرلیا ہے۔

 "کسی بھی فلم میں ممکن ہے کہ یہ بڑی مزاخیہ بات ہو، لیکن اُس وقت یہ بہت ہی خطرناک کھیل تھا"


اب ایک دوسرے کے محافظوں کو غیرمسلح کرنے کی جدوجہدشروع ہوگئی۔ شاہد علی نے ضیاءالدین سے کہا کہ وہ اپنے محافظوں سے کہیں کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ ضیاءالدین نے ان سے کہا کہ وہ اپنے سپاہیوں کو وہاں سے ہٹالیں اور انہیں اپنے نئے عہدے کی ذمہ داری سنھبالنے کے لئے آرمی ہیڈکوارٹرجانے دیں۔ جب شاہد علی نے انکار کیا تو ضیاء الدین نے ان سے پوچھا کہ وہ کس کے احکامات پر چل رہے ہیں۔ شاہدعلی نے بڑی حاضردماغی دکھاتے ہوئے ان سے کہاکہ وہ میری ہدایت کے تحت کام کررہے ہیں اور یہ کہ ہم نے چندمنٹ پہلے ہی بات چیت کی ہے اور یہ کہ میں جلدہی پاکستان میں اتروں گا۔ ضیاءالدین نے جھنجھلاکرجواب دیاکہ میرے احکامات قانونی طور پرجائزاورقابلِ قبول نہیں رہےکیونکہ اب میں چیف آف آرمی سٹاف نہیں تھا اور نہ ملک میں حاضرتھا۔ (کیونکہ میرے ہوائی جہازکارُخ پاکستان سے باہر کی طرف موڑدیاگیاتھا)، لیکن شاہد علی نے سننے سے انکارکردیا۔ اسی دوران لیفٹیننٹ جنرل اکرم نے بڑی رُعب دارآوازمیں اپناتعارف نئے چیف آف جنرل سٹاف کی حیثیت سے کرایا۔ انہوں نے شاہدعلی کو حکم دیا کہ وہ اپنے سپاہی فوری طورپروہاں سے ہٹائیں اور ساتھ ہی ساتھ دھمکی دی کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا انجام بہت بُراہوگا۔ وہ ہرصورت میں چاہتے تھے کہ ضیاءالدین اپنے نئے دفتر کا چارج لینے کے لئے ہیڈکوارٹرپہنچ جائیں ۔ دوسری طرف ضیاءالدین ہرطرح کی مراعات کے وعدے کرکے شاہدعلی کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کررہے تھے۔ کسی بھی فلم میں ممکن ہے کہ یہ بڑی مزاخیہ بات ہو، لیکن اس وقت یہ بہت ہی خطرناک کھیل تھا۔

 "ہمارے ٹینک اور فوجی گاڑیاں وزیراعظم ہاؤس کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے چکے ہیں"


اُس موقع پر ضیاءالدین اور اکرم نے بریگیڈیئرصلاح الدین ستی کو بھی پھسلانے کی ناکام کوشش کی (دھمکی اور رشوت دونوں کے ذریعے) کہ وہ اپنے سپاہی ، ٹیلی ویژن اسٹیشن اور وزیراعظم ہاؤس سے ہٹالیں۔ غلط بیانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اکرم نے بڑی شان سے اعلان کیا کہ منگلاسے (جو اسلام آباد سے تقریباً 70 میل دور ہے) اور پشاورسے (جو 105 میل دور ہے) اس کے سپاہی راولپنڈی کے باہر پہنچ گئے ہیں اور عنقریب اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ شاہد نے جواب دیا ابھی تو یہ اسلام آباد کی طرف آہی رہے ہیں جبکہ ہمارے ٹینک اور فوجی گاڑیاں وزیراعظم ہاؤس کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے چکے ہیں۔ اکرم اور ضیاءالدین ، دونوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھاکہ شاہد عزیز نے احتیاطاً پشاور اور منگلا کے سپاہیوں کی حرکت کوروک دیا تھااور دونوں کمانڈنگ افسروں سے مستقل رابطے میں تھے۔ ٹھیک اسی وقت 111 بریگیڈکے پچیس سپاہی وہاں پہنچ گئے۔ شاہد علی نے انہیں فوراً اپنی اپنی پوزیشن پرکھڑا کردیا اور انہیں کاروائی کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔

وزیراعظم کے محافظوں نے، جو ایس ایس جی (SSG) کے تھے اور جانتے تھے کہ میں ان کا اپنا آدمی ہوں، اچانک ہتھیارڈال دیئے اور شاہد علی کی طرف آگئے۔ بس یہاں سے صورتِحال بدل گئی۔ انہیں دیکھ کر وزیراعظم اور ضیاءالدین کے دوسرے محافظوں نے بھی ہتھیارڈالنے شروع کردیئے۔ ضیاءالدین اس حقیقت سے بے خبرکہ ان کی دنیا ٹوٹ پھوٹ رہی تھی، اب بھی اپنے موبائل فون پر باتیں کررہے تھے، ہدایات دے رہے تھے اور مبارک باد کے پیغامات وصول کررہے تھے۔ شاہد علی نے آگے بڑھ کران کے ہاتھ سے موبائل فون لے لیا۔ انہوں نے ضیاءالدین ، اکرم اور دوسرے افراد کو گھر کے اندرجانے کے لئے کہا تاکہ وہ حفاظتی حراست میں رکھے جاسکیں۔ ضیاءالدین کا شاہدعلی سے آخری سوال یہ تھا کہ اِس کاروائی میں کتنے سپاہی شامل ہیں؟ شاہد علی نے پھرغلط بیانی سے کام لیا کہ "ایک بٹالین نے وزیراعظم ہاؤس کی عمارت کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور مزید تین بٹالین باہر اپنی جگہوں پر تعینات ہیں۔ "اس نے بتایا  اور یہ کہ "پولیس کوپوری طرح غیرمسلح کردیا گیا ہے۔" یہ سن کر ضیاءالدین ، اکرم اور ملٹری سیکرٹری انتہائی پریشان ہوگئے اور فوراً عمارت کے اندرچلے گئے۔

اسلام آباد میں صورتِحال بدل چکی تھی لیکن میرا ہوائی جہاز اب بھی فضاہی میں تھا، ایندھن ختم ہورہا تھااور میں سوچ رہا تھا کہ میں نواب شاہ ایک غیریقینی انجام کے لئے جارہا تھا۔ شام کے سات بج چکے تھے، جب یہ سب کاروائی وزیراعظم ہاؤس میں ہورہی تھی، بہت سی چیزیں ایک ساتھ کراچی  میں ہونے لگیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عثمانی اپنے ذاتی محافظوں اور ملٹری پولیس کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پہنچے۔پانچ منٹ کے بعد کراچی میں ملیر کی چھاؤنی سے بھی فوجی ایئرپورٹ  پہنچے۔  یہ بالکل وہی وقت تھا، جب ایئرٹریفک کنٹرول نے ہمارے پائلٹ کو بتایا کہ پاکستان کے دیگر ہوائی اڈوں کی طرح نواب شاہ ایئرپورٹ بھی ہمارے ہوائی جہاز کے لئے بند ہےاوریہ اس کے بعدہی ہوا تھاکہ پائلٹ نے میرے ملٹری سیکرٹری ندیم تاج کو کاک پٹ میں بلایا اور انہیں یہ ناقابل یقین صورتحال بتائی۔

" جب ان سے ہتھیار ڈالنے کو کہاگیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اسلام آباد سے احکامات کا انتظار کریں گے"


اُدھر لاہور میں شام کے تقریباً چھے بج کر پینتالیس منٹ پر سترسپاہیوں پر مشتمل ایک کمپنی لاہور کے مضافات میں واقع ماڈل ٹاؤن میں وزیراعظم کی خاندانی رہائش گاہ پر پہنچی۔ وہاں انہوں نے پولیس کی ایک بھاری نفری مکانات کی چھتوں پر، لان اور چار دیواری کے باہرمتعین دیکھی۔ جب ان سے ہتھیار ڈالنے کو کہاگیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اسلام آباد سے احکامات کا انتظار کریں گے۔ فوج نے اپنی ری کائل لس رائفلیں اس طرح تانیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے وہ سامنے والی عمارت ڈھادیں گے۔ یہ دیکھ کر پولیس نے ہتھیارڈال دیئے۔ نوازشریف کا کوئی حمایتی اُس وقت ان مکانات میں موجود نہیں تھا۔ تقریباً اسی وقت لاہور کور کے 150 سپاہی ایئرپورٹ پہنچ گئے اور پولیس کی ایلیٹ فورس کی موجودگی کے باوجود ساڑھے سات بجے تک ہوائی اڈہ بھی گھیراؤ اور بغیر کسی مزاحمت کے تحویل میں لے لیا گیا۔ لاہورکے ٹیلی ویژن اسٹیشن پر بھی کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ ڈیوٹی پر موجود لوگوں نے ہدایات پر عمل کیااور سب سے پہلے نشریات لاہور اسٹیشن سے بند ہوئیں۔ اس وقت تک لاہورمیں آنے اور جانے کے تمام راستے بھی بندکردیئے گئے تھے۔ اس زمانے میں ہماری موبائل فون کمپنیوں میں سب سے بڑی کمپنی "موبی لنک" تھی۔ سپاہیوں کا ایک دستہ موبی لنک کے نشریاتی اسٹیشن پر گیا تاکہ اسے بند کردے۔ وہاں پر ڈیوٹی انجینئرنے مزاحمت کی اور وہ بھی بڑی شدت سے، جس کے لئے میرے دل میں اس کی عزت ہے۔ چونکہ وہ کوئی فوجی تو تھا نہیں۔۔۔۔۔اسے کافی مشکل سے قابومیں لایا گیا۔ شام ساڑھے سات بجے تک لاہور کا انتظام سنبھال لیا گیا تھا۔

 "ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سوال پوچھا کہ "آیا میرا جہاز ممبئی جاسکتا ہے۔"


شام کے تقریباً چھے بج کر اڑتالیس منٹ پر، جب ہمارے پائلٹ نے ایئرٹریفک کنٹرول کو مطلع کیا کہ ایندھن کی کمی کے باعث وہ مسقط نہیں جاسکتا تو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے ایئرٹریفک کنٹرولر سے ایک ناقابلِ یقین سوال پوچھا کہ آیا میرا جہاز ممبئی جاسکتا ہے۔ میں نے بہت سے بے وقوف اور احمق لوگ دیکھے ہیں، لیکن یہ سوال ناقابلِ یقین اور سب سے زیادہ احمقانہ تھا۔ کنٹرولر نے نفی میں جواب دیا۔ تب ڈائریکٹرجنرل نے ایئرٹریفک کنڑولر کو ہدایت کی کہ وہ پائلٹ سے کہے کہ کراچی اور نواب شاہ ایئرپورٹ عملیاتی وجوہ کی بنا پر بند کردیئے گئے ہیں، لہٰذا وہ خود افسران یعنی ہوائی کمپنی سے ہدایات لے۔ پائلٹ نے کہا کہ اس کی کمپنی نے اسے نواب شاہ میں اترنے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن کنٹرولر نے دوبارہ کہا کہ نواب شاہ میں نہیں اترسکتے۔اگر چہ یہ انتہائی احمقانہ بات ہے، لیکن مکمل حقیقت پر مبنی ہے۔ ہمارے پائلٹ نے جواب دیا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں  کہ وہ کراچی کے اوپر چکرلگائےاور ایمرجینسی کا اعلان کرکے اترے یا سیدھاقریب ترین ہوائی اڈے پر چلاجائے۔

اس کے بعد جو ہوا وہ بھی اُس دن کے عقدوں میں سے ایک ہے، جو ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ کراچی میں واقع فیصل ایئربیس ، جو پاکستان ایئرفورس کا ہوائی اڈہ ہے، کے ایک ایئرٹریفک کنٹرولر نے کراچی ایئرپورٹ کے ایئرٹریفک  کنٹرولر سے اسلام آباد سے آنے والی فضائیہ کے بوئنگ 737 کی وی آئی پی فلائٹ کے آنے کا اندازاً وقت پوچھا۔ کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرولر اس پرواز کی آمد کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکا۔ میں سوچتاہوں کہ یہ سب کس سلسلے میں تھا؟ کون اس پروازپرآنے والا تھا یا میرے کراچی میں اترنے کی صورت میں کیا وہ مجھے کہیں اورلے جانے کے لئے تھی؟

شام سات بج کردس منٹ پر کنٹرولر نے بالآخر ہمارے جہاز کو نواب شاہ میں اترنے کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے میں پانچ منٹ مزید لگے۔ نوازشریف کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ فوج اتنی بڑی تعداد میں اتنی سُرعت سے حرکت میں آجائے گی اور اگر میرے جہاز کو کوئی حادثہ پیش نہ آیا تو سب معاملہ جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے ہمارے جہاز کا رخ نواب شاہ کی طرف اس خیال سے کیا کہ وہاں پر مقامی پولیس بغیر فوجی مداخلت کے مجھے گرفتار کرلے گی۔ نواب شاہ میں پاکستان کی سب سے بڑی بجلی کمپنی "واپڈا" کی مدد کرنے کے لئے فوج کی ایک کمپنی موجودتھی۔ بلاشبہ ہیڈکوارٹرزاور کراچی کور کو یہ معلوم تھااور انہوں نے نواب شاہ میں موجود سپاہیوں کو ہوائی اڈے پر جانے کی اور پولیس کو غیرمسلح کرنے کی ہدایت کی اور مجھے۔۔۔۔۔اگر میرا جہاز وہاں اترتا ہے، تو کسی محفوظ مقام پر لے جانے کی ہدایت کی۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کراچی میں فوج اتنی سرعت سے حرکت میں آئی کہ میرے جہاز کو نواب شاہ میں اترنا نہیں پڑا، لیکن سپاہیوں نے نواب شاہ ایئرپورٹ پر موجود پولیس کو غیرمسلح کردیا تھا۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)

جمعہ، 3 جنوری، 2014

ٹیلی ویژن پر گلاب کےپھول کےساتھ فوجی موسیقی ۔۔۔جوابی وار - قسط 6

ٹیلی ویژن پر گلاب کے پھول کے ساتھ فوجی موسیقی ۔ جوابی وار

جیسا میجر نے سوچا تھا، تھوڑی دیر بعد سپاہیوں کا ایک زیادہ بڑادستہ جاویدسلطان اور شاہدعلی کی سربراہی میں ٹیلی ویژن اسٹیشن پر پہنچا، اس کی دیواریں پھاندیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے اسے تحویل میں لے لیا۔ ٹیلی ویژن نشریات بالکل بندکردی گئیں۔ پورے ملک میں ٹیلی ویژن پر تصویریں غائب ہوگئیں۔ تھوڑی دیر بعد ٹیلی ویژن پر ایک گلاب کا پھول نمودار ہوااس کے ساتھ ساتھ فوجی موسیقی بج رہی تھی۔ لوگوں نے اب یہ سمجھ لیاکہ جوابی وارہورہا ہےاور تھوڑی ہی دیر کے بعد نوازشریف کی دوسری حکومت تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔سیکرٹری دفاع بھی، جو اپنی وزارت کے دفتر میں ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے، اسی نتیجے پر پہنچے۔ میں سوچتا ہوں کہ نوازشریف اور ان کے ساتھیوں نے جب ٹیلی ویژن اسکرین پر تصویر غائب ہوتے ہوئے اور اس کے بعد لال گلاب نمودارہوتے ہوئے دیکھا ہوگا توانہوں نے کیا سوچا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ وہ تھوڑے سے ہی پریشان ہوئے ہوں گے۔

جب نوازشریف میرے ہوائی جہاز کو بھارت بھیج رہے تھے تو کیا وہ غداری کے مرتکب نہیں ہورہے تھے؟

خوشیوں کا اظہارشروع ہوگیا۔ پراُمیدلوگوں کی ایک بھیڑٹیلی ویژن اسٹیشن کے سامنے جمع ہوگئی تھی۔ اس میں ہر طبقے کے لوگ تھے، مالداراورغریب، دفتروں کے افسراور مزدور، مرداورعورت، ہرشخص حکومت سے نالاں اور اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے بے تاب تھا۔ بہت سے سفیر اور دوسرے سفارت کار ٹیلی ویژن اسٹیشن کی طرف اپنی اپنی گاڑیوں میں آئےاور کاروں سے نکل کر پُرجوش لوگوں کی بھیڑمیں شامل ہوگئے۔ کسی کو کسی قسم کے تشددکاخیال بھی نہ آیا، جلدہی مجمع اتنا پھیل گیاکہ ٹریفک رُک گئی۔ لوگوں کو جو ہائی جیک شدہ ہوائی جہازمیں تھے، یہ سب معلوم ہی نہیں تھا۔ ہمارا تو ایندھن تیزی سے ختم ہورہا تھااور پوری کوشش یہ تھی کہ حادثہ ہونے سے پہلے کہیں نہ کہیں اترجائیں۔ سیکرٹری کے لال گلاب دیکھنے کے تھوڑی دیر بعد ملٹری انٹیلی جنس کا ایک نوجوان میجر وزارتِ دفاع پہنچا اور انہیں ملٹری آپریشنزڈائریکٹوریٹ چلنے کی دعوت دی۔ جب  سیکرٹری دفاع وہاں پہنچے تو جوابی کاروائی کرنے والے تینوں لیڈر ان کا انتظار کررہے تھے۔وہ فوراً سمجھ گئے، انہیں بتایاگیاکہ ان کے بھائی سے، جو نوازشریف کی کابینہ میں وزیر تھےیا اُن سے کوئی پریشانی نہیں تھی، لیکن ان سے درخواست کی گئی کہ وہ وہاں پر ہی ٹھہرے رہیں۔ اس دن انہوں نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا، لہٰذاان کے لئے نہایت پُرتکلف رات کا کھانا منگوایا گیا۔ اب سیکرٹری دفاع کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ میری برطرفی کا کوئی  اعلامیہ جاری کرسکتے ۔

جب تک  سیکرٹری دفاع، آرمی چیف کی برطرفی کے اعلان پر دستخط نہ کریں، چیف اپنے عہدے پر برقراررہتا ہے۔ ٹی وی سے خبریں نشرہونے کے باوجود میں سرکاری اور قانونی طور پر بدستور چیف آف دی آرمی سٹاف تھا۔ عدالتِ عظمٰی نے بعد میں اپنے فیصلے میں ، جو میرے خلاف ایک مقدمے کا تھا، کہا کہ جنرل پرویزمشرف چیف آف آرمی سٹاف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے آئینی عہدے پر فائز ہیں۔ ان کی یک طرفہ برطرفی تمام (audit alteram partem) اصولوں کے خلاف تھی اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ جب نوازشریف میرے ہوائی جہاز کو بھارت بھیج رہے تھے تو کیا وہ غداری کے مرتکب نہیں ہورہے تھے؟

" اگرانہیں معلوم ہوتا تو ان کی آنکھوں میں خون اترآتا اور پھر کچھ بھی ہوسکتا تھا"

ٹیلی ویژن اسٹیشن تحویل میں لینے کے بعد لیفٹیننٹ کرنل جاویدسلطان، ایوانِ صدرکی طرف چلے گئےاور لیفٹیننٹ کرنل شاہدعلی اور ان کے جوان وزیراعظم ہاؤس کے طرف۔ مجھے اب بھی مسرت ہے کہ شاہد علی کو معلوم نہیں تھا کہ نوازشریف میرے ہوائی جہازکے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کررہے تھےکیونکہ اگرانہیں معلوم ہوتا تو ان کی آنکھوں میں خون اترآتا اور پھر کچھ بھی ہوسکتا تھا، لیکن انہیں صرف یہی بتایا گیاکہ وزیراعظم کو مع ان کے ساتھیوں کے، تحویل میں لے لیں۔ راستے میں شاہدعلی کو ایک ٹیلی فون لیفٹیننٹ جنرل سلیم حیدر کا آیا، جنہیں نوازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل محمودکی جگہ روالپنڈی کورکاکمانڈرمقررکیاتھا۔ وہ سخت غصے میں تھے، کیونکہ وردی میں ہونے کے باوجود محافظوں نے انہیں وزیراعظم ہاؤس کے بیرونی دروازے پرروک دیا تھااورداخلے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ انہوں نے خطرناک نتائج سے بھی دھمکایا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شاہد نے شائستگی، لیکن سختی سے انہیں بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہونے کے لئے انہیں اصرار نہیں کرنا چاہئےکیونکہ جہاں تک محافظوں کا تعلق تھا، لیفٹیننٹ جنرل محموداحمد ہی راولپنڈی کور کے کمانڈرتھے اور محافظوں کو ہدایات تھیں کہ اگر یہ مُصرہی رہیں تو انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے۔

"اب کھیل ختم ہوگیا ہےکیونکہ 111 بریگیڈ ان کی رہائش گاہ میں پہنچ چکاتھا "

میجر نے وزیراعظم ہاؤس پہلے سے ہی بندکردیا تھا، لیکن شاہد نے اپنے کچھ سپاہی بیرونی حدود پر واقع گیٹ کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیئے تھے اور اس کے بعد پانچ سپاہیوں کے ساتھ بڑی بلڈنگ کی طرف گئے۔ اندرونی دیوارکے اندر ایک اور گیٹ تھا، جس کی حفاظت پولیس کے دس سپاہی کررہے تھے۔ شاہد نے ان سے کہاکہ وہ ہتھیار ڈال دیں، ان میں سے ہر ایک نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ فوجیوں کے ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے، لیکن ان میں سے ایک کا بھی سرپھرجاتا اور وہ گولی چلانا شروع کردیتا، تب کافی زخمی بھی ہوسکتے تھے اور خون خرابہ بھی ہوتا۔ ان سب کو ایک مسلح سپاہی کی تحویل میں دے دیا گیا، جو انہیں بڑے دروازے تک لے گیا، جہاں پولیس کے دوسرے سپاہی بھی، جنہیں غیرمسلح کردیاگیاتھا، بیٹھے تھے۔

ہمارے پائلٹ نے جب پیغام بھیجا کہ اس کے پاس صرف پینتالیس منٹ کا ایندھن باقی رہ گیا ہے اور اگر وہ کراچی میں نہیں اترسکتا تو صرف نواب شاہ تک ہی جاسکتا ہے، اس وقت تک 111 بریگیڈ پرائم منسٹرہاؤس میں داخل ہوکر گیٹ پر متعین پولیس کے سپاہیوں کو غیرمسلح کرچکا تھا۔ وزیراعظم تک سوالات پہنچے اور ان کے جواب دینے کا ڈرامہ اس کے بعد ہی شروع  ہوا۔ نوازشریف بجائے یہ سمجھ لینے کے، کہ اب کھیل ختم ہوگیا ہےکیونکہ 111 بریگیڈ ان کی رہائش گاہ میں پہنچ چکاتھا اور اب ان کا حراست میں لئے جانا اوران کی حکومت کا خاتمہ منٹوں کا ہی معاملہ تھا، وہ میری پرواز کے بارے میں احکامات جاری کرتے رہے کہ اُسے پاکستان سے باہر بھیج دیاجائے۔ انہیں امید کا دامن نہ چھوڑنے پر الزام نہیں دیا جاسکتا۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)

ہائی جیکنگ ڈرامہ۔۔۔ جوابی وار۔ جنرل پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس (پانچویں قسط)

ہائی جیکنگ ڈرامہ۔۔۔ جوابی وار۔ 


جب علی اور سلطان راولپنڈی سے راوانہ ہوئے تھے تو شاہد نے پرائم منسٹر ہاؤس کےحفاظتی دستے کے سربراہ میجر کو حکم دینے کے لئے ٹیلی فون کیاکہ وہ پرائم منسٹرہاؤس کو بند اور محفوظ کردیں۔ لیکن میجر کی بیوی نے بتایا تھاکہ وہ ورزش کے لئے گئے ہیں۔ خوش قسمتی سے وہ پرائم منسٹر ہاؤس کے میدان میں ہی ورزش کررہے تھے لہٰذا ان سے جلد ہی رابطہ ہوگیا۔ انہوں نے پرائم منسٹر ہاؤس میں ہر طرح کی آمدورفت بند کردی تھی اور وہاں پر موجود فوجی گارڈ کو بتایا کہ ان سے کیا توقع کی جاتی ہےاور یہ بھی بتایا کہ ان کے چیف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور انہیں آئندہ ہونے والے اقدامات کے بارے میں اس طرح بتایا ، گویا یہ تمام کاروائی چیف کے احکامات کے تحت ہے۔ اسی طرح صدارتی تحفظ پر مامور میجر کو جاوید سلطان نے حکم دیا کہ پہلے وہ ایوانِ صدرمیں ہر طرح کی آمدورفت بندکریں اور اس کےبعد وہاں سے تھوڑے فاصلے پر واقع ٹیلی ویژن اسٹیشن جاکر اسے اپنی تحویل میں لے لیں۔ ایوانِ صدر بغیر کسی پریشانی کے محفوظ کردیا گیاتھا۔

"جب اس کا وقت آیا کہ وہ میرے لئے کچھ کرےتواس نے کچھ نہ کیا اور ساکت بیٹھایہ دیکھتا رہا کہ میں جیتوں گا یا ہاروں گا"


کراچی میں پانچ بج کرچالیس منٹ ہوئے تھے، جب کراچی کے کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل مظفرعثمانی کو لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان نے ٹیلی فون کیا اور کہاکہ وہ ایئرپورٹ کو اپنی تحویل میں لے لیں اور چیف جب اُتریں تو اُن کا استقبال کریں۔ اس کے بعد کراچی میں واقعات بہت تیزی کے ساتھ حرکت میں آئے اور جنرل عثمانی نے فوری احکامات صادر کئے۔ انہوں نے بریگیڈیئرطارق فتح  کو، جو کراچی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹرتھے، حکم دیا کہ وہ ایئرٹریفک کنٹرول کو اپنی تحویل میں لے لیں اور بریگیڈیئرنوید کے ساتھ، جو ایئرپورٹ سیکورٹی کے کمانڈرتھے، تعاون کریں۔ اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ طارق فتح نے صرف یہ کیا کہ وہ ہوائی اڈے پر گئے اور ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفترمیں بیٹھ گئے۔ یہ وہ شخص تھا، جسے میں نے ترقی کی راہ پر لگانے میں کافی مددکی تھی، لیکن جب اس کا وقت آیا کہ وہ میرے لئے کچھ کرےتواس نے کچھ نہ کیا اور ساکت بیٹھایہ دیکھتا رہا کہ میں جیتوں گا یا ہاروں گا۔

"گورنر نے کمانڈر پر بغاوت کا الزام لگایااور سنگین نتائج کی دھمکی دی"


شام پانچ بج کرپینتالیس منٹ پر لاہورمیں فوج حرکت میں آچکی تھی اور سپاہیوں کے چار دستے تیار کئے گئے۔ ایک گورنرسردارذولفقارعلی کھوسہ کو حراست میں لینے کے لئے گورنر ہاؤس، دوسرا ٹیلی ویژن اسٹیشن، تیسرا وزیراعظم کی رہائش گاہ اور چوتھارائے ونڈمیں وزیر اعظم کی نئی خاندانی رہائش گاہ پرگیا۔ گورنر اپنے دفتر میں تھےاور دو سو لوگوں کے اجتماع کے لئےایک تقریرتیارکررہے تھے۔ جب دو سپاہیوں نے ان کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو گورنر کے ذاتی محافظوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن سپاہیوں نے انہیں ایک طرف ہٹادیا۔ کمانڈر، گورنر کے دفتر میں داخل ہوئےاور ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے ساتھ بریگیڈیئر ہیڈکوارٹر چلیں۔ گورنر نے کمانڈر پر بغاوت کا الزام لگایااور سنگین نتائج کی دھمکی دی۔

" قوم نے، جو گھروں میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی تھی، محسوس کیا کہ دال میں کچھ کالا ہے"


اُس وقت تک نوازشریف کی چال کو ناکام بنانے کے لئے راولپنڈی، کراچی اور لاہورمیں کاروائی شروع ہوچکی تھی۔ شاہد علی اور جاوید سلطان، اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ لاہورمیں میجر جنرل طارق مجید نے پنجاب کے گورنرکو تحویل میں لینے، وزیراعظم کی دونوں رہائش گاہوں، ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشنوں اور شہر میں داخلے اور خروج کے تمام راستوں کو بندکرنے کے احکامات صادر کردیئے تھے۔ کراچی میں، جہاں فاصلے بہت زیادہ ہیں ، سپاہی حرکت میں آچکے تھے۔

ایوانِ صدر کو محفوظ کرنے کے بعد جاوید سلطان کے سپاہی ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر کی جانب گئے، جو وہاں سے ایک میل کے فاصلے پر تھا اور اُسے تحویل میں لے لیا۔ چھے بجے کی انگریزی کی خبریں شروع ہوئیں اور ان میں میری برطرفی کا کوئی اعلان نہیں تھا، حالانکہ وہ اہم ترین خبر ہونی چاہئےتھی۔ پرائم منسٹرہاؤس میں نوازشریف اور ان کے جو ساتھی ٹیلی ویژن کے سامنے سرجوڑے بیٹھے تھے، خطرہ محسوس کرنے لگے۔ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری، جو ایک بریگیڈیئرتھے، اپنے عہدے کا رعب ڈال کرپرائم منسٹر ہاؤس سے باہر جانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ سیدھے ٹیلی ویژن اسٹیشن گئے، جہاں انہوں نے ایک میجر پر، جو اس جگہ کے انچارج تھے، رعب ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ چند سیکنڈ کے لئے آمناسامنا ہوا، لیکن جوان میجر نے انتہائی ہوشیاری کا ثبوت دیا۔ اُسے معلوم تھا کہ مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عنقریب ہی ایک اور زیادہ  طاقتور فوج آجائے گی، جو دوبارہ اسٹیشن کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ ملٹری سیکرٹری نے میجر اور ان کے گارڈ کو نہتا کرکے ایک کمرے میں بندکردیا۔ خبریں ختم ہونے سے ذرا پہلے خبریں پڑھنے والی خاتون کو ایک کاغذ دیا گیا، جو انہوں نے تذبذب کی حالت میں پڑھا کہ جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف آف سٹاف کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین کی تقرری کردی گئی ہے، جنہیں چارستاروں والے جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ملٹری سیکرٹری خوش وخرم وزیر اعظم ہاؤس واپس چلے گئےلیکن قوم نے، جو گھروں میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی تھی، محسوس کیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

"پرویزمشرف کے ہوائی جہاز کو پاکستان میں کسی بھی قیمت پر کہیں بھی نہ اُترنے دیا جائے"


خبریں نشر ہونے کے شروع میں وزیراعظم گھبراگئے تھے کہ میرا ہوائی جہاز تقریباً ایک گھنٹے بعد کراچی میں اُترنے والا تھا اور فوج کو اس کا سربراہ واپس مل جانے کی صورت میں جوابی وار کوشکست دینے کا موقع پارا پارا ہوجائے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہی وہ نکتہ تھا، جب نوازشریف اس نتیجے پر پہنچے کہ مجھے پاکستان اُترنے سے روکا جائے۔ انہوں نے اپنے مشیر برائے سندھ غوث علی شاہ کو، جو کراچی میں تھے، ٹیلی فون کیا۔ کراچی ، جو سندھ کادارلحکومت ہے، ایک کروڑبیس لاکھ سے زائد آبادی کا بین الاقوامی شہر ہے اور ہمارا سب سے بڑا مالی اور تجارتی مرکز اور ہماری سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ وزیراعظم نے شاہ کو ہدایت کی کہ وہ فوراًپولیس کا ایک بھاری دستہ لے کرہوائی اڈے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ میرا جہاز وہاں نہ اُترے۔ اگر کسی وجہ سے اس کا اترنا نہ رک سکےتو ہوائی جہاز کو کسی دور جگہ کھڑا کردیا جائے اور فوراً اس میں ایندھن بھرکردوبارہ دوسرے ملک جانے کے لئے روانہ کردیا جائے۔

غوث علی شاہ صوبے کے قائم مقام وزیراعلٰی تھے۔ انہیں نوازشریف نے منتخب وزیراعلٰی کی جگہ رکھاہوا تھا۔ یہ بھی نواز شریف کی بہت سی غیرآئینی حرکتوں میں سے ایک تھی۔ وہ فوراً ایک بھاری پولیس پارٹی اور اپنے چندصوبائی وزیروں اور افسروں کو لے کر ہوائی اڈے کی طرف چل دیئے۔ اس کے بعد وزیراعظم نے ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کراچی میں یہی ہدایات دیں کہ پرویزمشرف کے ہوائی جہاز کو پاکستان میں کسی بھی قیمت پر کہیں بھی نہ اُترنے دیا جائے، اس کو کہیں بھی، کدھربھی جانے پر مجبورکردو تاکہ وہ ملک سے باہرچلاجائے۔ پانچ منٹ کے بعد انہوں نے یہی ہدایات پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکے چیئرمین کو دیں اور کہا کہ وہ ہوائی جہاز کے پائلٹ سے کہیں کہ وہ پاکستان کی حدود سے نکل جائے۔ چیئرمین نے ہاں کیااور نہ ناں۔  جس وقت یہ سب بات چیت ہورہی تھی، میری پرواز نے کراچی ایئرٹریفک کنٹرول سے پہلارابطہ کیا اور انہیں اطلاع دی کہ ہمارا اترنے کا وقت اندازاً چھے بج کرپچپن منٹ تھا۔ چھے بج کر دس منٹ پر کراچی کے کورکمانڈرلیفٹیننٹ جنرل عثمانی نے میجر جنرل ملک افتخارعلی خان کو، جن کے ساتھ میں نے ایئرٹریفک کنڑول ٹاور پر بعد میں بات کی تھی، حکم دیا کہ وہ فوری ری ایکشن گروپ  (Immediate Reaction Group) کو کراچی ایئرپورٹ بھیج دیں تاکہ میری پرواز وہاں اترسکے۔

"بریگیڈیئرجبار کو فوراً احکامات دیئے کہ وہ فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ پرجائیں اور ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کو اپنی تحویل میں لے لیں"


بے چین اور بوکھلائے ہوئے وزیراعظم نے ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دوبارہ ٹیلی فون کیا اور ہدایات دیں کہ میری پرواز کا رُخ مسقط یا ابوظہبی کی طرف موڑدیا جائے لیکن دبئی کی طرف نہیں۔ ڈائریکٹرسول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرٹریفک کنٹرول کو ٹیلی فون کرکے میری پرواز کی صورت حال پوچھی۔ ہوائی اڈہ بندکرنے کے طریقہء کارپربات کی اور یہ کہ ہمارے ہوائی جہاز کو بغیراُن کی اجازت کے، اترنے نہ دیا جائے۔ چند منٹ بعد میجر جنرل افتخار نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور انہیں پہلے احکامات کے برخلاف احکامات دیئےکہ وہ میری پرواز کا رُخ نہ بدلیں اور اسے کراچی میں اترنے دیں۔ جواباً ان سے کہاگیاکہ وہ ڈائریکٹرسول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفتر رابطہ کریں۔ افتخار کو اس میں شرارت کی بُوآئی اور انہوں نے اپنے بریگیڈیئرجبار کو فوراً احکامات دیئے کہ وہ فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ پرجائیں اور ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ طارق فتح کو بھی حکم دیا کہ وہ فوراً کراچی ایئرپورٹ جائیں اور پی کے -805 کے باحفاظت اترنے کے لئے اگر انہیں طاقت بھی استعمال کرنی پڑے تو کریں، لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ طارق فتح نے کچھ نہ کیا۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)

جمعرات، 2 جنوری، 2014

ساڑھے تین گھنٹے لگے۔۔۔ جوابی وار۔ جنرل پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس (چوتھی قسط)

ساڑھے تین گھنٹے لگے۔۔۔
جوابی وار۔


جوابی وار، کیونکہ اس سے زیادہ مناسب اور کوئی لفظ ہونہیں سکتا۔۔۔۔۔شام پانچ بجےٹیلی ویژن پر میری برطرفی کی خبر نشر ہونے کے بعد شروع ہوا اور یہ اُسی شام ساڑھےآٹھ بجے، جب لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد پرائم منسٹر ہاؤس میں داخل ہوئے اور نوازشریف کوحراست میں لے لیا، ختم ہوگیا۔۔۔ اس میں ساڑھے تین گھنٹے لگے۔

 پانج بجے کے فوراً بعد راولپنڈی، جہاں جی ایچ کیو ہے، اسلام آباد (جو راولپنڈی سے 15 کلومیٹر دُور ہے) کراچی اور لاہور کے شہروں میں فوج حرکت میں آئی اور بعد میں نواب شاہ، جہاں کے لئےمیرے جہاز کا راستہ تبدیل کیا گیاتھا۔ اسلام آباد میں کاروائی سب سے زیادہ ڈرامائی اور کشیدہ تھی۔ حالانکہ کراچی میں بھی کافی سنسنی خیز واقعات ہوئے۔ جوابی وار کے افسران اور جوانوں کا کئی دفعہ وار کرنے والے مسلح افراد سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرسامناہوا۔ یہ صرف اللہ تعالٰی کی مہربانی اور اُن کی حاضردماغی تھی کہ خون خرابہ نہیں ہوا۔

شام پانج بجے دفاتر بند ہوچکے تھےاورفوج کے اعلٰی افسران یا تو گھروں کو جاچکے تھے یا شام کی کھیلوں میں مصروف تھے۔ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمدعزیز خان اور کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل محمود، دونوں چکلالہ کے آرمی کلب میں، جو فوج کے ہیڈکوارٹر ز سے تقریباً تین میل دور ہے، ٹینس کھیل رہے تھے۔ دو کمانڈنگ افسران کرنل شاہد علی اور لیفٹیننٹ  کرنل جاوید سلطان، جو راولپنڈی کور کے انتہائی مستعد 111 بریگیڈ میں تھے، اسی کلب میں اسکواش کھیل رہے تھے۔ اس خبر کے سنتے ہی  اُن دونوں نے اپنا کھیل چھوڑدیا اور بھاگ کرٹینس کورٹ میں آئے تاکہ جنرل عزیز اور جنرل محمود کو یہ خبر دیں، لیکن وہ دونوں پہلے سے ہی یہ خبر سن کر ہیڈکوارٹرزجاچکے تھے۔

 ان کے پڑوسی کی بیوی اپنےمکان کے گیٹ پر مٹھائی تقسیم کررہی تھیں۔ 


ڈائریکٹرجرنل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم او) میجرجنرل شاہد عزیزگھر پہنچ کر بستر پر بیٹھے اپنے جوتوں کے تسمے کھول رہے تھے، جیسے ہی اُنہیں یہ خبر پہنچی، انہوں نےتسمے دوبارہ باندھےلئے اور فوراً ہیڈکوارٹرز چلے گئےاور جاتے جاتے اپنی بیوی سے کہا کہ "معلوم نہیں میں کب۔۔۔۔۔یا شاید واپس بھی آؤں گا۔ انہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگلے چند گھنٹے تلوار کی دھار پرگزارے جائیں گے، جیسے ہی ان کی گاڑی باہر نکلی، انہیں یہ دیکھ کر بہت برا لگا کہ ان کے پڑوسی کی بیوی اپنےمکان کے گیٹ پر مٹھائی تقسیم کررہی تھیں۔  یہ پڑوسی لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین ہی تھے۔ ان کی بیوی اپنے شوہر کی فوج کے اعلٰی ترین عہدے پر غیرقانونی ترقی کی خوشی منا رہی تھیں۔ عزیز خان، محمود اور شاہد عزیز کے دماغوں میں نوازشریف کی چال کو ناکام بنانےکے سلسلے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ بس بہت ہوچکا ۔۔۔۔۔۔وہ جوابی وار میں پیش پیش ہوں گے۔

وزیر اعظم نوازشریف کا ہاتھ خالی تھا۔


ذرا اس ڈرامے کے سب کرداروں اور اُن کے مجھ سے تعلق پر نظر ڈالیے۔ میں ان کا چیف ہونے کے علاوہ ، دونوں کمانڈروں شاہد علی اور جاویدسلطان کے ساتھ اسکواش کھیلتا تھا۔ محمدعزیز کا تقررمیں نے کیا تھا۔ راولپنڈی کور کے کمانڈر محمود احمد میرے رجمنٹل کمانڈنگ آفیسر رہے تھے، جب میں 1986ء میں آرٹلری بریگیڈکا انچارج تھا۔ ڈی جی ایم او میجر جنرل شاہدعزیز سے میری رشتہ داری ہے۔ 111 بریگیڈ کے کمانڈنٹ بریگیڈ یئر صلاح الدین ستی، جب میں بریگیڈیئر تھا، تب میرے بریگیڈمیجر ہوتے تھے۔ دوسرے شہروں یعنی لاہور اور کراچی کے افسران بھی جو جوابی وار میں انتہائی اہم تھے، ان کاتقرربھی میں نے ہی کیا تھا۔ صرف انتہائی اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جرنل ضیاء الدین نوازشریف کے نزدیک تھے لیکن ان کی ماتحتی میں سپاہی نہیں تھے۔ وزیر اعظم نوازشریف کا ہاتھ خالی تھا۔

ڈی جی ایم او یعنی شاہد عزیز کا عہدہ ایسا ہے جس کے احکامات پر فوج حرکت کرتی ہے کیونکہ ان کا حکم چیف کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح جوابی وار کی چالیں ان کے دفتر سے کنٹرول ہوئی تھیں، اور جلد ہی اس کی حالت جنگی حکمت عملی بنانے والے کمرے کی طرح ہوگئی۔ پہلا فیصلہ 111 بریگیڈ کو، جو راولپنڈی میں ہوتا ہے، کاروائی شروع کرنے کا حکم دینے کا تھا۔ ان دو کمانڈنگ افسروں کے، جو اسکواش کھیل رہے تھے،  فرائض میں وزیراعظم اور صدرکی رہائش گاہوں کی حفاظت بھی شامل تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی اوّل الذکرگھر کے ذمہ دار تھے اور لیفٹیننٹ کرنل جاوید سلطان آخرالذکر کے لئے۔ لیفٹیننٹ جنرل محموداحمدنے انہیں حکم دیا کہ وہ دونوں رہاہش گاہوں کا محاصرہ کرلیں اور کسی کو اندر آنے دیں اور نہ ہی باہر جانے دیں۔ انہوں نے جاوید سلطان کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ ٹیلی ویژن اور ریڈیواسٹیشنوں کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ یہ احکامات بھی صادر کردیئے گئے کہ جی ایچ کیو اور آرمی ہاؤس میں ، جو میری رہائش گاہ ہے، ضیاء الدین کو داخل نہ ہونے دیا جائے۔ میرے ضعیف والدین وہاں رہ رہے تھے اور کچھ بعید نہیں تھا کہ ضیاءالدین یا ان کے سٹاف میں سے کوئی وہاں پر جاکر انہیں غیرضروری طور پر پریشان کرتا۔

شاہد عزیز نے ہمارے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں سے تین کے کور ہیڈکوارٹرز کو ٹیلی فون کرنے شروع کئے۔ کراچی ، لاہور اور پشاور۔۔۔۔۔۔تاکہ وہا ں کی صورت حال معلوم ہوسکے۔ کوئٹہ کے کورکمانڈر طارق پرویز(TP) سے بات کرنا بے کار تھا، کیونکہ اس کی وفاداریاں کہیں اور تھیں، لیکن شاہد عزیز نے ان کے نائب کو ضرور ٹیلی فون کیا اور وہاں سے بتایا گیاکہ صورت حال ٹھیک ہے۔

لاہور، جو دارلحکومت سے تقریباً 270 میل دورہے، 4 کور (4 Corps) کا مسکن ہے۔یہ ایک اہم اور حساس شہر ہے، کیونکہ یہ پنجاب کا دارالحکومت ہے اور بھارت سرحد سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع اور بھارتی توپوں کے گولوں کی زد میں ہے۔ لاہور کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالدمقبول لاہور سے تقریباً 40 میل دور گوجرانوالہ میں تھے۔ان کی غیر موجودگی میں لاہورکے اعلٰی ترین آفیسر جنرل طارق مجید تھے۔ وہ اپنی لائبریری میں بیٹھے تھے کہ ان کی بیوی نے انہیں آواز دی کہ ٹیلی ویژن روم میں آئیں اور میری برطرفی کی خبر سنیں۔ انتہائی غصے میں انہوں نے ہیڈکوارٹر کو ٹیلی فون کیا اور شاہد عزیز سے احکامات مانگے۔ شاہد نے ان سے کہا کہ وہ پنجاب کے گورنر کو حراست میں لے لیں اور وزیر اعظم کے دونوں رہائشی مکانات، ٹیلی ویژن، ریڈیواسٹیشن، اور ہوائی اڈے کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ شہر میں داخلے اور خروج کے تمام راستوں کو محفوظ کرلیں۔ طارق مجید نے داخلی سیکورٹی بریگیڈ کے بریگیڈیئرکو بلایا اور اس کو احکامات جاری کردیئے۔

نوازشریف اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کرسکتے تھے۔


ساڑھے پانچ بحے تک لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی اور جاوید سلطان اسلام آباد کے راستے میں تھے۔ ان کو احکامات دیئے گئے تھے کہ وزیر اعظم اور ان کے چندخاص وزیروں اور ساتھیوں کو حراست میں لے لیں۔ جب وہ شاہراہ دستور پر، جوایک دو رویہ اور چوڑی سڑک ہے اور پرائم منسٹر ہاؤس اور ٹی وی اسٹیشن کی طرف جاتی ہے، پہنچے تو انہیں وہاں مسلح پولیس بڑی تعداد میں نظر آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ مجمع کا سامنا کرنے کے لئے وہاں پر ہیں۔ وہاں بکتر بند پرسنل کیریئر اور تین ٹرٹ کارجن کی چھتیں کھولی جاسکتی ہیں، کھڑی تھیں اور ان کے عملے کے سر چھتوں سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ غیردوستانہ اور انجانی گاڑیوں کو آہستہ کرنے اور حسّاس  عمارتوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سڑک  پر سیمنٹ کے بلاک اور آہنی رُکاوٹیں رکھ دی گئی تھیں۔ طاقت کا یہ مظاہرہ کافی ڈرا دینے والا تھاجو عموماً کسی کو بھی واپس جانے پر آمادہ کردے گا یا کم از کم اسے سوچنے پر مجبور کردے گا۔ نوازشریف اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ فوج کے دستے ان کے زیر حکم تو تھے نہیں۔ جب پولیس نے اُنہیں روکنے کی کوشش نہیں کی اور وہ ان کے راستے سے ہٹ گئے تو شاہد علی اور جاوید سلطان کو کافی حیرت ہوئی۔ پولیس نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ ان کمانڈنگ افسروں اور اُن کے سپاہیوں کو پکڑبھی لیتے ، تب بھی وہ بعد میں آنے والی کہیں زیادہ طاقتورفوج کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ شاید وہ بھی نوازشریف کے طرزِحکمرانی سے نالاں تھے۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)