‏طنزومزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏طنزومزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 مئی، 2010

دھکے بہت ضروری ہیں - مستنصر حسین تارڑ کی تصنیف چِک چُک سے اقتباس

اُس زمانےکاکابل ایک پرسکون شہرتھاسازشیں ان دنوں بھی ہوتی ہوں گی لیکن عام گلیوں اور بازاروں میں دُور کہیں محلات میں اور بیرکوں میں۔۔۔۔کرفیو غیر ملکی فوجیں اور دھماکے ابھی شروع نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔۔مَیں انگلستان سے واپس آرہا تھااور کابل میں تھاایک صبح میں پشاور جانے کے لیے کوئی بس تلاش کررہا تھا کہ میرے کندھے پر ایک زوردار دھپ رسید ہوئی اور پھر ایک قہقہہ سنائی دیا۔۔۔۔ اوئےیہاں کیا کررہے ہو؟ یہ میرا دوست ناصر تھاوہ بھی یورپ سے واپس آرہا تھاخیرخیریت دریافت کرنے اور مناسب قسم کی لاہوری گالی گلوچ کے بعد میں نے اسے بتایاکہ میں پاکستان کےلیے اتنا اداس ہوں کہ فوراپشاور پہنچنا چاہتا ہوں۔

نو پرابلم؛ وہ کہنے لگاآج ایک بجے جمیل ہوٹل کے سامنے سے پاکستانی سیّاحوں کی ایک بس پشاور جارہی ہے میں بھی اسی میں جارہاہوں تم بھی چلے جانا جگہ بہت ہے۔ اور واقعی جگہ بہت تھی میں کئی ماہ کی سیاحت کے بعدوطن لوٹ رہا تھا اور میرا جی چاہتا تھا کہ اس کوچ میں جیٹ انجن لگ جائے اور ہم یکدم سے لاہور پہنچ جائیں۔۔۔۔۔۔ناصر یورپ سے بیزار لوٹ رہا تھا اوئے دفع کر ان چٹے باندروں کو۔۔۔۔۔کوئی ملک ہےتوبہ توبہ نہ کھانے کو نہ پینے کو۔۔۔۔۔میں لاہور پہنچتے ہی نفل ادا کروں گا کہ یااللہ تیرا شکر ہے تو مجھے واپس اپنے وطن میں اپنے گھر میں خیرخیریت سے لے آیا ۔۔۔۔۔دفع کریورپ کو۔ اور میں بھی اسی قسم کی گفتگوکررہا تھا ہاں گھومنے پھرنے کے لیے تو ٹھیک ہے لیکن یار وہاں آزادی نہیں ہے پتہ ہے کس قسم کی آزادی۔۔۔۔۔۔مثلا بلند آواز میں قہقہہ لگاؤتو سب تمہیں گھوررہے ہیں یونہی کسی فٹ پاتھ پر بے مقصد کھڑے ہوجاؤتو پولیس والا آجاتا ہے۔۔۔۔اور پھر ہر وقت ““پاکی بیشنگ“ کا خطرہ رہتا ہے۔

یار عجیب بات ہے ناصر کہہ رہا تھاپہلے پہل میرا خیال تھاکہ میں صرف اپنے بال بچوں اور گھر والوں سے اداس رہتا ہوں اور پھر پتہ چلا کہ نہیں۔۔۔۔۔میں اپنے وطن سے اداس ہوں یقین جانو ایک جگہ سوئیٹزرلینڈ میں جھیل کے کنارے تمام ملکوں کے جھنڈے نصب تھے۔۔۔۔۔میں نے پاکستانی پرچم کے ڈنڈے کے ساتھ لگ کرجو رونا شروع کیا ہے تو ایک میم نے آکر چپ کرایا، شائد اسی لیے تم رو رہے تھے کہ کوئی میم آئے اور چپ کرائے، میں نے ہنس کرکہا۔ طورخم کے باڈر سے جب ہم پاکستان میں داخل ہوئےتو ناصر باقاعدہ زمین کوچومنے لگا اور ہم ایک دوسرے سے بغل گیرہوکر وہاں ناچنے لگےکہ اوئےپاغلا پاکستان آگیا اوئے پاکستان آگیا۔

پشاور پہنچے تو کوچ میں سوار مسافروں نے فیصلہ کیا کہ رات یہیں بسر کی جائے اور اگلی صبح لاہور جایا جائےپہلے تو ہم نے بھی اتفاق کرلیالیکن یکدم ناصر مجھے جھنجوڑ کرکہنے لگا “اوئے پاغلا“ یہاں بیٹھ کر کیا کرنا ہےاوئے لاہور چل لاہور۔ چنانچہ ہم اپنا سامان اٹھا کر پشاورریلوے اڈہ پر پہنچے اور خیبرمیل میں سوار ہوگئے اگلی صبح میں اپنی نشت پر اکڑوں بیٹھانیند سے جُھول رہا تھاکہ ناصر نے جگا دیااوئے پاغلا لاہور آگیا وہ دیکھ مقبرہ جہانگیر۔۔۔۔
آہو مقبرہ جہانگیر۔۔۔۔میں نےایک بچے کی طرح چلّا کرکہا۔
اوئے بارہ دری دریا دریائے راوی دیکھ دیکھ مستنصر دریائے راوی آگیا ہےوہ باقاعدہ شورکرہا تھا۔
ہاں ہاں راوی ۔۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے راوی،،
اوئے مینارِپاکستان ۔۔۔۔۔۔ دیکھ تو سہی اپنا مینارِپاکستان۔ ناصر اُچھل اُچھل کرباہردیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔کیا بات ہے اوئے دیکھ شیرنوالہ دروازہ، سرکلرسڑک ریوالی سینما۔

ہم شور مچارہے تھےکہ گاڑی پلیٹ فارم میں داخل ہوگئی۔ اسی دوران کسی مسافر نے دوسرے مسافر سے کہا کہ ان دونوں نے سرکھا رکھا ہے تبھی تو لاہور کو دیکھ کر دیوانے ہورہے ہیں “پاگل خانے“ ہم اڈے سے باہر نکلے تو اور زیادہ پاگل خانے ہوگئے۔۔۔۔۔ہم اڈے کےقلیوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھےکہ یہ لاہور کے ہیں پاکستان کے ہیں اور باہر کھڑے تانگوں اور ان کے گھوڑوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔۔۔۔۔۔اوئے پاغلا اپنا وطن اپنا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔اب ہے کسی کی جرات کہ ہمیں آکر کچھ کہے جو مرضی آئے وہ کرو بیشک دھمالیں ڈالواور بڑھکیں لگاؤ۔۔۔۔۔ہابکری۔

ہم نے رکشہ کی بجائے تانگہ کرائے پر لیا اور اس پر سوار ہوگئے اب بھی ہم ہر شے کو حیرت سے دیکھ رہے تھےاور پاگلوں کی طرح شور مچارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ہال سڑک اور میکلوڈ سڑک کے چوک میں ٹریفک بند تھی کوئی بہت بڑا جلوس تھاہمارا تانگہ بھی رک گیاجلوس کے شرکاء جو نعرے لگا رہے تھے وہ ناصر نے سنے توبھڑک اٹھا “اوئے یہ سارے پاگل خانے ہیں ہم نہیں“ ان کو قدر ہی نہیں وطن کی آزادی کی۔۔۔۔۔اوئے ان کو کوئی سمجھائے کہ یہ بڑی نعمت ہے اپنا گھر اپنا وطن،،۔

اس بات کو کئی سال ہوگئے ہیں ۔۔۔۔۔ چند روز پیشتر ناصرسے پھر ملاقات ہوئی کہنے لگایار کہیں چلنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہاں؟ کہنے لگا کہ کہیں بھی پاکستان سے باہر۔۔۔۔۔لیکن وجہ؟۔۔۔۔۔سنو اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا گھر کی قدروقیمت گھر سے باہر جاکر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔اردگردماحول ایسابن رہا ہے کہ میں بھی کچھ کچھ متاثر ہورہا ہوں کہ ہم وطن سے باہر جائیں اور دھکّے کھا کرواپس آئیں پھر ہمیں پتہ چلے کہ آزادی کیا چیز ہے اور وطن کیا شے ہے؟ کیا وطن اور آزادی کی قدرقیمت جاننے کے لیے دھکّے کھانا ضروری ہیں؟،،

ہاں وہ سر ہلا کربولا اگر آپ عقلمند ہوں تو دھکّوں کے بغیر بھی سمجھ جاتے ہیں ورنہ دھکّے بہت ضروری ہیں۔

(دھکّے بہت ضروری ہیں - مستنصر حسین تارڑ کی تصنیف چِک چُک سے اقتباس)

منگل، 21 اپریل، 2009

تلاش گمشدہ کتّے

تلاش گمشدہ کتّے
”فرقان بھائی۔۔۔۔۔“
”ہاں یرقان بھائی۔۔۔۔“
”تمھاری ناک کیسی ہے؟“
”کیا مطلب میری ناک کیسی ہے۔۔۔۔۔۔اُونچی ناک ہے بھائی“
”تو کیا یہ سُونگھ سکتی ہے“
”تو پھر مجھے سُونگھ کر بتاؤ تمہارے آس پاس کوئی السیشن بھگیاڑی نسل کے کتّے ہیں؟“
”سُونگھنا تو کتّوں کا کام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔“
”نہیں اب یہ کام انسان کریں گے“۔۔۔۔۔اور ہاں یہ کتّے اوپر سے کالے اور نیچے سے براؤن ہیں خدا کے واسطے فرقان بھائی میری مدد کریں اور ناک کو کام میں لا کر بتائیں کہ ایسے کتّے اس وقت کہاں ہونے چاہییں۔۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ ان کتّوں کے منہ لمبوترے سے ہیں۔۔۔۔“
”کیا یہ تمھارے کتّے ہیں؟“
”ہاں یہ ہم سب کے کتّے ہیں اور میرے بھی تو ہیں“۔
”اولڈبوائے تمھارادماغ چل گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہُوا کوئی پاکستانی فلم دیکھ لی یا ٹیلیویژن کاکوئی ڈرامہ نظر کے سامنےآگیا کہ یُوں بولائے پھرتے ہواور ”کتّا کتّا“ پکار رہے ہو“
”میرادماغ بالکل ٹھیک ہے فرقان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس مجھےدوکتّے درکار ہیں جوالسیشن بھگیاڑی نسل کے ہوں اُوپر سے کالےنِیچےسےبراؤن لمبوترےمُنہ والے اور آواز گرجدار، بھونکتےاور روتے ہیں اور کاٹتے ہیں“
”اوہویہ توبہت خطرناک کتّےہیں“
”نہیں یہ تو بہت قیمتی کتّے ہُوئے فرقان بھائی۔۔۔۔۔اور ہاں ان کی ایک اور نشانی بھی ہے۔۔۔۔وہ یہ کہ ایک کی زبان پر کالا نشان ہے“۔
”اگر وہ گرجدار بھونکنےاور کاٹنے والے ہیں تو ذرا یہ فرمائیے کہ ان کا منہ کھول کران کی زبان کون دیکھےگااور بتائے گا اس پرایک کالا نشان بھی ہے“۔
”بہرحال بچے بہت اداس ہیں“۔
”کِس کے بچے۔۔۔۔۔تمھاری تو شاید شادی بھی نہیں ہُوئی توبچّےکیسےاُداس ہوگئے یرقان بھائی“
”اوہوآپ سمجھتے نہیں ہیں میرے بچّے نہیں ان کے بچّے اداس ہیں جن کے کُتّےگرجدار بھونکتے ہیں اور کاٹتے ہیں۔۔۔“
”یرقان یاتو مجھے پُوری بات بتاؤورنہ مَیں چلا۔۔۔۔۔“
”سنوفرقان بھائی۔۔۔۔۔مَیں آج صبح دفتر نہیں گیابلکہ شہر بھرگھومتا رہا ہُوں اور لوگوں کےگھروں میں جھانک رہا ہوں دکانوں کے تھڑوں کے نِیچے دیکھتا رہا ہُوں کہ شاید مجھے وہ کُتّےمِل جائیں جن کا ”کتّےتلاش گمشدہ پانچ ہزار روپے کاانعام“ کےعنوان سےاشتہارشائع ہُوا ہےاور مجھےانعام کے پانچ ہزارمِل جائیں۔ اور فرقان بھائی پانچ ہزار روپے میں بتائیےکیا کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ہم خوب گوشت کھاسکتے ہیں بچّوں کےکپڑے بن سکتے ہیں میری سائیکل کےدونون ٹائر نئےآسکتے ہیں کھڑکی کے ٹوٹے ہُوئے شیشوں کی جگہ نئےلگ سکتے ہیں اور ہاں میرے شوز بھی ٹوٹ رہے ہیں پانچ ہزار میں بہت کچھ ہوسکتا ہے تم کہیں سے مجھے وہ کُتّے تلاش کردو۔۔۔۔“
”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو یرقان۔۔۔۔۔ان دنوں تو ہم مڈل کلاس کے لوگ جِس قسم کی نوکریاں کرتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ انسان کتّے تلاش کرے۔۔۔۔۔ایک ماہ میں دو نہ سہی ایک کُتّابھی اگر تلاش کرلیا جائے تو ڈھائی ہزار ہوجائے۔۔۔۔۔۔“
”اور جب گمشدہ کتّے تلاش کرنے کی پریکٹس ہوجائے تو پھر انسان گمشدہ بچّے تلاش کرنے لگے انھیں تلاش کرنے پر بھی تو انعام ملتا ہے اخباروں میں اشتہار آتے ہیں کہ یہ حلیہ ہے پاؤں میں چپل اور گھر سے سودا لینے کے لیے نکلا اور آیا نہیں ماں پریشان اور بیمار ہے۔۔۔۔۔۔“
”نہیں نہیں گمشدہ بچّےتلاش کرنا زیادہ منافع بخش کاروبار نہیں ہے اگر ہوتا تو بیگار کیمپوں کاوجود نہ ہوتاگمشدہ بچّوں کوگم رکھنا اور کتّوں کو تلاش کرنا منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔۔“
”دیکھونافرقان بھائی ساری بات پیار اور محبّت کی ہے۔۔۔۔۔کِسی کے کتّے گم ہوجائیں تو وہ انہیں تلاش کرنے کے لیے پانچ ہزار کا انعام رکھ دیتا ہے اور بہت اچھی بات ہے لیکن جب کبھی ہمارے بچّے گم ہوجاتے ہیں تو ہم صرف یہ اشتہار دیتے ہیں کہ ماں باپ پریشان ہیں اس لیے بچہ تلاش کردیں۔۔۔۔۔۔انعام کوئی نہیں ہوتے“۔
”کبھی تم نے سوچاکہ ان کے پاس انعام دینے کے لیے کچھ ہوتا نہیں۔۔۔۔۔فرض کرو ہم میں کسی کا بچہ گم ہوجائے تو وہ انعام کہاں سے دے گا۔“
”ہاں کتّا تو گم ہونا افورڈ کرسکتا ہے لیکن بچّہ نہیں۔۔۔۔“
”بات کہیں اور نکل گئی۔۔۔۔۔۔بہرحال مَیں تو آج صبح سے کتّےتلاش کرنے کے لِیے گھر سے نکلا ہُوا ہُوں۔۔۔۔۔فرقان میرے ذہن میں ایک شاندار اسکیم آئی ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک بھونکنا شروع کردے اور ہم میں سے کوئی ایک اسے بطور کُتّا پیش کرکے انعام حاصِل کرے اور بعد مین بانٹ لے تو کیسا رہے۔۔۔۔۔“
”نہیں نہیں انہیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ یہ کتّا نہیں انسان ہے انسان تلاش کرنے پر تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔۔۔۔۔“

”بھوں۔۔۔۔بھوں۔۔۔۔وف وف۔۔۔۔۔بھوں بھوں۔“

”ارے یرقان بھائی یہ تمہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔۔ہوش کرو تم انسان ہو کر بھونک رہے ہو۔۔۔ لوگو۔۔۔ دوڑو۔۔۔ اپنے یرقان بھائی۔۔۔۔۔گئے۔۔۔۔۔۔پاگل خانے گئے۔۔۔۔گئے!“

(مُستنصرحُسین تارڑ کے کالم مجموعے چِک چُک سے انتخاب)