‏یوٹیوب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏یوٹیوب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 20 اگست، 2012

پاکستان کا ویلاگر اور یوٹیوب مونیٹائزیشن


Adsense کیا ہےاور اس سے کیسے پیسے بناتے ہیں یہ تو تقریباً ہر پاکستان کابلاگر اور خاص طورپر انگلش بلاگر واقف ہوگا۔ یہ پاکستان کے بلاگرز کا انتہائی پسندیدہ موضوع ہے۔ میں بہت عرصہ سے چاہتا تھا اس پر لکھوں خاص طور پر اس وقت جب میں دیکھ رہا تھا اکثریت اس کو پیسے بنانے کا آسان ذریعہ سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے، لیکن نہ لکھ سکا۔ آج بھی میرا موضوع بلاگنگ اور اس کے ذریعے پیسہ بنانا نہیں ہے اور نہ ہی میرا موضوع VLOG اور YouTube Partner Program ہے۔ YouTube اور اس کے ذریعے VLOG تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے اور یوٹیوب پارٹنر پروگرام بھی مجھے یقین ہےآپ کو معلوم ہوگا کیا چیز ہے، اور کیسے کام کرتا ہے۔ اگر نہیں معلوم تو گوگل اور یوٹیوب پر اس
بارے میں بے شمار تعارفی اور ترکیبی تحاریراورویڈیوزموجود ہیں جس سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔



مجھے ویلاگنگ پر لکھنے کی ترغیب ابیر ایچ خان کے ویلاگ نے دی۔ میں نے اب تک یوٹیوب پر ایسے پاکستان کے ویلاگر دیکھے ہیں جن کا معیار کسی بھی لحاظ سے ایک بہترین ویلاگر کی تعریف پر پورا اترتا ہے جیسے TheLivingPicture اور nakedtyrant وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابیر ایچ خان کا ویلاگ دیکھ کر مجھے ایسے لگا کہ ابیر ایچ خان کا حال بھی وہی ہے جو پاکستان کے اردو اور انگریزی دونوں بلاگرز کے ساتھ ہورہا ہے۔ اور جب ابیر ایچ خان کے ویلاگ کے تبصروں میں پڑھا کہ ہر بندہ اُس سے یوٹیوب مونیٹائز کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو مجھے اندازہ ہوا کہ بہت جلد پاکستان ویلاگرز کی ایک بڑی
تعداد یوٹیوب پر ویلاگ کے ذریعے پیسہ بنانے کے پیچھےلگ جائےگی۔

لیکن ایک بات یہاں۔۔۔۔۔واضح ہو!! کہ ابیر ایچ خان اپنی صلاحیت کے مطابق اچھا کام کررہا ہے اور ایک کامیاب ویلاگر بن سکتا ہے۔ تقریباً تین سالوں میں 30 لاکھ ویوز اور 6 ہزار سے زیادہ سبزکرائبرزحاصل کرنا بھی ایک کامیابی ہے۔ لیکن میری سمجھ کے مطابق جو چیز ابیر ایچ خان اور ان جیسے بہت سارے پاکستان کے بلاگرز اور ویلاگرز کوکامیابی کی اگلی سیڑی پر قدم رکھنے سے روک رہی ہے اس کی کچھ وجوعات ہیں جو کہ میری اس تحریر کا اصل موضوع ہے۔ میں ان وجوہات پرمثبت تنقید اور سیکھنے سکھانےکے ارادے سے روشنی ڈالوں گا۔

جب آپ ابیرایچ خان کے ویلاگ پر جائیں گے تو پہلا تاثرجو ان کے ویلاگ دیکھنے سے ملتا ہے وہ غیرمعیاری ''بول چال'' انگریزی ہے جس کا مطلب ہے ابیر ایچ خان انگریزی تو سمجھتے ہیں، لکھ بھی سکتے ہیں اور پڑھ بھی سکتے ہیں لیکن بول چال والی انگریزی پر ان کی گرفت کافی کمزورہے۔ جو ان کی ویلاگ کا سب سے بڑامنفی پہلو ہے اور ان ویلاگ ویڈیوز کو بھی غیرمعیاری کردیتا ہے جو مواد کے لحاظ سے اچھے ویلاگ تھے۔



دوسرا ان کے رنڈوم ویلاگ کے سلسلے والے ویڈیوز اگر دیکھیں تو ان میں مواد پر محنت نظر نہیں آتی، اور ایک سطحی انداز میں ویلاگ سے جان چھڑانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جس کی مثال ''شاہد آفریدی بمقابلہ محمدحفیظ'' یا ''عاطف اسلم بمقابلہ علی ظفر'' والے ویلاگ ہیں جن میں مواد یعنی سکرپٹ پر محنت سے جی چرانا واضح نظر آرہا ہے۔ ان دونوں ویلاگ ویڈیوز کا صرف ایک ہی مقصد تھا ویلاگ ویڈیو بنانا۔

تیسری بات ابیرایچ خان کی تقریباً تمام ویلاگ ویڈیوز میں تخلیق کا فقدان نظر آرہا ہے۔ ان کے تمام موضوع دوسروں کی دیکھا دیکھی ہیں یا اپنی تخلیقی کام کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے یوٹیوب پر انتہائی مقبول ویلاگرز کی آمدنی کا حساب کتاب لگانے والے ویلاگ ویڈیوز سے کررہے ہیں جو بذات خود تو بری چیز نہیں ہے لیکن اگر اس کا مقصد سبزکرائبرز اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنا ہو تو وہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر بھروسہ نہ کرنے کے مترادف ہے۔ایک چائنیزکعاوت ہے ''اپنے دشمن کو سمجھ لو، اپنے آپ کو سمجھ لو، آپ جنگ نہیں ہار سکتے''۔ اور ہمارے ہاں کہاں جاتا ہے ''کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا''۔ یہاں بھی کچھ ایساہی معاملہ ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر، محنت اور لگن سے جی چراتے ہوئےاگر ہم دوسروں کی نقل اور وہ بھی انتہائی غیرمعیاری بھونڈی نقل کریں گے توکسی بھی بلاگ، ویلاگ، یا پوڈکاسٹ کے قارئین، ناظرین اور سامعین پہلی استعمال میں اسےمحسوس کرلیں گے۔

تنقید کافی ہوگئی، اب سوال پیداہوتا ہے کرناکیاچاہیئے۔

یہ بات تو کسی شک و شبے سے بالاتر ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت شخص اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے ہزاروں لاکھوں ڈالرز کما سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور انٹرنیٹ پر راتوں رات امیر بننے والے سبز باغ والی تراکیب کی طرح یوٹیوب چینل کے ذریعے ویلاگنگ اور اس سے پیسے کمانا بھی ایک دھوکہ ہے، تویہ غلط ہے ایسا نہیں ہے۔ بلاشبہ آپ اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے پیسہ کما سکتے ہیں۔ اپنے یوٹیوب چینل/ویلاگ کو مونیٹائز کرنا چاہیئے یا نہیں؟ اگر کرنا چاہیئے تو کس لائحہ عمل کے ذریعے کرنا چاہیئے یہ ایک دوسری بحث ہے۔

لیکن۔۔۔۔۔!! اگر!!

کوئی اس نیت کے ساتھ یوٹیوب پر ویلاگنگ شروع کرتا ہے کہ وہ اس سےگھر کے بیڈروم میں کمپوٹرکے سامنے نرم وگداز کرسی پر بیٹھ کر ہزاروں لاکھوں ڈالرز کمائے گا تو اس کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اپنا وقت ہی ضائع کررہا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے۔ آپ کوکام کرنا پڑے گا، آپ کو کامیابی کی ضمانت کے بغیراپنا بہت ساراقیمتی وقت دینا ہوگا، آپ کو سیکھنا ہوگا، آپ کو ذہنی و جسمانی محنت کرنی ہوگی اور سب سے اہم اور یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ کو پیسہ کمانے کے لئے ویلاگنگ کی سوچ سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔

بولنے کا فن اور زبان پر گرفت:

ویلاگنگ کے لئے پہلی ضرورت تو بولنے کا فن ہے اور اس کے علاوہ ویلاگرجس زبان میں بول رہا ہے اس پر مکمل گرفت لازمی ہے۔ مکمل گرفت سے مراد چہرے کے تاثرات زبان سے نکلنے والے الفاظ کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آنے چاہیئے۔ مثال کے طور پر ابیر ایچ خان کا ویلاگ دیکھیں تو ان کے چہرے کے تاثرات اور بولنے کا اندازہی بیان کررہا ہے کہ اُنہیں بول چال میں انگریزی زبان پر گرفت حاصل نہیں ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ میں لہجے کی بات نہیں کررہا۔ کسی بھی زبان میں بولنے والے کالہجہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن جب غلط intonation اور چہرے کےغلط تاثرات کے ساتھ بول چال ہوگی تو ویلاگ میں جس مواد پر بات ہورہی ہے وہ اپنا اثر کھودیتا ہےاور ناظرین کو کوفت ہونے لگتی ہے۔ دوسری طرف آپ ThLivingPicture کے عثمان خالد بٹ کا ویلاگ دیکھیں تواس میں آواز اور الفاظ دونوں اس کے چہرے کے تاثرات کا ساتھ دے رہے ہیں جو ان کی انگریزی بول چال پرمکمل گرفت کا ثبوت ہے۔ جس سے ناظرین اس کے مواد کودیکھ اور سن کرفیصلہ کرتے ہیں کہ ویلاگ اچھا ہے یا برا ہے۔ ناکہ اس کے غلط تلفظ اورچہرےکےغلط تاثرات سے۔



ویلاگ کے مواد پر محنت کا فقدان:

ایکتا کپور نےاس حقیقت میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں چھوڑی کہ بہترین کاریگری کے ساتھ اگر محنت اور لگن  چاہے آپ انتہائی واہیات اور بےمقصد مواد پر بھی کریں گے تو آپ کوناظرین ملنے میں قطحاً دشواری نہیں ہوگی۔ لیکن دوسری طرف آپ کا مواد انوکھی سوچ کے ساتھ انتہائی بامقصد بھی ہو لیکن اس پر محنت نہیں کی گئی ہے، اوراسےاناڑی پنے سے بنایا گیا ہے توآپ کے ناظرین نہ چاہتے ہوئے بھی دوسری طرف نکل جائیں گے۔

نیاپن اور تخلیق کا فقدان:

ایک بہترین ویلاگ، بلاگ، یا پوڈکاسٹ کے لئے آپ کے پاس ان تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔۔۔۔

فنکاری و کاریگری مہارت
تکنیکی مہارت
محنت اور لگن

لیکن!! یہ تین چیزیں اگر آپ کے پاس ہیں بھی توآپ کوایسا مواد چاہیئے جو آپ کے ناظرین کو پانچ، دس منٹ یا جتنا طویل آپ کا ویلاگ ہے کو مجبور کرسکے کہ وہ آپ کا ویلاگ دیکھیں۔ اس کے لئے آپ کو تخلیقی صلاحیت کی ضرورت پڑے گی۔ فنکاری، کاریگری اور تکنیکی مہارت تجربے اور سیکھنے سے آدمی سیکھ سکتا ہے لیکن تخلیق سیکھنے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب ایسا ہرگزنہیں ہے کہ تخلیق کسی کی میراث ہے۔ تخلیق کا دوسرا نام ہے آپ!! لیکن یہاں دوبارہ وہی بات آجاتی ہے کہ اگر آپ صرف پیسہ کمانے کے لئے ویلاگنگ کررہے ہیں تو پھر آپ دوسروں کی طرف دیکھیں گے جس کا مطلب ہوگا تخلیق (آپ) کی موت۔ بےشک آپ کسی سوچ یا تصور سے متاثر ہوسکتے ہیں لیکن اگراس تصور کو پیش کرنے میں ''آپ'' نہیں ہیں تو اس میں دوسرے نظرآئیں گے اور دوسروں کو دیکھنے کے لئے ناظرین آپ کے پاس کیوں آئیں؟

ہفتہ، 3 اپریل، 2010

یوٹیوب اور پاکستان

میں نے پہلی دفعہ اپنے گھر میں انٹرنیٹ کا استعمال سال ١٩٩٨ میں کیا تھا، اس سے پہلے رسالوں کتابوں میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی دھوم سن سن کر دل انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے لیے للچاجاتا۔ اس دھوم دھڑکے میں یاہوچاٹ کا نام سرفہرست تھا، میں ہمیشہ سوچتا یاہوچاٹ کیا چیز ہوگی ؟ اس وقت کیسا محسوس ہوگا جب آپ ہزاروں میل دور بیٹھے انجانے اور اندیکھےلوگوں(ہاں بالکل لڑکیوں سمیت) سے IDD کےمہنگے دام دیئے بغیرمفت میں مزے لے لے کر گپ شپ کرتے ہوں گے۔۔۔مممم گپ شپ۔

جب پہلی دفعہ کمپیوٹر ہاتھ لگا اور گھر پر ڈائل اپ کنیکشن کے ذریعے انٹرنیٹ پر پہلا قدم رکھا اور ساتھ ہی یاہوچاٹ کی طرف دوڑ لگائی ابتدائی تجربہ اتنا برا نہیں تھا۔۔۔ایک پاکستانی چاٹ روم میں مشکل سے جگہ ملی اور یاد نہیں کس موضوع پر گپ شپ ہونے لگی لیکن اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سکرین پر ہندستانیوں اور پاکستانیوں کی جنگ شروع ہوگئی، اس روم سے کھمبا بچا کے پتلی گلی سے بھاگا، اورایک دوسرے چاٹ روم میں گھس گیا۔۔۔وہاں ٹائپنگ کے ساتھ مائیکروفون سے بات چیت بھی ہورہی تھی تو میں نے سوچا واہ کیا بات ہے ہم بھی کیوں پیچھیں رہے اور اپنا مائیکروفون آن کردیا۔۔۔ارے یہ کیا ۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔نہیں نہیں ایسا نہیں کرو۔۔۔اوہ یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔اس چاٹ روم میں دو پاکستانی بھائیوں کے درمیان جنگ ہورہی تھی اور ایک دوسرے کو پنجابی میں ایسی ایسی گالیاں دے رہے کہ خدا کی پناہ۔۔۔ایسی واہیت سے اللہ ہر انسان کو بچائے۔۔۔وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ١٢ سال ہوگئے میں پھر کبھی بھی یاہوچاٹ روم کی طرف نہیں گیا۔ یاہوچاٹ روم ایک مثبت چیز تھی لیکن ہم نے اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے غلط استعمال کیا۔

آج کل یوٹیوب زبان زدعام ہے ہر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کا اگر یوٹیوب پر چینل نہیں ہے تو کم از کم یوٹیوب ویڈیوز ضرور دیکھتا ہے اور اپنے دوستوں سے شیئر بھی کرتا ہے۔ پچھلے کہی ماہ سے میں جب بھی یوٹیوب جاتا ہوں اور وہاں جانے کا مقصدگیت سنگیت، پاکستان وغیرہ وغیرہ کی ویڈیوز ہوتا ہے۔۔۔یا کہیں کسی اور موضوع پر ویڈیو دیکھتے دیکھتے پاکستانی و انڈین ویڈیوز کی طرف نکل جاتا ہوں، کیا دیکھتا ہوں کہ یا پاک ہند جنگ چل رہی ہوگی، یا اسلامی جنگ چل رہی ہوگی اور تکلیف کی بات ہے تقریباََ ہر پاکستانی یا اسلامی ویڈیو میں آپ کو یہ سب کچھ ملےگا۔ آپ یوٹیوب جاتے ہیں طبیت اور ذبن کو ہلکا اور فریش کرنے کے لیے لیکن جب آپ وہاں سے نکلیں گے تو ذہن پر بوجھ سا بنا ہوتا ہے یہ سوچ سوچ کر کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے۔

یوٹیوب کیا ہے؟ یوٹیوب کیوں اتنا مشہور و معروف ہوا؟ باقی اقوام یوٹیوب سے کیا فوائد لے رہی ہیں؟