‏ٹی وی اور فلم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ٹی وی اور فلم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اپریل، 2010

ویلڈن ابا از شیام بینگل

ہندوستان میں جب بھی سماجی مسائل اور معاشرے کی دکھتی رگ پر فلم بنتی ہے اسےبالی ووڈ(بالی ووڈ کا مطلب ہالی ووڈ چربہ) آرٹ کے زمرے میں ڈال کرپہلے ہی عوام کو خبردار کرلیا جاتا ہے کہ یہ فلم صرف خاص کے لیے ہے اس لیے اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ان آرٹ فلموں کو انعامی تقاریب وغیرہ میں جان بوجھ کر پذیرائی نہیں دی جاتی، ہاں جان چھڑانے کے سے انداز میں نام نہاد بہترین تجزیہ نگاروں کا انعام دے دیا جاتا ہے۔ اور افسوس کی بات ہے کہ پھر الزام بھی ناظرین کے سر تھومپ دیا جاتاہے کہ ناظرین ایسی فلوں کی پذیرائی نہیں کرتے۔ بالی ووڈ صنعت کے بڑے کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ فلم بین ان کی جھوٹی من گڑت اور خیالی پلاؤ قسم کی نام نہاد سینما کے سحر سے نکلیں کیونکہ ایک بار عام فلم بین اس سحر سے نکل کرحقیقی سینماکا عادی ہوگیا تو نام نہاد ہدایت کاروں اور پیشکاروں کا تو بوریا بسترا ٹھپ ہوجائے گا۔

لیکن خوش قسمتی سے ہندوستان فلم نگری میں آج بھی ایسے سرپھرے ہیں جو اس بھیڑ میں شامل ہونے سے انکار کرکے ہمیں وقتافوقتا حقیقی سینما سے روشناس کراتے ہیں ان میں شیام بینگل صاحب کا نام سرفہرست ہے۔ شیام بینگل ہندوستان کے نامور اور حقیقی سینماپر یقینِ کامل رکھنے والے ایک ایسے ہدایت کار ہیں جوہمیشہ معاشرے کےعام آدمی کی تکالیف اور پریشانیوں کوسینما کے پردے پرانتہائی خوبصورتی کے ساتھ دکھاتے ہیں۔

ویلکم ٹو سجن پور کی بے مثال کامیابی کے بعد ویلڈن ابّا۔۔۔!! شیام بینگل کی نئی فلم ہے۔ یہ فلم گاؤں کے ایک عام شخص ارمان علی کی کہانی ہے جو سرکاری نظام میں رشوت کلچر کا شکار ہوجاتا ہے۔ فلم کا مرکزی کردار ارمان علی\رحمان علی(دھرا) بومن ارانی نے انتہائی باکمال انداز میں ادا کیا ہے ۔ فلم کے پہلے حصے میں کہانی بے حد دھیمے رفتار سے آگے بڑھتی ہے جس  سےکوفت ہوتی ہے، لیکن وقفہ کے بعد کہانی میں دلچسپ صورت حال پیدا ہوجانے کے سبب فلم سمبھلتی ہے یہاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے سب کچھ آپ کا دیکھا بالا ہے۔

کہانی کچھ اس طرح ہے کہ ارمان علی اپنے گھر کے سامنے کہواں کھدوانا چاہتا ہے جس کے لیے سرکار کو مالی مدد کی عرضی دیتا ہے جو منظور ہوجاتی ہے لیکن عرضی منظور کرانے کے لیے سرکاری نوکروں پررشوت کی مد میں وہ تمام پیسے خرچ ہوجاتے جس سے اس نے کہواں کھدوانا ہوتا ہے۔ ساری حقیقت آشکارہوجانےکے بعدارمان علی اپنی بیٹی مسکان علی(منیشا لامبا) کے ساتھ کہوئیں کی چوری کی ایف آئی آر درج کرانے تھانے پہنچ جاتا ہے یہاں سے کہانی بے حد دلچسپ موڑ لیتی ہے جسے دیکھنے کے لیےتو فلم دیکھنی پڑےگی۔

ایک دو کو چھوڑ کر جیسے روی کشن، سبھی فنکاروں نے بہترن کام کیا ہے جس میں رجِت کپور، سمیر ڈھٹانی وغیرہ شامل ہیں اور کیونکہ فلم کا سارا پس منظر ایک مسلمان معاشرے پر مشتمل ہے اس لیے بھی ہر کردار سے مانوسیت سی محسوس ہوتی ہے۔ کہانی میں جو شیام بینگل صاحب نے ہی لکھی ہے رشوت خوری کے علاوہ مسلمان معاشرے کے سماجی مسائل جیسے لڑکیوں کی تعلیم، اچھے مستقبل کے لالچ میں والدین کا بلا سوچے سمجھے عرب شیخ سے اپنی بیٹیوں کا بیاہ وغیرہ کو بھی اٹھایا گیاہے جس سے کہانی غیر ضروری طوالت کا شکار ہوگئی۔ فلم ویلڈن ابا کو ایک شاہکار فلم تو نہیں کہا جاسکتا لیکن موضوع، اداکاروں کی فنکاری، خاص طور پر بومن ارانی اورمنیشالامبا کو دیکھا جائے تو بلاشبہ بہترین فلموں کے زمرے میں ڈالا جاسکتا ہے۔
میں ویلڈن ابا کو 10 میں سے7 نمبر دوں گا۔

منگل، 21 اپریل، 2009

مردانہ طاقت کا طوفان

میں نے تقریبا سات آٹھ سال ہوگئے ہیں پنجابی مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں ( ہاں جن ڈراموں میں سہیل احمد ہوتے ہیں وہ دیکھ لیتا ہوں) پچھلے ہفتے ایک دوست کےہاں گیاتھا وہاں ایک پنجابی ڈرامہ لگا تھاجس پر نظر پڑتے ہی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ ڈرامہ تو بکواس تھالیکن ڈرامے سے زیادہ میری توجہ سکرین پر پٹی کی صورت میں جو اشتہار آرہا تھا اس پر تھی جس کو پڑتے ہوئے ڈرامے کے اداکاروں کی جگت بازی پر ہسنے کے بجائے آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

مجھے ہمیشہ سے طنزومزاح سے عشق کی حد تک لگن رہی ہے حالانکہ میں خود نہ مزاح کرسکتا ہوں اور نہ برداشت کرسکتا ہوں لیکن ایک عجیب سی ناقابل بیان لذت پاتا ہوں جب بھی طنزومزاح کتاب کی صورت پڑھوں یا ٹی وی، فلم اور سٹیج شو کی صورت میں دیکھوں۔

یہ شاید سال1995 تھاجب مجھے پنجابی سٹیج ڈراموں کی بقول “کسی“ کےلت لگی تھی حالانکہ اس وقت مجھے پنجابی کی سمجھ "تینوں تے مینوں" سے زیادہ نہیں تھی۔ اس سے پہلے میں عمرشریف اور معین اختر کے اردو ٹی وی اور سٹیج مزاخیہ ڈراموں کا عاشق تھا۔ اُن کے سٹیج ڈرامے "بڈھاگھر پر ہے" "بکرا قسطوں پے" اور "ہم سا ہوتو سامنے آئے" اردومزاخیہ سٹیج ڈراموں کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن پھر عمر شریف فلموں کی طرف چلے گئے اور انہوں نےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کوکچھ عرصےکےلیے خیرباد کہہ دیا۔

میں عمر شریف کےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کادیوانہ ہوگیا تھااسی لیے جب بھی فلم لینے بازار جاتا میرا پہلا سوال دکاندار سے ہوتا " عمرشریف کا نیا ڈرامہ آیا ہے؟" حالانکہ مجھے اخبارجہاں کے وساطت سے پہلے ہی معلوم ہوتا کہ اُس کا جواب نفی میں ہوگا۔

ایک دن حصب معمول میری اینٹری دکان میں مندرجہ بالا سوال کے ساتھ ہوئی لیکن اُس دن دکاندار جوخاموش اور سنجیدہ طبیت والا بندہ تھا، کے بجائےاُسکا چھوٹا بھائی جو ہروقت گپیں مارنے والاہنس مکھ قسم کابندہ تھا بیٹھاہوا تھا، اُسنے جواب دیا ہاں!! اور وی سی آر کی کیسٹ ہاتھ میں پکڑا دی جس پر لکھا ہوا تھا "کنگلے پروڑنے" (کچھ ایسے ہی تھا لیکن صحیح املاء یاد نہیں)

میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ چیک کرکے دکھاؤ!! میرا پہلا گمان یہی تھا کہ یہ شرارت کررہا ہے۔ اُس نے کہا "تم عمرشریف دیکھنا چاہتے ہو یامزاخیہ سٹیج ڈرامہ؟" "ظاہر ہے ڈرامہ" میں نے کہا،

“گھر جاؤ اور اس کو دیکھو، عمرشریف بھول جاؤگے" اس نے کہا

وہ ڈرامہ میں گھر لےآیا وی سی آر میں لگایا اور جیسے ہی سہیل احمد اور امان اللہ کے ناموں پر نظر پڑی تو کچھ دلچسپی پیدا ہوئی (سہیل احمد کو پہلی بار پی ٹی وی کے "دن" ڈرامہ میں دیکھا تھا. اور امان اللہ کو ایک دبئی سٹیج شو میں) اور پھر جیسے جیسے ڈرامہ دیکھتاگیا، سہیل احمد اور امان اللہ کا دیوانہ ہوتاگیا۔

اسکے بعد میں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ہر وہ ڈرامہ دو دو تین تین بار دیکھا جس میں سہیل احمد اور امان اللہ ہوتے تھے، حالانکہ جیسے میں نے پہلے کہا ہے میری پنجابی کی سمجھ نہ ہونے کے برابر تھی، میری مادری زبان پشتوہے لیکن پھر بھی کیونکہ پرائمری سکول اردو میڈیم تھااور پھر بچپن کے دوست ہندکو بولنے والے تھے اور یہاں ہانگ کانگ میں پنجابیوں کے ساتھ سلام دعا زیادہ ہے، کم از کم سہیل احمد کی باتیں سمجھ میں آسانی سے آجاتیں، پھر آہستہ آہستہ امان اللہ اور باقیوں کے لہجے سے بھی مانوس ہوگیا۔

1995 سے اب تک میں نےسہیل احمد کے امان اللہ اور بعد میں مستانہ، جاوید، قوی خان، امانت چن اور افتخار ٹھاکروغیرہ وغیرہ کے ساتھ لاتعداد بہترین اوراعلٰی معیار کے مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھے ہیں جن میں کوئی " double meaning" اور فحش جگت بازی اور نام نہاد ناچ گانانہیں ہوتا تھا۔ سہیل احمد کا یہ ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دیکھنے والوں کو اپنے مزاخیہ سکرپٹ سے ہنسایااور ذہنی راحت دی ہے، نہ کہ فحش جگت بازی اور عورتوں کے اچھلنے کودنے سے جسے ناچ نام دے کر ناچ کے فن سے بھی مذاق کیاگیا ہے ۔

اُس دور میں لاہورتھیٹر سے اپنی مثال آپ بہترین مزاخیہ سٹیج ڈرامے تخلیق کیے گئے جسنے لاہورتھیٹر کوانڈسٹری میں تبدیل کردیا اور عام ناخواندہ سٹیج اداکاروں کو سٹار بنادیاجس کے نتیجے میں ٹی وی اور فلم جو پہلے سٹیج پر اداکاری کرنے والے فنکاروں کو ناکام اداکار اور سٹیج کوان ناکام اداکاروں کی آخری پناہگاہ سمجھتے تھے، سٹیج کی طرف آنے لگے جن میں قوی خان، وسیم عباس، افضل خان عرف ریمبو، نرگس، مدیحہ شاہ اور عمر شریف جسنے فلم کےلیے ہی پہلے سٹیج کو چھوڑا تھا دوبارہ لاہور سے ایک اور کامیاب مزاخیہ سٹیج ڈرامہ “لوٹے تے لفافے“ کیا جس کو بے مثال کامیابی ملی۔

اُس وقت لاہورتھیٹر کو اتنی پزیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی کہ ڈراموں کی ویڈیوکی ڈیمانڈ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پھر آہستہ آہستہ ان پنجابی سٹیج ڈراموں نےویڈیومارکیٹ میں بھارتی فلموں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنالی جس کے نتیجے میں ان کو اشتعارات بھی ملنے لگے۔

اُس وقت ان ڈراموں میں پنکھوں، میٹریس، لاہور کے مقامی ریسٹورنٹ، پان مسالہ، شادی حال وغیرہ وغیرہ جیسے عام مڈل کلاس کی ضرورت کی اشیاء کےاشتعارات آتے کیونکہ ان اشیاء کی جو لوگ مارکیٹنگ کررہے تھے انہیں اپناٹارگیٹ معلوم تھا اور وہ تھا پاکستانی مڈل کلاس، وہ جانتے تھے کہ یہ ڈرامےپاکستان میں خاص طور پر مڈل کلاس میں انتہائی مقبول ہیں اور گھرگھر دیکھے جارہے ہیں۔

لیکن!! پھر اچانک پتہ نہیں کہاں سے نرگس اینڈ کمپنی میدان میں کود آئیں اور لاہور تھیٹر پر مزاخیہ سٹیج ڈراموں کے بجائے “ڈانس نائیٹ شو“ “ڈانس دھماکہ نرگس شو“ وغیرہ وغیرہ جیسے شو ہونے لگے جسنے خالص مزاخیہ ڈراموں کے شائقین کو تھیٹر سے دور کردیا اور اسکے بجائے شرابیوں اور مجرے دیکھنے والوں کی لائنیں ٹکٹ بوکس کے سامنے لگادیں جو صرف اور صرف مجرہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ایسے میں جو اداکار ان مجروں کو ڈرامے کا نام دینے کےلیے استعمال ہوتے وہ واہیات ڈانس کرنے والی لڑکیوں کا مقابلہ ڈانس میں تو نہیں کرسکتے تھے اسلیئے یہ ادکار انتہائی فحش "double meaning" جگت بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے کران نئےشائقین میں اپنے آپ کو مقبول کرنے میں لگ گئے۔

آج لاہور تھیٹرسے جن سٹیج ڈراموں کی ویڈیو پر نمائش ہوتی ان میں اس قسم کے اشتعار آتے ہیں:

السعودیہ کا کستوری خاص کیپسول : مردانہ طاقت کا طوفان!!!!!

السعودیہ کا شربت کریلہ : شوگر کنٹرول کرے مردانہ قوت میں اضافہ کرے!!!!!!

السعودیہ شادی کورس : کمزور مرد شادی سے نہ ڈریں!!!!!!!!!

السعودیہ کا شربت سونا : نامرد کو مکمل مرد بنائے - بوڑوھوں کو سدا جوان رکھے!!!!!!!

ان اشتہارات سے آپ آسانی سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ڈرامے کون دیکھتا ہے۔ اور اس سے ہمارے سماج اور معاشرے کی پستی کااشارہ بھی ملتا ہے۔