آپ نے کبھی ہنستے کھیلتے بچوں کا مشاہدہ کیا ہے؟ اُن کے شادمان چہروں اورآنکھوں میں مسرت اور خوشی کے جذبات کو محسوس کیا ہے؟ پھر آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بچے جن چیزوں پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں ان میں ایسی بھی کوئی خاص بات نہیں ہوتی کہ انسان خوشی سے جگماتا نظر آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے بچے بہت معمولی اورچھوٹی چھوٹی چیزوں پر بہت خوش ہوتے ہیں۔
2 مئی کو رابعہ کی سالگرہ تھی تو تحفے میں مَیں نے اُسے ہاتھ پر پہننے والی گھڑی دی۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ رابعہ بھی دوسرے بچوں کی طرح معمولی معمولی چیزوں پر بہت خوش ہوتی ہے۔ جیسے اگر میں اسے کہوں کہ فلاں دن میری چھٹی ہے تو مَیں تمہیں پارک گمانے لے جاؤں گا، یا ہم لائبریری جائیں گے اور ساتھ شاپنگ پلازہ میں ونڈو شاپنگ کریں گے تو یہ سن کر اس کا چہرہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ اور اگر میں اسے کہہ دوں کہ فلاں دن بیچ پر جائیں گے یا امیوزمنٹ پارک جائیں گے پھر تو وہ روزانہ دن گنتی ہے اور ساتھ میں یاددہانی بھی کراتی ہے کہ ابُو!! یاد رہے ہم اس دن جارہے ہیں۔
میں حیران ہوجاتا ہوں اور سکون اور اطمینان بھی ملتا ہے کہ رابعہ ان چیزوں سے بہت، بہت خوش ہوتی ہے۔۔۔وہ خوش ہے، تو میں بھی اس کے ساتھ خوش ہوتا ہوں۔
لیکن اگر مجھے ذاتی طور پر کوئی کہے کہ چلو پارک چلتے ہیں، لائبریری چلتے ہیں، یا شاپنگ پلازہ چلتے ہیں تو میں اسے کہوں گا، کیا بورنگ کرنے والی باتیں کررہے ہو۔۔۔ان چیزوں سے مجھے ویسی خوشی نہیں ملے گی جیسے رابعہ کو ملتی ہے۔۔۔ تب احساس ہوتا ہےکہ جیسے جیسے انسان کی عمربڑتی ہے، اس کے ساتھ اس کی خوشیوں کی قیمت بھی بڑرہی ہوتی ہے۔ ۔۔اورپھر خود سے سوال کرتا ہوں کہ کہیں میں نےبھی اپنی خوشیوں کی قیمت اس حد تک مہنگی تو نہیں کردی جسے میں افورڈ ہی نہیں کرسکتا؟
میرے ذہن میں ایک کہانی عرصے سے گردش کررہی ہے لیکن لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کیونکہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی کہانی یا افسانہ نہیں لکھا ہے. اگر سچ پوچھیں تو مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم افسانے اور کہانی میں فرق کیا ہوتا ہے۔ اس سے آپ میرے اردو ادب سے نابلد ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
مذکورہ کہانی کو لکھنے کے خیال نے میرے ذہن میں سوال اٹھایا کہ کیا کسی زبان کے ادبیات پر دسترس محض مطالعہ کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے جواب نہیں ہے۔ کیونکہ لکھنا، بولنا اور سمجھنا بھی زبان پر مکمل دسترس پانے کے لئےاہم ہے، اور جب تک چاروں اعمال میں مہارت نہ ہو آپ کسی زبان کی ادبیات کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
اردو زبان مجھے جو تھوڑی بہت آتی ہے اس کی وجہ بچپن اور لڑکپن کی عمر تک میرا مطالعہ کرنے کا جنونی شوق ہوتا تھا۔ ہمارے مدرسے میں طلباء میں شوق مطالعہ اجاگر کرنے کی غرض سے "بزم ِپیغام" کے عنوان سے ہر جمعرات کو مدرسے کی لائبریری /درس قرآن والے کمرے میں تقریب کا انعقاد ہوتا تھا۔ اس تقریب کےآخر میں لائبریری کے کتب کے ذخیرےکو زمین پربچھا دیا جاتا اور سب طلباء اس محدود ذخیرے پر ٹوٹ پڑتے۔ کوئی آنکھ مچولی اپنے قبضے میں کرتا، کوئی اے حمید کی کمانڈو سیریز کے ناول پر جھپٹتا، اور کوئی حکایت کا نیا شمارہ اپنے ہاتھ میں پا کر مسرت محسوس کرتا۔ میں نے آنکھ مچولی ایک ،دوبار پڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے ویسا مزا نہیں آیا جیسے اس ڈائجسٹ کی ہردل عزیزی دیکھ کر میں امید کررہا تھا۔ مجھے اے حمید کا کمانڈو ناول قسم کے ناول پسند ہوتےتھے۔ کیونکہ اُس زمانے میں کشمیر میں جہاد کرنا بچپن کی خواہشات کی فہرست میں سے ایک تھی۔
اس زمانے میں مظہرکلیم ایم اے کے عمران سیریز ناول بھی بہت مقبول تھے۔ لیکن ان کے ناول کے سرورق پر غیرملکی عورت کی تصویر ہونے کی وجہ سے مجھے غلط فہمی تھی کہ شاید ان میں گھٹیا قسم کے رومانوی کہانیاں ہوتی ہوں گی۔ لیکن اتفاقاًعمران سیریز سے تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ایک دوسرے گاؤں میں کرکٹ میچ کھیلنے گئے تھے اور وہاں سے واپسی ہورہی تھی تو مجھے میدان سے باہر جس جگہ کو ہم پویلین کے طور پر استعمال کرتے تھے زمین پر عمران سیریز کا ایک ناول پڑا مل گیا، وہ میں نےاٹھایا اورواپسی پر ایسے ہی سرسری طورپر پڑھنے لگا تو وہ کہانی مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بعد اس سیریزکا میں شیدائی ہوگیا۔پھر جب خود اس قابل ہواکہ بس پر بیٹھ کر اکیلے قصبے تک جانے لگا تو کرکٹر، اخباروطن کے علاوہ عمران سیریز بھی خرید لاتا۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ قصبے سے عمران سیریز کی کاپی خریدتا اور جب گاؤں پہنچتا تو آدھے سے زیادہ ناول پڑھ چکاہوتا۔ جس دوران کہی بارجس اسٹاپ پر اترنا ہوتا وہ خطا ہوا ہے، راہ چلتے لوگوں سے ٹکر ہوئی ہے۔ لیکن تقریباً دو سو ناول پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا جیسےاب عمران سیریزناول کو خاص طور پراس ڈھنگ سے لکھا جارہا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ اوراق کو کالا کیا جاسکے اوراب اس ناول کو پڑھنا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔
حکایت بھی میرا ایک اور پسندیدہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ ہوتا تھا ، حکایت کے مدیراور بانی عنایت اللہ مرحوم کی وساطت سے مجھے معیاری اردو کہانیوں، اور کتابوں کا علم ہوا۔ ان کے ادارے سےشائع کردہ اچھی خاصی کتابوں کا ذخیرہ جمع ہوا۔اس کے علاوہ اخبارجہاں کے وساطت سے مستنصرحسین تارڑ کی تحاریر سے خوشگوارتعارف ہوا۔ مجھے اپنے کتابوں کے ذخیرے سے بہت پیار ہے۔ حالانکہ ہانگ کانگ کےچھوٹے چھوٹے گھروں میں ان کتابوں کو سنبھالناایک مسئلہ بن جاتا ہے لیکن میں نے گھروالوں کو کبھی بھی کوئی کتاب، رسالہ یا ڈائجسٹ پھینکنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود مجھے شک ہے اس میں سے اچھا خاصا ذخیرہ ردی کے نظر ہوچکا ہے۔ کچھ رسالوں کے انتہائی قیمتی شمارے گم ہوگئے ہیں۔
میرے بچپن میں واقعی کتاب، رسالہ اور ڈائجسٹ میرے بہترین دوست ہوا کرتے تھے، رات کو بستر پرلیٹنےکے بعد نیند کتاب پڑھتے پڑھتے ہی آتی۔ کبھی کبھی بچلی بے وقت چلی جاتی تو ہانگ کانگ سے ابو کا بیجھا ہوا ٹارچ بہت کام آتا۔ ویسے بھی گاؤں میں ریڈیو اورکتاب کے بعد آپ کا بہترین دوست ٹارچ ہی ہوتا ہے۔
میں نے انگریزی اور اردو دونوں زبانیں مطالعے کےشوق سے ہی سیکھی ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں زبانوں پر ویسی دسترس حاصل نہ ہوسکی جو اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھ کرباقاعدہ سند لینے والے کو مل جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنہوں نے کالج ، یونیورسٹی سے سند نہیں لی وہ اچھے لکھاری نہیں بن سکتے ، لیکن میرا خیال ہے جو غلط بھی ہوسکتا کہ کوئی زبان صرف مطالعے سے نہیں سیکھی جاسکتی، اگر آپ کسی زبان پراس حدتک دسترس حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کہانی یا افسانہ لکھ سکیں یا اس زبان کے ادب کو سمجھ سکیں تو اس کے لئےآپ کومطالعے کے ساتھ، لکھنے اور بول چال کی مشق بھی لازمی ہےجس کے لئے نصابی تعلیم ہی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔
میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ مادری زبان پشتوہےتو گھر میں پشتوچلتی ہے، بچپن میں دوستوں سے ہندکو سیکھی، یہاں ہانگ میں پنجابی سے بھی واسطہ پڑا ہے اور کام کاج کے لئے انگریزی اورچائینیز کینٹونیز زبان کا استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں اردو زبان کا بول چال کے لئے استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجابیوں سے اردو میں بات کرتے ہیں یاتو پنجابی میں جواب دیں گے یا پنجابی زدہ اردو میں۔
آخر میں یہ ضرور کہوں گا کہ مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لئے ایک بہترین جملہ کہاجاتا ہے کہ "کتاب آپ کی بہترین دوست ہے"۔ یہ جملہ اگر کسی کے سمجھ میں آجائے تو سمجھیئے اسے قارون کا خزانہ مل گیا۔ مطالعے نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ میرے مطالعے کے شوق کے مرہون منت ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے کسی زبان کی ادبیات پر دسترس پانے کے لئےکونسی چیز اہمیت رکھتی ہے؟ آپ کو مطالعے کا شوق کیسے ہوا، اور مطالعے کے شوق نے آپ کیا دیا ہے؟
پچھلے سال سٹار ٹی وی انڈیا پر بالی ووڈ سٹار عامر خان کا ایک ٹی وی شو بہت مشہور ہوا تھا ، اس شو کا نام تھا "ستے میووجیتے" ۔ اس شو کی ایک قسط بھارت میں شراب کی لَت کے انتہائی گھمبیر مسئلے پر تھی۔ اس مذکورہ شو میں تہلکہ اخبار کےفنانشل وڑلڈ کے مدیرجناب وجے سِمہا نے اپنی آپ بیتی سنائی کہ کس طرح انہیں شراب کی لَت لگی، جس نے ان سے دولت، شہرت، اور عزت چھین کر اسےنئی دہلی کی سڑکوں پر لاکھڑا کیا، اور پھر کس طرح اُنہوں نےاس لَت سے چھٹکارہ حاصل کرکے سب کچھ واپس حاصل کیا۔
وجے سِمہا بتاتے ہیں کہ انہیں ایک دوست نے نئی دہلی کی سڑکوں سے اٹھاکر ایک بحالی مرکز(Rehabilitation Center)میں داخل کروادیا۔ وہاں ایک دن مرکز میں کلاس سیشن کے دوران نفسیاتی ڈاکٹر بلیک بورڈ پر لکھ رہے تھے کہ تم ہار گئے ہو، تمہاری عزت بھی چلی گئی، تم اپنے کھو چکے ہو، تم سب کچھ کھو چکے ہو، تمہاری زندگی تباہ ہوگئی ہے۔ وجے سِمہا کہتے ہیں جب میں یہ سب بلیک بورڈ پر پڑھ رہا تھاتو میں سوچ رہا تھا اسے میرے بارے میں کیسے معلوم ہوگیا ہے؟ یہ سب میرے ساتھ ہوا ہے یہ کیسے جانتا ہے ؟ جب کلاس ختم ہوئی تو میں فوراً ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس سے پوچھا آپ کو میرے بارے میں کیسے معلوم ہوا ہے؟ آپ کیسے جانتے ہیں یہ سب میرے ساتھ ہوا ہے؟ ڈاکٹر نے جواب دیا کہ یہ میں نے آپ کے بارے میں نہیں لکھا ہے ۔ میں نے تو بیماری کے بارے میں لکھا ہے۔ شراب کی لَت ایک بیماری ہے، اور اس بیماری میں مبتلا شخص کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔
وجے سِمہا کو اُس نفسیاتی ڈاکٹر کی باتیں اچھی لگیں۔ کیونکہ وہ اس کی زندگی کے بارے میں بتا رہا تھا۔ نفسیاتی ڈاکٹرنے وجے سِمہا کے ساتھ آج تک جو بھی بُرا ہوا تھا اس کے بارے میں بتارہا تھا۔ وجے سِمہا اس ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے اسے بتایا کہ میں یہ تمہارے بارے میں نہیں ، بالکہ تمہاری بیماری کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔ یہاں سے وجے سِمہا کو معلوم ہوا کہ شراب عادت نہیں، بیماری ہے، اور میں نے زندگی میں جوکچھ کھویا ہےعزت، شہرت، دولت، محبت، رشتے ناطے یہ سب شراب کی لَت کی بیماری نے مجھ سے چھینا ہے۔ اور اگر مجھے یہ سب واپس حاصل کرنا ہے تو مجھے اس بیماری کا علاج کرنا ہوگا۔ بیماری کا علاج کرنا میری ذمہ داری ہے۔ وجے سِمہا نے اپنی بیماری کا علاج کیا اور دوبارہ وہ سب کچھ حاصل کیا جو شراب کی بیماری نے اس سے چھین لیا تھا۔
جیو ٹی وی، ایکسپریس، دنیا، اے آروائی، آج، سماء وغیرہ ٹیلی ویژن چینلز پر روزانہ بڑے بڑے اینکرز اورتجزیہ نگار بیٹھتے ہیں، جن میں بہت سارے ایسے بھی ہیں جو دانشورہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ خواتین وحضرات بھی قوم کے نفسیاتی ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دانشور بھی نفسیاتی ڈاکٹر ہی ہوتا ہے۔ یہاں میں اپنی غلطی مانتا ہوں کہ مجھے بھی ان میں سے کچھ تجزیہ نگاراور اینکرز جب بولتے ہیں تو اچھا لگتا ہے۔ لیکن عامر خان کا یہ پروگرام دیکھنے کے بعد کسی حد تک مجھے یہ سمجھ آگئی ہے کہ ان لوگوں کو کیوں سنا جاتا ہے، اور پسند بھی کیا جاتا ہے۔
وجے سِمہا کو ڈاکٹر اپنی طرف متوجہ ہی اسی لئے کرسکا کیونکہ وہ اس کی زندگی کے دکھ، تکالیف، اور مسائل کے بارے میں اسے بتا رہا تھا۔ اسے خوشی ہوئی کہ کوئی تو ہے جو اسے سمجھ رہا ہے، اس کے مسائل کو سمجھتا ہے، اس کے دکھ اور تکالیف کا احساس رکھتا ہے۔ اس تجربے سے پہلے ہر بندہ وجے سِمہا کی ذات پر لعن طعن کرتا تھا۔ نفسیاتی ڈاکٹر نے اسے سوچنے کا ایک نیا زاویّہ دیا کہ تمہاری ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ بالکہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ تمہاری بیماری کی وجہ سے ہوا ہے۔
پاکستانی قوم ایک ہاری ہوئی قوم ہے۔ اس قوم پر "کوئی بھی" آسانی سے تنقید کرسکتا ہے۔ اس قوم کے فرد سے تبادلہ خیال کے دوران آسانی سے"کوئی بھی" اخلاقی برتری کی پوزیشن سے اس پر تنقید کرسکتا ہے۔ اس قوم پرایسے لوگ بھی تنقید کرتے ہیں جن کے کرتوت اگر شیطان دیکھ لے تو وہ بھی شرماجائے۔ کیونکہ اخلاقی اورعملی لحاظ سے پاکستانی معاشرے میں ہر بندہ ہارا ہوا ہے۔یہ قوم اپنا سب کچھ کھو چکی ہے۔ اس قوم نے اپنے لئے ریاست بنانے کے دوسرے سال ہی اپنے قائد کوبے بسی سے موت کی آغوش میں جاتے ہوئے دیکھا۔ پھراپنےقائد ثانی کو دن دھاڑے موت کے گھاٹ اترتے ہوئے بے بسی کی تصویر بننے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔ اس کے بعد ایک فوجی جرنیل نے شبِ خون مار کر اس قوم کو یرغمال بنالیا۔ اس کے بعد اپنے بھائی کو اس کا حق نہ دینے کے پاداش میں اس قوم نے اُس آشیانے کوبکھرتے بھی دیکھا جس کو اِس نے بڑی محبتوں اور اُمنگوں کے ساتھ بنایاتھا۔ جس نے اس قوم کے ہونے کی بنیادی نظریے پرہی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگادیا۔ جیسے تیسے اُس صدمے سے یہ قوم نکلنے کی کوشش کرہی رہی تھی اور اپنے ہونے کے احساس کو پھر سے پانے کی اُمنگوں کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن تھی کہ ایک اورشبِ خون نے اس کی کمر ہی توڑ دی۔ اورآج تک یہ قوم اس شبِ خون کے زہریلے ردعمل کے نتائج بگت رہی ہے، آج اس کی گلیوں اور سڑکوں پر اس کے اپنے محافظ محفوظ نہیں ہیں۔یہ سب کچھ اقتدار کے ایوانوں میں ہوتا ہوا دیکھنے کے باوجود اس قوم کا ہرفرد بے بسی کی تصویر بن گیا۔
یہ حقیقت اس قوم کا ہر فرد جانتا ہے، سمجھتا ہے۔ اس قوم کے ہر فرد کو اپنی ناکامی کا احساس ہے، دکھ ہے ، وہ دن رات اس ناکامی کے درد کی اذیت میں مبتلا ہے۔ اس شکست خوردہ ذہن کے ساتھ جب وہ کسی کو اپنی ہار، اپنی ناکامیوں کی وجہ سے جو کچھ اس سے چھین لیا گیا اس کے بارے جب ایک بندے کوبات کرتے سنتا ہے تو اسے اچھا لگتا ہے۔ وہ اسے سچا لگتا ہے، وہ سمجھتا ہے اس شخص کو میرے دکھ درد کا احساس ہے، اسے معلوم ہے کہ میرے کیا مسائل ہیں، اور میں ان مسائل سے کتنا پریشان ہوں۔ وہ اسے بڑا ذہین، نڈر اور بے باک دانشور سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اس امیدکےساتھ کہ کوئی تو ہوگا جو اگر میری نہیں تو اس دانشور کی ہی سن لےاورمیرے مسائل حل کرلے، اسے پسند کرتا ہے اور دوسروں کو بھی بتاتا ہے کہ اس بندے کو سنویہ بہت اچھی باتیں کرتا ہے۔ اس طرح لوگ اس بندے کے سامنے بیٹھ کر اس کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور واہ واہ کرتے ہیں۔
حالانکہ یہ نام نہاد دانشور اِس قوم کے بارے میں باتیں نہیں کرتا ۔ بالکہ وجے سمہا کے نفسیاتی ڈاکٹر کی طرح وہ اس قوم کی بیماری کے بارے میں بات کرتا ہے۔ وہ بیماری جو کسی بھی قوم کو لگ جائے تو اس کا یہی حال ہوگا۔ قرآن میں اس بیماری کے شکار بہت ساری اقوام کا ذکر آیا ہے۔ یار لوگ قرآن کے بارے میں بھی کہتے ہیں پڑھو اور غور کرو کہ قرآن پاکستانی قوم کے بارے میں کہہ رہا ہے، حالانکہ قرآن بھی پاکستانی قوم کے بارے میں نہیں، اس بیماری کے بارے میں بتا رہا ہےکہ یہ بیماری جب ایک قوم کو لگ جاتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت یہ تجزیہ نگار، دانشور، اور اینکرز، بشمول مولوی اپنے مفادات کے لئے قوم کو نہیں بتاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے مفاد، اور اپنے آقا کے اشاروں پر عجیب و غریب قسم کے خیالات سے اس قوم کو اور زیادہ کنفیوژن میں ڈال رہے ہیں۔ کوئی طالبان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، کوئی سیاسی پارٹیوں کے طوطی ہونے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اور کوئی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے لےپالک بن گئے ہیں۔ یہ نام نہاد دانشوراپنے مفاد کے لئے ایک "غلط" کو صحیح کہیں گے، اور پھروقت اور حالات کے بدلنے پر اُسی "غلط" کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوغلہ پن اور منافقت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے قوم کی راہنمائی کریں گے۔
وجے سِمہا کو معلوم نہیں تھا کہ شراب کی لَت ایک بیماری ہے۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا تواس کے ساتھ اسے اس بات کا احساس بھی ہوا کہ بیماری کا علاج کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس نے اپنی ذمہ داری نبائی اور مکمل صحت یاب ہوکر وہ سب کچھ حاصل کیا جو بیماری کی وجہ سے اس نے کھو دیا تھا۔ بالکل اسی طرح پہلے تو پاکستانی قوم کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ ہم بیمار ہیں۔ جب یہ احساس ہوجائے تو پھر یہ احساس کرنا ہوگا کہ اس بیماری کا علاج ہرپاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ بیماری ہے منافقت اور دوغلہ پن۔ جس دن پاکستانی قوم کو اس بات کا احساس ہوا کہ منافقت اور دوغلہ پن عادت نہیں ، ایک بیماری ہے، اور اس بیماری کا علاج ضروری ہے۔ اُس دن کا سورج پاکستان کے لئے کامیابی و کامرانی کے پیغام کے ساتھ طلوع ہوگا۔
کیا آپ بھی سمجھتے ہیں یہ قوم منافقت اور دوغلے پن کی بیماری میں مبتلا ہے؟ اگر ہاں تو کیسے اس قوم کو اپنی بیماری کا احساس دلایا جائے؟
اس خبر کے منظرعام آنے کے بعد میرے احساسات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے سیالکوٹ کے دو بھائیوں کے اندوہناک قتل والے واقعے کے وقت تھے۔ اس وقت بھی میرا دل کررہا تھا اپنے چہرے کوکھرچ کھرچ کر اپنی پاکستانی شکل بدل دوں، اپنا نام بدل دوں، کسی نام کے پاکستانی سے بھی واستہ نہ رکھوں۔ پاکستان سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی خبر آتی ہے جس سے پہلے سے جھکا ہوا سر شرم سے اور جھک جاتا ہے۔ لیکن اس دفعہ تو مجھے ذاتی طورپر اس خبر سے شدید رنج پہنچا کیونکہ میری اپنی بیٹی بھی سریبل پالسی کی شکار ہے۔ میری بیٹی کا ابتدائی اسکول اور اب پرائمری اسکول دونوں ہانگ کانگ کرسچیئن ایسوسیئیشن کے تحت کام کررہے ہیں ان دونوں اسکول کے اساتذہ ہمارے لئے خدا کی طرف سے بیجھے گئے فرشتے ثابت ہوئے۔ یہ معصوم اور ڈؤن سنڈرم کی شکار چھوٹی سی مسیحی بچی رمشاء جسےخدا کی کتاب کی بے حرمتی کے جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا ہے میرے لئے میری بیٹی جیسی ہی ہے۔ میں اپنی بچی کو دن رات زندگی سے لڑتے ہوئے دیکھتا ہوں اس لئے مجھےاحساس ہے اس بچی کی تکالیف کا۔ میری یہ تحریر میری اس مسیحی بچی رمشاء کے نام خراج عقیدت ہے۔
خدا کی کتاب جس کی حفاظت اسی کتاب کے بقول خدانے اپنے ذمہ لیا ہے۔ لیکن اس کے پیداکردہ انسان ہیں کہ زبردستی اس کتاب کے رکھوالے بن رہے ہیں۔ رکھوالے بھی ایسے کہ کبھی ایک جھوٹی افواہ پر مسیحی بستی کو آگ لگا دیتے ہیں، کبھی ذہنی معذورانسان کو آگ لگاکرزندہ جلادیتے ہیں اور کبھی ذہنی معذور بچے کو جیل میں ڈال کراپنے تہیں بہت بڑا کارنامہ اور فرض ادا کررہے ہیں۔ ان رکھوالوں میں 99 فیصد ایسے ہیں کہ اس کتاب کو رٹا لگالگا کر پڑھ تو گئے ہیں لیکن کتاب میں خداان سے کیا کہہ رہا ہے نہ یہ جانتے ہیں اور نہ جاننا چاہتے ہیں۔ ان کے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے کہ مُلاء سُر لگا لگا کر اس کتاب کی تلاوت کرے اور یہ رکھوالے اس کو بڑے ادب سے سنیں۔ مُلاء ڈھونڈ ڈھونڈ کر سائنسی دریافتوں کی کہانیاں ان کو سنا کر اس کتاب کے حق و سچ ہونے کو ثابت کرے۔ ان رکھوالوں کو کتاب میں قصے کہانیوں پر ایسا ہی ایمان جیسے یہ سب ان کے آنکھوں کےسامنے ہوا ہے۔ کتاب میں ان قصے کہانیوں کے علاوہ بےشماراحکامات بھی ہیں۔ جس میں ان رکھوالوں کو ہر اس گناہ سے روکا گیا ہے جو کسی بھی صورت میں ان کے لئے نقصان دہ ہے جس میں جھوٹ، فریب، دھوکہ، بہتان تراشی، قتل، گندگی کے علاوہ بھی ایسے بے شمار احکامات ہیں جو ایک بہتر انسان بننے کے لئے ضروری ہیں۔
ان کے لئے یہ انتہائی مقدس کتاب ہے، اسےچھوتے وقت ہونٹوں سے چومنا اور ماتھے سے لگانا،گھر میں سب سے اونچی جگہ پرخوبصورت نرم وگداز ملائم کپڑے میں ڈھاپنا، کسی کی آخری سانسیں چل رہی ہوں، مرنے کے بعد کسی کو ثواب پہنچانا ہو، خاندان میں کوئی بڑا تنازعہ ہوجائے، دلہن باپ کےگھر سے الوداع ہورہی ہو، کوئی نیاکاروبار شروع کیا ہویہ کتاب ہر موقعے کے لئے کارآمندہے۔ ان رکھوالوں کے اپنوں سے حادثاتی طور پر یہ کتاب ہاتھ سے گرگئی تو 3 روزے واجب ہوجائیں گے۔ لیکن غیروں نے اس کتاب کی بے حرمتی کردی تو شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں، پوری پوری بستی کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنادیتے ہیں، ذہنی معذورانسان کو آگ لگاکرزندہ جلادیتے ہیں، ذہنی معذور بچے کو جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ان رکھوالوں کا یہ ایمان ہے کہ اس کتاب کا ایک ایک حرف خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ان رکھوالوں کے لئے کتاب کا ایک ایک حرف خدا کی طرف سے نازل تو ہوا ہے لیکن ان حروف میں کیا کہاگیا ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ قِسم قِسم کا مُلاء اپنی اپنی بولی میں انہیں ان خدا کے حروف کا مطلب سمجھاتا ہے۔ مطلب سمجھ میں آئے یا نہیں یہ ضروری نہیں ہے، یہ ضروری ہے کہ سننے کے بعد سبخان اللہ اور اللہ اکبرکہا جائے۔ اور اگر کبھی مطلب سمجھ آ جائے تو خدا کی رحمت اور اس کے نبی کا اُمتی ہونے کا واسطہ دے کراس پر عمل کرنے سے معذوری اور خدا سے معافی کی طلبگاری کے نئے نئے طریقے بھی ان رکھوالوں کوآتے ہیں۔
ان رکھوالوں کی منافقت پر لکھتے لکھتے ہزاروں صفحات کالے کیئے جاسکتے ہیں لیکن آخری بات ان رکھوالوں سے میں یہی کہنا چاہوں گا کہ تمہارا خدا تو اس معذور بچی کے سامنے پہلے ہی شرمندہ ہے کہ اسے بغیر کوئی وجہ بتائے معذور پیدا کیا، اوپر سےاسے ایک پاکستانی مسیحی کے گھر میں پیدا کرلیا۔ اس بچی کو تکلیف دے کر اپنے خدا کو اور زیادہ شرمندہ نہ کرو۔
Adsense کیا ہےاور اس سے کیسے پیسے بناتے ہیں یہ تو تقریباً ہر پاکستان کابلاگر اور خاص طورپر انگلش بلاگر واقف ہوگا۔ یہ پاکستان کے بلاگرز کا انتہائی پسندیدہ موضوع ہے۔ میں بہت عرصہ سے چاہتا تھا اس پر لکھوں خاص طور پر اس وقت جب میں دیکھ رہا تھا اکثریت اس کو پیسے بنانے کا آسان ذریعہ سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے، لیکن نہ لکھ سکا۔ آج بھی میرا موضوع بلاگنگ اور اس کے ذریعے پیسہ بنانا نہیں ہے اور نہ ہی میرا موضوع VLOG اور YouTube Partner Program ہے۔ YouTube اور اس کے ذریعے VLOG تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے اور یوٹیوب پارٹنر پروگرام بھی مجھے یقین ہےآپ کو معلوم ہوگا کیا چیز ہے، اور کیسے کام کرتا ہے۔ اگر نہیں معلوم تو گوگل اور یوٹیوب پر اس
بارے میں بے شمار تعارفی اور ترکیبی تحاریراورویڈیوزموجود ہیں جس سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مجھے ویلاگنگ پر لکھنے کی ترغیب ابیر ایچ خان کے ویلاگ نے دی۔ میں نے اب تک یوٹیوب پر ایسے پاکستان کے ویلاگر دیکھے ہیں جن کا معیار کسی بھی لحاظ سے ایک بہترین ویلاگر کی تعریف پر پورا اترتا ہے جیسے TheLivingPicture اور nakedtyrant وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابیر ایچ خان کا ویلاگ دیکھ کر مجھے ایسے لگا کہ ابیر ایچ خان کا حال بھی وہی ہے جو پاکستان کے اردو اور انگریزی دونوں بلاگرز کے ساتھ ہورہا ہے۔ اور جب ابیر ایچ خان کے ویلاگ کے تبصروں میں پڑھا کہ ہر بندہ اُس سے یوٹیوب مونیٹائز کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو مجھے اندازہ ہوا کہ بہت جلد پاکستان ویلاگرز کی ایک بڑی
تعداد یوٹیوب پر ویلاگ کے ذریعے پیسہ بنانے کے پیچھےلگ جائےگی۔
لیکن ایک بات یہاں۔۔۔۔۔واضح ہو!! کہ ابیر ایچ خان اپنی صلاحیت کے مطابق اچھا کام کررہا ہے اور ایک کامیاب ویلاگر بن سکتا ہے۔ تقریباً تین سالوں میں 30 لاکھ ویوز اور 6 ہزار سے زیادہ سبزکرائبرزحاصل کرنا بھی ایک کامیابی ہے۔ لیکن میری سمجھ کے مطابق جو چیز ابیر ایچ خان اور ان جیسے بہت سارے پاکستان کے بلاگرز اور ویلاگرز کوکامیابی کی اگلی سیڑی پر قدم رکھنے سے روک رہی ہے اس کی کچھ وجوعات ہیں جو کہ میری اس تحریر کا اصل موضوع ہے۔ میں ان وجوہات پرمثبت تنقید اور سیکھنے سکھانےکے ارادے سے روشنی ڈالوں گا۔
جب آپ ابیرایچ خان کے ویلاگ پر جائیں گے تو پہلا تاثرجو ان کے ویلاگ دیکھنے سے ملتا ہے وہ غیرمعیاری ''بول چال'' انگریزی ہے جس کا مطلب ہے ابیر ایچ خان انگریزی تو سمجھتے ہیں، لکھ بھی سکتے ہیں اور پڑھ بھی سکتے ہیں لیکن بول چال والی انگریزی پر ان کی گرفت کافی کمزورہے۔ جو ان کی ویلاگ کا سب سے بڑامنفی پہلو ہے اور ان ویلاگ ویڈیوز کو بھی غیرمعیاری کردیتا ہے جو مواد کے لحاظ سے اچھے ویلاگ تھے۔
دوسرا ان کے رنڈوم ویلاگ کے سلسلے والے ویڈیوز اگر دیکھیں تو ان میں مواد پر محنت نظر نہیں آتی، اور ایک سطحی انداز میں ویلاگ سے جان چھڑانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جس کی مثال ''شاہد آفریدی بمقابلہ محمدحفیظ'' یا ''عاطف اسلم بمقابلہ علی ظفر'' والے ویلاگ ہیں جن میں مواد یعنی سکرپٹ پر محنت سے جی چرانا واضح نظر آرہا ہے۔ ان دونوں ویلاگ ویڈیوز کا صرف ایک ہی مقصد تھا ویلاگ ویڈیو بنانا۔
تیسری بات ابیرایچ خان کی تقریباً تمام ویلاگ ویڈیوز میں تخلیق کا فقدان نظر آرہا ہے۔ ان کے تمام موضوع دوسروں کی دیکھا دیکھی ہیں یا اپنی تخلیقی کام کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے یوٹیوب پر انتہائی مقبول ویلاگرز کی آمدنی کا حساب کتاب لگانے والے ویلاگ ویڈیوز سے کررہے ہیں جو بذات خود تو بری چیز نہیں ہے لیکن اگر اس کا مقصد سبزکرائبرز اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنا ہو تو وہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر بھروسہ نہ کرنے کے مترادف ہے۔ایک چائنیزکعاوت ہے ''اپنے دشمن کو سمجھ لو، اپنے آپ کو سمجھ لو، آپ جنگ نہیں ہار سکتے''۔ اور ہمارے ہاں کہاں جاتا ہے ''کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا''۔ یہاں بھی کچھ ایساہی معاملہ ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر، محنت اور لگن سے جی چراتے ہوئےاگر ہم دوسروں کی نقل اور وہ بھی انتہائی غیرمعیاری بھونڈی نقل کریں گے توکسی بھی بلاگ، ویلاگ، یا پوڈکاسٹ کے قارئین، ناظرین اور سامعین پہلی استعمال میں اسےمحسوس کرلیں گے۔
تنقید کافی ہوگئی، اب سوال پیداہوتا ہے کرناکیاچاہیئے۔
یہ بات تو کسی شک و شبے سے بالاتر ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت شخص اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے ہزاروں لاکھوں ڈالرز کما سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور انٹرنیٹ پر راتوں رات امیر بننے والے سبز باغ والی تراکیب کی طرح یوٹیوب چینل کے ذریعے ویلاگنگ اور اس سے پیسے کمانا بھی ایک دھوکہ ہے، تویہ غلط ہے ایسا نہیں ہے۔ بلاشبہ آپ اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے پیسہ کما سکتے ہیں۔ اپنے یوٹیوب چینل/ویلاگ کو مونیٹائز کرنا چاہیئے یا نہیں؟ اگر کرنا چاہیئے تو کس لائحہ عمل کے ذریعے کرنا چاہیئے یہ ایک دوسری بحث ہے۔
لیکن۔۔۔۔۔!! اگر!!
کوئی اس نیت کے ساتھ یوٹیوب پر ویلاگنگ شروع کرتا ہے کہ وہ اس سےگھر کے بیڈروم میں کمپوٹرکے سامنے نرم وگداز کرسی پر بیٹھ کر ہزاروں لاکھوں ڈالرز کمائے گا تو اس کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اپنا وقت ہی ضائع کررہا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے۔ آپ کوکام کرنا پڑے گا، آپ کو کامیابی کی ضمانت کے بغیراپنا بہت ساراقیمتی وقت دینا ہوگا، آپ کو سیکھنا ہوگا، آپ کو ذہنی و جسمانی محنت کرنی ہوگی اور سب سے اہم اور یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ کو پیسہ کمانے کے لئے ویلاگنگ کی سوچ سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔
بولنے کا فن اور زبان پر گرفت:
ویلاگنگ کے لئے پہلی ضرورت تو بولنے کا فن ہے اور اس کے علاوہ ویلاگرجس زبان میں بول رہا ہے اس پر مکمل گرفت لازمی ہے۔ مکمل گرفت سے مراد چہرے کے تاثرات زبان سے نکلنے والے الفاظ کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آنے چاہیئے۔ مثال کے طور پر ابیر ایچ خان کا ویلاگ دیکھیں تو ان کے چہرے کے تاثرات اور بولنے کا اندازہی بیان کررہا ہے کہ اُنہیں بول چال میں انگریزی زبان پر گرفت حاصل نہیں ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ میں لہجے کی بات نہیں کررہا۔ کسی بھی زبان میں بولنے والے کالہجہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن جب غلط intonation اور چہرے کےغلط تاثرات کے ساتھ بول چال ہوگی تو ویلاگ میں جس مواد پر بات ہورہی ہے وہ اپنا اثر کھودیتا ہےاور ناظرین کو کوفت ہونے لگتی ہے۔ دوسری طرف آپ ThLivingPicture کے عثمان خالد بٹ کا ویلاگ دیکھیں تواس میں آواز اور الفاظ دونوں اس کے چہرے کے تاثرات کا ساتھ دے رہے ہیں جو ان کی انگریزی بول چال پرمکمل گرفت کا ثبوت ہے۔ جس سے ناظرین اس کے مواد کودیکھ اور سن کرفیصلہ کرتے ہیں کہ ویلاگ اچھا ہے یا برا ہے۔ ناکہ اس کے غلط تلفظ اورچہرےکےغلط تاثرات سے۔
ویلاگ کے مواد پر محنت کا فقدان:
ایکتا کپور نےاس حقیقت میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں چھوڑی کہ بہترین کاریگری کے ساتھ اگر محنت اور لگن چاہے آپ انتہائی واہیات اور بےمقصد مواد پر بھی کریں گے تو آپ کوناظرین ملنے میں قطحاً دشواری نہیں ہوگی۔ لیکن دوسری طرف آپ کا مواد انوکھی سوچ کے ساتھ انتہائی بامقصد بھی ہو لیکن اس پر محنت نہیں کی گئی ہے، اوراسےاناڑی پنے سے بنایا گیا ہے توآپ کے ناظرین نہ چاہتے ہوئے بھی دوسری طرف نکل جائیں گے۔
نیاپن اور تخلیق کا فقدان:
ایک بہترین ویلاگ، بلاگ، یا پوڈکاسٹ کے لئے آپ کے پاس ان تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔۔۔۔
فنکاری و کاریگری مہارت
تکنیکی مہارت
محنت اور لگن
لیکن!! یہ تین چیزیں اگر آپ کے پاس ہیں بھی توآپ کوایسا مواد چاہیئے جو آپ کے ناظرین کو پانچ، دس منٹ یا جتنا طویل آپ کا ویلاگ ہے کو مجبور کرسکے کہ وہ آپ کا ویلاگ دیکھیں۔ اس کے لئے آپ کو تخلیقی صلاحیت کی ضرورت پڑے گی۔ فنکاری، کاریگری اور تکنیکی مہارت تجربے اور سیکھنے سے آدمی سیکھ سکتا ہے لیکن تخلیق سیکھنے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب ایسا ہرگزنہیں ہے کہ تخلیق کسی کی میراث ہے۔ تخلیق کا دوسرا نام ہے آپ!! لیکن یہاں دوبارہ وہی بات آجاتی ہے کہ اگر آپ صرف پیسہ کمانے کے لئے ویلاگنگ کررہے ہیں تو پھر آپ دوسروں کی طرف دیکھیں گے جس کا مطلب ہوگا تخلیق (آپ) کی موت۔ بےشک آپ کسی سوچ یا تصور سے متاثر ہوسکتے ہیں لیکن اگراس تصور کو پیش کرنے میں ''آپ'' نہیں ہیں تو اس میں دوسرے نظرآئیں گے اور دوسروں کو دیکھنے کے لئے ناظرین آپ کے پاس کیوں آئیں؟
ایک دفعہ کسی اردو فورم پرایک دوست نے پیشن گوئی کی تھی کہ اردوبلاگر میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے خربوزہ خربوزے کودیکھ کر رنگ پکڑنے کے مترادف بلاگ لکھنےشروع کیئے ہیں، یعنی ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بغیر کسیsubstantial reasons کے برائے نام بلاگر بن گئے ہیں، اسی لیے یہ لوگ بہت جلد بھاگ جائیں گیں اور صرف وہ بلاگر بچ جاہیں گیں جواصل بلاگر ہیں.
میں نے بھی اس وقت نیا نیا بلاگ لکھنا شروع کیا تھا، اور میرے بلاگ لکھنے کا مقصدتھا بغیرکسی روک ٹوک یعنی موڈریشن کے اپنے خیالات، سوچ اور احساسات کا اظہار کرنا. اور میں سمجھتا ہوں بلاگنگ کی خوبصورتی اور انفرادیت ہی یہی ہے کہ اسکے ذریعے آپ اپنی سوچ اور احساسات کا اظہار کرسکتے ہیں چاہے اس سے کوئی متفق ہو یا ناہو.
مجھے یہ بات بری لگی کہ نئے عام بلاگر جن کی بلاگنگ میں تیکنیکی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اصل بلاگر نہیں ہیں اور یہ بلاگر جلد یا بدیر بھاگ جائیں گے. اسی وقت میں نےسوچ لیا تھا کہ میں بلاگ لکھنا نہیں چھوڑوں گا، بلکہ اچھا بلاگ کیسے لکھا جاتا ہے؟ اچھے معیار کے بلاگ کی پہچان کیا ہے؟ وغیرہ، سمجھنےاورسیکھنےکیلیئے اپنے تیکنیکی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کروں گا، اور ایک دن اپنے ذاتی ڈومئین پر اپنے بلاگ کا جھنڈا لہراؤں گا.
ساجد اور عمار کی اردو بلاگنگ میں تیکنیکی مدد کے موضوع پر بہترین ویب سائٹ اردوماسٹر اور ماوراء اور راہبر کی مشترکہ کاوش منظرنامہ کے منظرعام پر آنے کے بعد تو جوش خروش میں اور بھی اضافہ ہوگیا. لیکن!! پھر اچانک اردوٹیک بند ہوگیا ساتھ میں میری تقریباتمام تحریریں بھی ختم ہوگئیں، اور اس کے ساتھ شروع شروع کا جو جوش و جذبہ تھا وہ بھی کم ہوتے ہوتے تقریبا ختم ہوگیا. اس کے بعد جب اردوٹیک واپس آگیا تو بے حد خوشی ہوئی لیکن بلاگ لکھنے کا وہ پہلے والاجذبہ ناپید تھا.
کئی دفعہ دوبارہ نئے جذبے سے لکھنے بیٹھا لیکن تحریر ڈرافٹ میں ہی پرانی ہوجاتی، شاید اس کی ایک وجہ اپنے مواد کے ضائع ہونے کا دکھ بھی ہو. بہرحال آج پختہ ارادے کے ساتھ سوچا اپنے بلاگ کو اپڈیٹ کرنا اور ضرور کرنا ہے، تو کردیا..................!! :smile:
اب بلاگر پر آنے کے بعد تو وہی پراناوالا جوش جذبہ پھر بیدار ہوگیا ہے.
امید نہیں یقین ہے اب یہ سلسلہ جاری رہے گا، انشاءاللہ!!