نوازشریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نوازشریف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 5 جنوری، 2014

ہمارے اختلافات - دو میجرجنرلوں کی سبکدوشی اور ہفتہ وار اخبار"فرائیڈےٹائمز" کے مدیر نجم سیٹھی کا کورٹ مارشل کا مطالبہ - سب سے پہلے پاکستان سے اقتباس۔ آخری قسط

سیاسی خودکشی کا تجزیہ

نوازشریف نےجو کچھ کیا، وہ کیوں کیا؟انہوں نے سیاسی خودکشی کیوں کی؟ اس کا جواب شایدہمیشہ ایک راز رہے گا۔ میں نے بحثیت آرمی چیف، اُن کے ساتھ حتی الامکان تعاون کیا۔ میں ہمیشہ نوازشریف سے دریافت کرتا رہتا تھا کہ فوج کس طرح اُن کی گرتی ہوئی حکومت کی مدد کرسکتی ہے۔ انہوں نے مجھ سے خراب حالت میں چلتی ہوئی سرکاری کارپوریشن "واپڈا" کو چلانے میں مدد مانگی۔ میں نے یہ انتہائی مشکل کام قبول کرلیا۔ فوج نے 36000 فوجیوں کی مدد سے واپڈا کا نظم ونسق سنبھال کر اسے تباہی سے بچالیا۔ نوازشریف نے مجھ سے اس خوفزدہ عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کہا، جس کے سامنے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے  مقدمات پیش ہوتے تھےاور میں نے فوراً ہی اس کی ہامی بھرلی۔ ہم نے انسدادِدہشت گردی کے لئے کئی فوجی عدالتیں قائم کیں اور ان دہشت گرد گروہوں پرنظر رکھی۔

اس قسم کے تعاون کے باوجود، روزِاوّل سے ہی کچھ معاملات پر ہمارے اختلافات پیداہوگئے تھے۔ میرے خیال میں وہ معمولی نوعیت کے تھے، لیکن نوازشریف شاید اُنہیں بہت اہمیت دیتے تھے۔ میرے فوج کا سربراہ بننے کے چنددن کے اندراندرانہوں نے دو میجرجنرلوں اور ان کی وفاداری کے خلاف اِنتہائی درُشت باتیں کیں اور مجھ سے کہا کہ میں اُن دونوں کو سبکدوش کردوں۔ یہ بہت عجیب درخواست تھی۔ میں نے کہا کہ باقاعدہ چارج شیٹ، الزامات کی تفصیلات اور افسروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیئے بغیر میں ایساقدم نہیں اٹھاسکتا۔ وہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک دوسرے لوگوں کے ذریعے بلاواسطہ اور بالواسطہ اپنی ضدپراِصرار کرتے رہے، لیکن میں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا۔ میں نے انہیں بتایاکہ میجرجنرلوں کے ساتھ شُبے اور افواہ کی بنیادپراس طرح کا یک طرفہ سلوک نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرا اختلاف چندماہ کے بعد ہفتہ وار اخبار"فرائیڈےٹائمز" کے مدیر نجم سیٹھی کے بارے میں ہوا، جنہیں نوازشریف کے حکم پر گرفتارکرلیاگیاتھا۔ پہلے مجھ سے کہاگیاکہ ان کو فوجی حراست میں لے کرآئی ایس آئی کے لاہور میں واقع دفترکی تحویل میں دے دیاجائے۔ میں نےبادلِ ناخواستہ یہ کام کیا، جس کا اصل مقصد انہیں پولیس کی ایذارسانی اور برے سلوک سے محفوظ رکھنا تھا۔ میں نے آئی ایس آئی کو خصوسی ہدایت کی کہ انہیں کسی محفوظ پناہ گاہ میں رکھاجائے، جہاں انہیں کوئی ضرر نہ پہنچاسکے۔یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ میں اگلے دن بالکل حیرت زدہ رہ گیا، جب وزیراعظم نے مجھ سے نجم سیٹھی کا کورٹ مارشل کرنے کا کریہہ اور قابل نفرت مطالبہ کیا۔ پہلے تو میں ہنس دیا اور سمجھا کہ وہ مذاق کررہے ہیں، لیکن وزیراعظم نے اپنا کام پورا کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ قانوناً غداری کے الزامات میں کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی انتہائی ناپسندیدہ تجویز تھی، جس سے مجھے پہلی مرتبہ وزیر اعظم کے ناقابلِ اعتبار ہونے کا احساس ہوا۔ میں نے دوبارہ صاف صاف منع کردیا اور انہیں سمجھایا کہ اس قسم کے بغیرسوچے سمجھے عمل کے داخلی اور خارجی اثرات بہت خراب ہوں گے۔ میرے انکارکی وجہ سے مدیرکو رہا کردیا گیا۔

کارگل کا واقعہ میرے اور وزیراعظم کے درمیان تنازعے کی سب سے بڑی وجہ بن گیا۔ ہم دونوں چاہتے تھے کہ کشمیر کے سیاسی اور عسکری معمالات دنیا کے پردے پردوبارہ بھرپورانداز میں نمودار ہوں۔ کارگل کی وجہ سے ہم اس میں کامیاب رہے، لیکن جب بیرونی سیاسی دباؤکے تحت، آزاد کرایا ہو اعلاقہ خالی کرنا پڑا تو نوازشریف ہمت ہارگئے۔انہوں نے قومی یکجہتی سے قوت حاصل کرنے کی بجائے فوج کے خلاف الزام تراشی کی اور اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے سوچا کہ وہ کارگل کے معاملات کا علم نہ ہونے کا دعویٰ کرکے محفوظ ہوجائیں گے۔ ہرطرح کے مضامین، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اخباروں میں شائع ہونے لگے، بشمول ایک امریکی اخبارمیں فوج کے خلاف ایک صفحے کے اشتہارکے، جن سے فوج اور حکومت کے درمیان خلیج پیداہوئی۔ جس بری طرح سے کارگل کے مسئلےسے نمٹا گیا، اس سے وزیراعظم کی ادنیٰ سوچ کا انکشاف ہوا، جس نے انہیں فوج اور میرے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔

میرے اور نوازشریف کے درمیان، ان چندنظرآنے والے تنازعات کے علاوہ، میں نے انہیں کئی مرتبہ رائے بھی دی تھی کہ وہ امورِحکومت بہترطریقے سے چلائیں۔ یہ میں نے ملک میں بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج اور بہت سے دانشوروں کے مجھ پر خصوصی دباؤکی وجہ سے کیا۔ کچھ نے تو مجھ سے ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لینے کے لئے کہا۔ "میں ملک کو بچانے کے لئے عنانِ حکومت کیوں نہیں سنبھال رہا ؟" وہ پوچھتے تھے۔ میں ان کے تجزیےسے متفق تھا کہ حکومت کا حال ناگفتہ بہ تھا، لیکن میرے لئے کوئی ایسا ایوان نہیں تھا، جہاں جاکرمیں اس صورت حال اور اس کی بہتری کے بارے میں بات کرسکوں، خصوصاً جبکہ نوازشریف نے مختلف ترامیم کے ذریعے تمام اختیارات ، مع قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کاآئینی اختیار، اپنی ذات میں مرکوز کرلئے تھے۔ اس طرح صدر اب وزیراعظم کو اور ان کی حکومت کو برطرف نہیں کرسکتے تھے۔ اس طرح ان کے اختیارات پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی اور میرا حکومت کو الٹنے کا کوئی ارادہ اور خواہش بھی نہیں تھی۔ بہتر یہی تھا کہ جیسا بھی تھا، سیاسی عمل کو چلنے دیا جائے۔

پاکستان میں عوام اور دانشوروں کا آرمی چیف سے مل کر یہ کہنا کہ وہ عنان حکومت سنبھال لیں، کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ تمام نازک لمحوں میں ہر شخص فوج کو ملک کے نجات دہندہ کی نظرسے دیکھتا ہے۔جب حکومتیں بدانتظامی کا شکارہوجاتی ہیں (جو متعدد دفعہ ہوتا ہے) یا جب بھی صدر اور وزیراعظم کے درمیان کشمکش ہوتی ہے ( خصوصاً 90ء کی دہائی میں) تب تمام راستے فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرزکی طرف جاتے ہیں۔ آرمی چیف سے امید کی جاتی ہے کہ وہ وزیراعظم پر دباؤ ڈالیں کہ حکومت اچھی طرح اور بغیرکرپشن، بغیراقرباپروری اور بغیرگاہے بگاہے مجرمانہ حرکتوں سے چلائیں۔ انہیں صدراوروزیراعظم کے درمیان جھگڑوںمیں کھینچاجاتا ہے۔

اکتوبر 1999ء میں ملک تیزی سے معاشی اور سیاسی تباہی کی طرف جارہا تھا۔ میں ان مشکل حالات میں وزیراعظم کو سہارادینےکے ساتھ ساتھ انہیں بہترطریقے سے کام کرنے میں مدد کررہا تھا۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے میری ان نیک خواہشات کو مشتبہ نظروں سے دیکھا۔ حالانکہ ان کی نشونما شہرمیں ہوئی تھی، لیکن مزاج جاگیردارنہ تھا۔ ان کی نظر میں اختلاف رائے اور غیروفاداری میں کوئی فرق نہیں تھا۔ میری وفاداری کے بارے میں ان کی غلط فہمی اور ساتھ ہی ساتھ اس شک نے، کہ میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنارہا ہوں، انہیں خوف میں مبتلاکررکھاتھا۔

نوازشریف نے جو کیا اور کیوں کیا۔۔۔۔اس کے بارے میں تین آراہیں:

امکان نمبرایک۔۔۔تین سال کی عام مدت کی بجائے، شاید نوازشریف نے مجھے صرف ایک سال کے لئے آرمی چیف رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایک سال کے بعد مجھے جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین بناکرایک طرف کردیا جاتا اور ایک کٹھ پتلی جنرل (لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین کی طرح) کو ترقی دے دی جاتی تاکہ وہ 2002ء کے الیکشن میں "نتیجہ خیز" کردارادا کرے۔

امکان نمبردو۔۔۔ جیسا کہ میں نے کہا شاید نوازشریف یہ امید کررہے تھے کہ میرا خاندان چونکہ بھارت سے تقسیم کے وقت ، نقل مکانی کرکے آیا تھاتو میں ان کی بات زیادہ سنوں گا۔ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے مجھ سے چھٹکارا پانے کا سوچ لیا۔ شاید انہوں نے سوچا کہ میرے خلاف کاروائی فوج پر ان کی برتری قائم کردے گی اور اس کے علاوہ بھارتیوں اور امریکیوں کو بھی خوش کردے گی۔

امکان نمبرتین۔۔۔ انہیں خوف تھا کہ میں ان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دوں گا۔ ان کے ساتھیوں نے، بشمول لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین ، ان کے اِس خوف اور ڈر کو مزید بڑھایا۔ اگر یہ بات تھی تو ان کے خیال میں وہ میرے وار سے پہلے اپنا وار کررہے تھے۔

جو بھی وجہ ہو، نوازشریف نے سیاسی خودکشی کا اِرتکاب کیا۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگرچہ نوازشریف کے لئے پہاڑ کی چوٹی سے کودنے کی کئی وجوہات تھیں، لیکن ان کی یہ خواہش کہ اگلے الیکشن کے وقت ایک فرمانبردارآرمی چیف ان کے ساتھ ہو، غالباً سب سے بڑی وجہ تھی۔ 

جمعرات، 2 جنوری، 2014

ساڑھے تین گھنٹے لگے۔۔۔ جوابی وار۔ جنرل پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس (چوتھی قسط)

ساڑھے تین گھنٹے لگے۔۔۔
جوابی وار۔


جوابی وار، کیونکہ اس سے زیادہ مناسب اور کوئی لفظ ہونہیں سکتا۔۔۔۔۔شام پانچ بجےٹیلی ویژن پر میری برطرفی کی خبر نشر ہونے کے بعد شروع ہوا اور یہ اُسی شام ساڑھےآٹھ بجے، جب لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد پرائم منسٹر ہاؤس میں داخل ہوئے اور نوازشریف کوحراست میں لے لیا، ختم ہوگیا۔۔۔ اس میں ساڑھے تین گھنٹے لگے۔

 پانج بجے کے فوراً بعد راولپنڈی، جہاں جی ایچ کیو ہے، اسلام آباد (جو راولپنڈی سے 15 کلومیٹر دُور ہے) کراچی اور لاہور کے شہروں میں فوج حرکت میں آئی اور بعد میں نواب شاہ، جہاں کے لئےمیرے جہاز کا راستہ تبدیل کیا گیاتھا۔ اسلام آباد میں کاروائی سب سے زیادہ ڈرامائی اور کشیدہ تھی۔ حالانکہ کراچی میں بھی کافی سنسنی خیز واقعات ہوئے۔ جوابی وار کے افسران اور جوانوں کا کئی دفعہ وار کرنے والے مسلح افراد سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرسامناہوا۔ یہ صرف اللہ تعالٰی کی مہربانی اور اُن کی حاضردماغی تھی کہ خون خرابہ نہیں ہوا۔

شام پانج بجے دفاتر بند ہوچکے تھےاورفوج کے اعلٰی افسران یا تو گھروں کو جاچکے تھے یا شام کی کھیلوں میں مصروف تھے۔ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمدعزیز خان اور کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل محمود، دونوں چکلالہ کے آرمی کلب میں، جو فوج کے ہیڈکوارٹر ز سے تقریباً تین میل دور ہے، ٹینس کھیل رہے تھے۔ دو کمانڈنگ افسران کرنل شاہد علی اور لیفٹیننٹ  کرنل جاوید سلطان، جو راولپنڈی کور کے انتہائی مستعد 111 بریگیڈ میں تھے، اسی کلب میں اسکواش کھیل رہے تھے۔ اس خبر کے سنتے ہی  اُن دونوں نے اپنا کھیل چھوڑدیا اور بھاگ کرٹینس کورٹ میں آئے تاکہ جنرل عزیز اور جنرل محمود کو یہ خبر دیں، لیکن وہ دونوں پہلے سے ہی یہ خبر سن کر ہیڈکوارٹرزجاچکے تھے۔

 ان کے پڑوسی کی بیوی اپنےمکان کے گیٹ پر مٹھائی تقسیم کررہی تھیں۔ 


ڈائریکٹرجرنل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم او) میجرجنرل شاہد عزیزگھر پہنچ کر بستر پر بیٹھے اپنے جوتوں کے تسمے کھول رہے تھے، جیسے ہی اُنہیں یہ خبر پہنچی، انہوں نےتسمے دوبارہ باندھےلئے اور فوراً ہیڈکوارٹرز چلے گئےاور جاتے جاتے اپنی بیوی سے کہا کہ "معلوم نہیں میں کب۔۔۔۔۔یا شاید واپس بھی آؤں گا۔ انہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگلے چند گھنٹے تلوار کی دھار پرگزارے جائیں گے، جیسے ہی ان کی گاڑی باہر نکلی، انہیں یہ دیکھ کر بہت برا لگا کہ ان کے پڑوسی کی بیوی اپنےمکان کے گیٹ پر مٹھائی تقسیم کررہی تھیں۔  یہ پڑوسی لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین ہی تھے۔ ان کی بیوی اپنے شوہر کی فوج کے اعلٰی ترین عہدے پر غیرقانونی ترقی کی خوشی منا رہی تھیں۔ عزیز خان، محمود اور شاہد عزیز کے دماغوں میں نوازشریف کی چال کو ناکام بنانےکے سلسلے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ بس بہت ہوچکا ۔۔۔۔۔۔وہ جوابی وار میں پیش پیش ہوں گے۔

وزیر اعظم نوازشریف کا ہاتھ خالی تھا۔


ذرا اس ڈرامے کے سب کرداروں اور اُن کے مجھ سے تعلق پر نظر ڈالیے۔ میں ان کا چیف ہونے کے علاوہ ، دونوں کمانڈروں شاہد علی اور جاویدسلطان کے ساتھ اسکواش کھیلتا تھا۔ محمدعزیز کا تقررمیں نے کیا تھا۔ راولپنڈی کور کے کمانڈر محمود احمد میرے رجمنٹل کمانڈنگ آفیسر رہے تھے، جب میں 1986ء میں آرٹلری بریگیڈکا انچارج تھا۔ ڈی جی ایم او میجر جنرل شاہدعزیز سے میری رشتہ داری ہے۔ 111 بریگیڈ کے کمانڈنٹ بریگیڈ یئر صلاح الدین ستی، جب میں بریگیڈیئر تھا، تب میرے بریگیڈمیجر ہوتے تھے۔ دوسرے شہروں یعنی لاہور اور کراچی کے افسران بھی جو جوابی وار میں انتہائی اہم تھے، ان کاتقرربھی میں نے ہی کیا تھا۔ صرف انتہائی اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جرنل ضیاء الدین نوازشریف کے نزدیک تھے لیکن ان کی ماتحتی میں سپاہی نہیں تھے۔ وزیر اعظم نوازشریف کا ہاتھ خالی تھا۔

ڈی جی ایم او یعنی شاہد عزیز کا عہدہ ایسا ہے جس کے احکامات پر فوج حرکت کرتی ہے کیونکہ ان کا حکم چیف کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح جوابی وار کی چالیں ان کے دفتر سے کنٹرول ہوئی تھیں، اور جلد ہی اس کی حالت جنگی حکمت عملی بنانے والے کمرے کی طرح ہوگئی۔ پہلا فیصلہ 111 بریگیڈ کو، جو راولپنڈی میں ہوتا ہے، کاروائی شروع کرنے کا حکم دینے کا تھا۔ ان دو کمانڈنگ افسروں کے، جو اسکواش کھیل رہے تھے،  فرائض میں وزیراعظم اور صدرکی رہائش گاہوں کی حفاظت بھی شامل تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی اوّل الذکرگھر کے ذمہ دار تھے اور لیفٹیننٹ کرنل جاوید سلطان آخرالذکر کے لئے۔ لیفٹیننٹ جنرل محموداحمدنے انہیں حکم دیا کہ وہ دونوں رہاہش گاہوں کا محاصرہ کرلیں اور کسی کو اندر آنے دیں اور نہ ہی باہر جانے دیں۔ انہوں نے جاوید سلطان کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ ٹیلی ویژن اور ریڈیواسٹیشنوں کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ یہ احکامات بھی صادر کردیئے گئے کہ جی ایچ کیو اور آرمی ہاؤس میں ، جو میری رہائش گاہ ہے، ضیاء الدین کو داخل نہ ہونے دیا جائے۔ میرے ضعیف والدین وہاں رہ رہے تھے اور کچھ بعید نہیں تھا کہ ضیاءالدین یا ان کے سٹاف میں سے کوئی وہاں پر جاکر انہیں غیرضروری طور پر پریشان کرتا۔

شاہد عزیز نے ہمارے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں سے تین کے کور ہیڈکوارٹرز کو ٹیلی فون کرنے شروع کئے۔ کراچی ، لاہور اور پشاور۔۔۔۔۔۔تاکہ وہا ں کی صورت حال معلوم ہوسکے۔ کوئٹہ کے کورکمانڈر طارق پرویز(TP) سے بات کرنا بے کار تھا، کیونکہ اس کی وفاداریاں کہیں اور تھیں، لیکن شاہد عزیز نے ان کے نائب کو ضرور ٹیلی فون کیا اور وہاں سے بتایا گیاکہ صورت حال ٹھیک ہے۔

لاہور، جو دارلحکومت سے تقریباً 270 میل دورہے، 4 کور (4 Corps) کا مسکن ہے۔یہ ایک اہم اور حساس شہر ہے، کیونکہ یہ پنجاب کا دارالحکومت ہے اور بھارت سرحد سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع اور بھارتی توپوں کے گولوں کی زد میں ہے۔ لاہور کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالدمقبول لاہور سے تقریباً 40 میل دور گوجرانوالہ میں تھے۔ان کی غیر موجودگی میں لاہورکے اعلٰی ترین آفیسر جنرل طارق مجید تھے۔ وہ اپنی لائبریری میں بیٹھے تھے کہ ان کی بیوی نے انہیں آواز دی کہ ٹیلی ویژن روم میں آئیں اور میری برطرفی کی خبر سنیں۔ انتہائی غصے میں انہوں نے ہیڈکوارٹر کو ٹیلی فون کیا اور شاہد عزیز سے احکامات مانگے۔ شاہد نے ان سے کہا کہ وہ پنجاب کے گورنر کو حراست میں لے لیں اور وزیر اعظم کے دونوں رہائشی مکانات، ٹیلی ویژن، ریڈیواسٹیشن، اور ہوائی اڈے کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ شہر میں داخلے اور خروج کے تمام راستوں کو محفوظ کرلیں۔ طارق مجید نے داخلی سیکورٹی بریگیڈ کے بریگیڈیئرکو بلایا اور اس کو احکامات جاری کردیئے۔

نوازشریف اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کرسکتے تھے۔


ساڑھے پانچ بحے تک لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی اور جاوید سلطان اسلام آباد کے راستے میں تھے۔ ان کو احکامات دیئے گئے تھے کہ وزیر اعظم اور ان کے چندخاص وزیروں اور ساتھیوں کو حراست میں لے لیں۔ جب وہ شاہراہ دستور پر، جوایک دو رویہ اور چوڑی سڑک ہے اور پرائم منسٹر ہاؤس اور ٹی وی اسٹیشن کی طرف جاتی ہے، پہنچے تو انہیں وہاں مسلح پولیس بڑی تعداد میں نظر آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ مجمع کا سامنا کرنے کے لئے وہاں پر ہیں۔ وہاں بکتر بند پرسنل کیریئر اور تین ٹرٹ کارجن کی چھتیں کھولی جاسکتی ہیں، کھڑی تھیں اور ان کے عملے کے سر چھتوں سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ غیردوستانہ اور انجانی گاڑیوں کو آہستہ کرنے اور حسّاس  عمارتوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سڑک  پر سیمنٹ کے بلاک اور آہنی رُکاوٹیں رکھ دی گئی تھیں۔ طاقت کا یہ مظاہرہ کافی ڈرا دینے والا تھاجو عموماً کسی کو بھی واپس جانے پر آمادہ کردے گا یا کم از کم اسے سوچنے پر مجبور کردے گا۔ نوازشریف اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ فوج کے دستے ان کے زیر حکم تو تھے نہیں۔ جب پولیس نے اُنہیں روکنے کی کوشش نہیں کی اور وہ ان کے راستے سے ہٹ گئے تو شاہد علی اور جاوید سلطان کو کافی حیرت ہوئی۔ پولیس نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ ان کمانڈنگ افسروں اور اُن کے سپاہیوں کو پکڑبھی لیتے ، تب بھی وہ بعد میں آنے والی کہیں زیادہ طاقتورفوج کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ شاید وہ بھی نوازشریف کے طرزِحکمرانی سے نالاں تھے۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)

جمعہ، 16 اگست، 2013

صرف ایک ہی فوج ہے۔۔۔۔۔۔۔پاکستان آرمی!! کتاب سب سے پہلے پاکستان سے اقتباس - تیسرا حصہ

ابوظہبی کی پرواز کے دوران سازش کی نوک پلک درست کی گئی تھی۔


شک و شُبے اور رازداری میں نوازشریف اتنے مبتلا ہوگئے تھے کہ لاہور آنے کے ایک دن بعد وہ اپنے بیٹے اور چندقریبی دوستوں کے ہمراہ آپس میں مذا کرات کرنے کے لئے محفوظ مقام کی تلاش میں ابو ظہبی چلے گئے (تاریخ 10 اکتوبر تھی)۔ لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین بھی غیرفوجی لباس میں ان کے ساتھ تھے۔ ضیاء پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور اس وقت وہ نہ صرف لیفٹیننٹ جنرل بالکہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹرجنرل بھی تھے۔ وہ وزیراعظم کے بہت قریب تھے اور نوازشریف انہیں فوج کی سربراہی سپرد کرنے کےلئے آمادہ تھے۔ ابوظہبی کی اس پرواز پر نوازشریف کے تقریرنویس اور پاکستان ٹیلی ویژن کے چیئرمین، جو نیشنل اسمبلی کے ممبربھی تھے، اُن کے ہمراہ تھے۔ مجھے برطرف کرنے کا فیصلہ تو کرہی لیاگیاتھا۔ لیکن ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ابوظہبی کی پرواز کے دوران اس سازش کی نوک پلک درست کی گئی تھی۔

وزیراعظم کے بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ خاموشی سے اپنا کام کریں اور کسی سے کوئی بات نہ کریں۔


اُسی روز متحدہ عرب امارات کے مرحوم صدر اور ابوظہبی کے امیرشیخ زیدبن سلطان النہیان اور شہزادہ ولی عہد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا کریہ لوگ واپس اسلام آباد آگئے۔ 12 اکتوبر کی صبح نوازشریف ہوائی جہاز سے ملتان گئےاوروہاں سے اس کے قریب ایک چھوٹے شہرشجاع آباد ایک جلسے میں شرکت کے لئے گئے۔ وہاں جا کر غالباً نواز شریف یہ دکھانا چاہ رہے تھے کہ یہ روزمرہ کے معمول کا ایک دن تھااور میری اچانک اور اس تیزی سے برخاست کئے جانے کی وجہ یہی ہوسکتی تھی کہ اُنہیں ایسی خبر ملی تھی کہ میں حکومت کے خلاف کوئی اقدام کرنے والاتھا۔ حقیقتاً، شجاع آباد جانے کا مقصد اصل چیزوں پر پردہ ڈالناتھا۔ وہ اپنے ساتھ اپنے ایک بیٹے کو اور تقریرنویس کو ساتھ لےگئے تھے۔ ان کے بیٹے نے تقریرنویس کو تقریر میں شامل کرنے کےلئے کچھ باتیں بتائیں اور ان سے کہا کہ دوسرے لوگوں کی غیرموجودگی میں، جو شجاع آباد گئے ہوئے تھے، وہ ملتان میں کھڑے ہوئے جہازمیں بیٹھ کرتقریر لکھناشروع کردیں۔ جب تقریرنویس نے وہ پوائنٹس دیکھے تو کہا کہ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جنرل مشرف برطرف ہونے والے ہیں۔ وزیراعظم کے بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ خاموشی سے اپنا کام کریں اور کسی سے کوئی بات نہ کریں۔

وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو یہ امید تھی کہ جب میں فوج کی پہنچ سے دورہوں گاتو وہ آسانی سے مجھے برخاست کردیں گے، لیکن میری پرواز کی دوہری تاخیروں کی وجہ سے تمام حالات بدل گئے۔ انہیں اصل پلان کو تبدیل کرنا پڑا اور غالباً وہ یہ واحد فیصلہ کرسکے کہ میرے ہوائی جہاز کو پاکستان میں اترنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ انہوں نے اپنے آپ کو یہ باورکرایا کہ بغیرچیف کے، فوج خاموشی سے اس سازش کو برداشت کرلےگی۔

درحقیقت انہوں نے سیاسی خودکشی کے راستے کا انتخاب کرلیاتھا۔


جس وقت نوازشریف، شجاع آباد کے جلسئہ عام میں شریک تھے، اس وقت ان کے پاس ایک ٹیلی فون کال آئی۔ آج تک مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ وہ ٹیلی فون کس نے کیاتھا اور وزیراعظم سے کیاکہاتھا، نتیجتاً نوازشریف فوری طور پر جلسئہ عام چھوڑ کر اسلام آباد جانے کے لئے بہت عجلت میں ملتان آئے۔ میں باربارسوچتاہوں کہ یہ ایک سوچاسمجھا ڈرامہ تھاتاکہ بعد میں یہ دعوٰی کیا جاسکے کہ اس ٹیلی فون سے اُنہیں میرے حکومت کے الٹنے کے خیالی پلان سے الرٹ کیاگیاتھا۔ انہوں نے سیکرٹری دفاع اور اپنے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کو چکلالہ ایئربیس پرتین بجے، جوان کی آمد کا وقت تھا، طلب کیا۔ وہ اپنی طاقت کو تقویت دے رہے تھے لیکن ان کی سمجھ میں یہ نہیں آیا تھا کہ درحقیقت وہی طاقت انہیں چھوڑنے والی ہے۔ ایساان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو طاقت کے رموز، اس کے داؤپیچ اور حدیں نہیں سمجھتے۔ جب انہوں نے ملتان سے اسلام آباد کےلئے سفرشروع کیاتودرحقیقت انہوں نے سیاسی خودکشی کے راستے کا انتخاب کرلیاتھا۔

نوازشریف نے سیکرٹری دفاع کی ران پر ہاتھ مارا اور غصے میں کہا کہ ''تم بزدل ہو''۔


جب تین بجے شام کو نوازشریف، اسلام آباد میں اترے توانہوں نے سیکرٹری دفاع سے اپنی گاڑی میں وزیراعظم ہاؤس، جو ہوائی اڈے (جب سڑکیں خالی ہوں تب بھی) تقریباً بیس منٹ کے فاصلے پر ہے، چلنے کو کہا۔ راستے میں انہوں نے سیکرٹری دفاع کو بتایا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک علانیہ جاری کیا جائے کہ جنرل پرویز مشرف کو برخاست کردیاگیاہے اور لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو اُن کی جگہ مقررکیاگیا ہے۔ سیکرٹری دفاع ان سے باربار پوچھتے رہے کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں، کیونکہ وہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک لیفٹیننٹ جنرل تھے اور سابق چیف آف جنرل سٹاف بھی۔ وہ فوج کے نبض شناس تھے۔ انہوں نے وزیراعظم کو نصیحت کی کہ دوبارہ ایک غیرآئینی طریقے سے چیف کے برخاست ہونے کا فوج کے مورال پر بہت بُرا اثرپڑےگا۔ لیکن وزیراعظم مُصررہے اور اصرار کیا کہ ان کے احکامات فوراً بجالائےجائیں۔

جب وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو سیکرٹری دفاع نے نوازشریف سے کہا کہ یہ ایک انتہائی نازک معاملہ ہے اور وہ اس قسم کا نوٹیفیکیشن یا علانیہ بغیر تحریری احکامات کے جاری نہیں کرسکتےتھے۔ نوازشریف نے ان کی ران پر ہاتھ مارا اور غصے میں کہا کہ ''تم بزدل ہو''۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہی مہدی نوازشریف سے ملے اور نوازشریف نے ازراہِ مذاق ان سےکہا کہ سیکرٹری دفاع کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ اس کے بعد سیکرٹری دفاع کو ایک دوسرے کمرے میں انتظار کرنے کو کہاگیا۔

بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ بولیں اور وہ خود اسے لکھےگا۔


ملتان سے جب ہوائی جہاز نے پرواز شروع کی تو نوازشریف کے بیٹے نے تقریرنویس کو تقریر لکھنے سے روک دیاتھا تاکہ ان کے ساتھیوں میں سے کوئی یہ محسوس نہ کرسکے کہ وہ کیا کررہے تھے۔ لیکن جب وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو بیٹے نے تقریرنویس کو پیچھے کے لان میں بٹھادیا اور کہا کہ وہ تقریرمکمل کرلیں۔ جلد ہی چیئرمین پی ٹی وی ان کی مدد کےلئے آگئے لیکن اس سے قبل کے وہ اپنا کام شروع کرتے، چیئرمین سے کہاگیا کہ وہ اسلام آباد ٹی وی سٹیشن فوراً پہنچ جائیں۔ تنہائی میں تقریرنویس نے نوازشریف کے بیٹے سے کہا کہ وہ اس قسم کی تقریر اس طرح نہیں لکھ سکتے، بہتر یہ ہے کہ وہ بولیں اور کوئی اور لکھے۔ بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ بولیں اور وہ خود اسے لکھےگا۔

صدر نے اس حکم نامے پر صرف ایک لفظ لکھا ''SEEN'' یعنی ''دیکھ لیا''۔


وزیراعظم ملٹری سیکرٹری اور سعیدمہدی کوساتھ لے کر اپنے آفس چلےگئے۔ جیسے ہی وہ وہاں پہنچے، ملٹری سیکرٹری نے تمام فون منقطع کردیئے تاکہ ٹیلی فون میں اگر کوئی الیکٹرانک جاسوسی آلہ بھی لگا ہو تو کوئی اور اسے سن نہ سکے۔ اس کے بعد وزیراعظم نے ملٹری سیکرٹری سے کہا کہ وہ میرے پیش رو چیف جنرل جہانگیرکرامت کے ہٹنے کے وقت پر جاری ہونے والا حکم نامہ لکھیں، اس پر تاریخ بدلیں اور اس پر جو نام ہو، اس کی جگہ پر میرا نام لکھیں اور جہاں میرا نام ہے، وہاں لیفیٹننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کا نام لکھیں اور دستخط کے لئے ان کے پاس لائیں۔

وزیر اعظم نے اس کے بعد پوچھا آیا اُنہیں تقریر کرنی چاہئے؟ ان کے ملٹری سیکرٹری نے کہا کہ انہیں قوم کے سامنے اپنے اس فعل کی وضاحت کرنی چاہئے لیکن مہدی نے اس کے خلاف رائے دی۔ نوازشریف نے جھنجھلا کرمہدی سے کہا کہ وہ جائیں اور برخاست کرنے کا حکم نامہ تیارکرکے لے آئیں تاکہ وہ سیکرٹری دفاع کو دیا جاسکے۔ جیسے ہی حکم نامہ تیار ہوا، وزیراعظم نے اس پر دستخط کئے اور خود اسے صدر کے پاس لے گئے۔ ایوان صدر وہاں سے دوتین منٹ کے فاصلے پر ہے۔ صدر نے اس حکم نامے پر صرف ایک لفظ لکھا ''SEEN'' یعنی ''دیکھ لیا''۔ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے نوازشریف نے صدر کے دفتر کی حیثیت رسمی کردی تھی، سوائے اس کے کہ کچھ احکامات اب بھی ایسے ضرور تھے، جس کے اجرا سے پہلے صدر کے دستخط ضروری تھے۔

''سر! آپ تو جنرل ہوگئے، لیکن میری تنزلی ہوکر میں تو صرف کرنل رہ گیاہوں''۔


اُدھر وزیراعظم ہاؤس میں ٹیلی ویژن کیمرے نوازشریف کا انتظار کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے ملٹری سیکرٹری کی یونیفارم سے دو پیتل کے بلّے، جو ایک بریگیڈیئر کی وردی پر ہوتے ہیں، اتارے اور لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین کے کندھوں پر لگا کر انہیں پورا جنرل اور چیف آف دی آرمی سٹاف بنادیا۔ وہ سب چیزوں کو نمٹانے کے لئے اتنی جلدی میں تھے کہ انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے بلّے لگائے تاکہ انہیں ٹیلی ویژن پر دکھایا جاسکے۔ ملٹری سیکرٹری نے ضیاء سے ازراہِ مذاق کہا: ''سر! آپ تو جنرل ہوگئے، لیکن میری تنزلی ہوکر میں تو صرف کرنل رہ گیاہوں''۔

نوازشریف کے حمایتی انتہائی خوش تھے کہ انہوں نے ایک اور آرمی چیف کو ٹھکانے لگادیا۔


تنہائی میں بیٹھے اور اپنے خیالات میں گُم، سیکرٹری دفاع سخت ہیجان میں تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ وزیراعظم نے بہت خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے ہیجان میں اس چیز سے بھی اضافہ ہوا کہ وہ سگریٹ نوشی کے عادی تھے، لیکن جس کمرے میں انہیں بٹھایا گیا، وہاں سیگریٹ نوشی کی ممانعت تھی۔ اس حکم کے باوجود کہ وہیں بیٹھے رہیں، وہ کمرے سے باہر سگریٹ نوشی کے لئے جگہ تلاش کرنے نکل گئے۔ پہلے وہ ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کے کمرے میں گئے، لیکن وہ خالی تھاپھر وہ ملٹری سیکرٹری کے دفتر کی طرف چلے۔ راستے میں انہوں نے چندلوگوں کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا، جن میں ضیاء الدین، ملٹری سیکرٹری اور سعید مہدی شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ضیاء الدین کی وردی پر پورے جنرل کے اور آرمی چیف کے بلّے لگے ہوئے ہیں۔

یہ سب افراد ملٹری سیکرٹری کے کمرے میں شام پانچ بجے ٹیلی ویژن پر اردوخبریں سننے کے لئے جمع تھے۔ جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ جنرل پرویزمشرف کو برخاست کردیاگیا ہے اور ''جنرل'' ضیاء الدین بٹ کو نیا چیف آف آرمی سٹاف مقررکیاگیاہے۔ ضیاء آگے بڑھے اور کمرے میں موجود سب لوگوں سے مع سیکرٹری دفاع، ہاتھ ملانا اور مبارکبادیں وصول کرنی شروع کردیں، لیکن سیکرٹری دفاع کو یہ بھی معلوم تھا کہ انہوں نے کسی علانیہ کا اجرا نہیں کیا ہے اور اس خبر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ٹیلی فون بجنے لگے۔ نوازشریف کے حمایتی انتہائی خوش تھے کہ انہوں نے ایک اور آرمی چیف کو ٹھکانے لگادیا۔ سوچ سمجھ رکھنے والوں نے محتاظ رہنے کی رائے دی۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ آیا فوج ایک اور ہتک برداشت کرنے کی تاب رکھتی ہے۔ انہیں یہ بالکل معلوم نہیں تھا کہ صورت حال مزید کتنی ابترہونے والی ہے۔

صرف ایک ہی فوج ہے۔۔۔۔۔۔۔پاکستان آرمی!!


ٹیلی ویژن پر خبروں کی نشریات کے فوراً بعد سعید مہدی نے سیکرٹری دفاع کو میرے برخاست کرنے کا حکم نامہ دے دیا اور ان سے کہا کہ وہ فوری طور پر وزارت دفاع راولپنڈی میں اپنے آفس جائیں اور وہاں سے علانیہ کا اجرا کریں تاکہ میرے ہٹائے جانے اور ضیاءالدین کی تقرری کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے۔ سیکرٹری دفاع کو یاد ہے کہ جب وہ اپنی کار کی طرف جارہے تھے تو ان کے بھائی، جو نوازشریف کے کابینہ میں وزیر تھے، اور شہبازشریف، انتہائی ذہنی انتشار کی حالت میں جلدی جلدی آئے اور کہنے لگے: ''کیا ہوگیا، تم نے یہ کیا کردیا، یہ انتہائی تباہ کن ہے''۔ سیکرٹری دفاع نے کہاانہوں نے کچھ نہیں کیا۔ اگر ان کا یہ کہنا درست ہے تو یا وہ نوازشریف کی سازش سے بالکل آگاہ نہیں تھے، یا بہانہ بنارہے تھے، یا ممکن ہے کہ سیکرٹری دفاع نے اپنے بھائی کو بچانے کے لئے یہ کہانی بنائی ہو۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ آج تک مجھے کوئی نہیں ملا، جو یہ قبول کرے کہ اسے نوازشریف کے منصوبے کا علم تھا یا اس سے کوئی تعلق تھا۔

وزارت دفاع پہنچنے میں تیس منٹ لگے، جیسے ہی سیکرٹری دفاع راولپنڈی کے ''فلیش مین ہوٹل'' کے قریب پہنچے، ان کے موبائل فون پر شہبازشریف کا فون آیا کہ '' کچھ سپاہیوں نے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے بن کردیئے ہیں، یہ کون سی فوج ہے؟ شہبازشریف نے پوچھا۔ سیکرٹری دفاع فوراً سمجھ گئے کہ فوج کا ردعمل شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ''صرف ایک ہی فوج ہے۔۔۔۔۔۔۔پاکستان آرمی!!''

(سابق صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کی تصنیف ''سب سے پہلے پاکستان'' سے اقتباس)

(جاری ہے)

بدھ، 7 اگست، 2013

سازش، سازش اور سازش ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے پاکستان سے اقتباس - دوسرا حصہ

سابق صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کی تصنیف ''سب سے پہلے پاکستان'' سے اقتباس


چند روز بعد راولپنڈی میں وزیراعظم کے چھوٹے بھائی شہبازشریف، جو پنجاب کے وزیر اعلٰی تھے، کارگل کے بعد میرے اور اپنے بھائی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے سلسلے میں مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے بھائی کو دو چیزیں بتادیں:

پہلی یہ کہ جب تک میری مدت پوری نہیں ہوجاتی ہے، میں موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کو چھوڑ کر چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کو قبول نہیں کروں گا، اور جہاں تک میرا تعلق تھا، وہ بحریہ یا فضائیہ سے کسی اور کو چیئرمین JCSC بناسکتے تھے۔

دوسرا یہ کہ میں کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کی سبکدوشی کی سفارش کرنے والا تھا۔ وہ فوج کے نظم وضبط کے مطابق نہیں چل رہے تھے اور مجھے ان کی فوج کے اندر نفاق ڈالنے کی پکی اور مستند اطلاع تھی۔ مجھے یہ بھی شُبہ تھا کہ وہ میرے خلاف سازش کررہے ہیں۔ دِقّت یہ تھی کہ TP جس نام سے وہ فوج میں جانے جاتے تھے، نوازشریف کے ایک وزیر کے برادرِنسبتی تھے اور اپنے عزیر کے اثرورسوخ کی بدولت فوج کے اعلٰی افسروں میں قبل ازوقت ردوبدل کی کوشش کررہے تھے تاکہ آئندہ ان کی ترقی کے مواقع بہترہوجائیں۔

شہباز نے کہا کہ ''مجھے ایک دن دیں''۔


اگلے دن میں بحریہ کے چیف ایڈمرل بخاری کے ہاں وزیراعظم کے ساتھ ظہرانے پر مدعوتھا۔ وزیراعظم مجھے ایک طرف لے گئے اور کہا کہ ''میں تمہیں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بھی بنارہاہوں، اب تو تم خوش ہو''۔ میں نے کہا کہ ہاں، کیونکہ میں آرمی چیف کے عہدے پر بھی برقرار تھا، لیکن میں نے ان سے کہا کہ TP کا جانا ضروری ہے اور میں اُن کی سبکدوشی کی سفارش کررہا ہوں کیونکہ وہ فوجی نظم ونسق خراب کررہے ہیں۔ نوازشریف نے کچھ ایسا اظہار کیا، جیسے وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ TP کون ہیں۔۔۔۔۔حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ بہانہ بنارہے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے ریٹائر کرنے سے اتفاق کیا۔ بعد میں جب میں نے TP کو ہٹادینے کے کاغذات وزیراعظم کو بھیجے تو انہوں نے فوری طورپراس کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے 12 ا کتوبر کو جو کچھ کیا، وہ ایسا تھا جیسے گھات لگا کرکیا ہو۔



اس سے قبل وزیراعظم نے مجھے اور میری بیوی کو اگست 1999ء کے مہینے میں اپنے اور اپنی بیوی کے ہمراہ عمرے پر جانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور سے علٰی الصبح چلیں گے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ایک دن پہلے شام کو لاہور پہنچ جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ہم ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ ان کی رائے ونڈ کی نئی رہائش گاہ پر رات کا کھانا کھائیں۔ جب میں اُس وقت کا سوچتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ وہ سب کا سب ایک طے شدہ منصوبے کا تحت تھا۔ اُنہیں معلوم تھا کہ میں مکہ معظمہ جانے کے موقع سے انکار نہیں کروں گااور علٰی الصبح روانگی کی وجہ سے شام ہی کو لاہور پہنچوں گا اور جب انہوں نے مجھے رات کےکھانے کی دعوت دی تو میں اُس سے انکار کرہی نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھے اطمینان کا مصنوعی احساس دلانے کی کوشش کررہے تھے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان اقدامات نہیں کام کیا کیونکہ وزیراعظم نے 12 ا کتوبر کو جو کچھ کیا، وہ ایسا تھا جیسے گھات لگا کرکیا ہو۔

ان کا رویّہ بیٹوں کی بجائے درباریوں کی طرح زیادہ تھا۔


رات کے کھانے کی میزپر صدرمقام پر خاندان کے بزرگ یعنی وزیراعظم کے والد جو ''اباجی'' کہہ کربھی جانے جاتے ہیں، نشست فرماتھے۔ ہمارے ساتھ نوازشریف کے چھوٹے بھائی شہبازشریف بھی کھانے میں شریک تھے۔ کھانے کے دوران ''اباجی'' اپنی زندگی کے تجربات کے بارے میں بغیر کسی مداخلت کے بولتے رہے۔ دونوں بیٹوں میں سے کوئی بھی اپنی رائے دینے کے لئے بیچ میں بولنے کی ہمت نہیں کرسکتاتھا۔ بزرگوں کی عزت ایشائی تہذیب کا ایک انتہائی قابل تعریف حصہ ہے لیکن یہ کوئی معمولی بیٹے نہیں تھے، ایک وزیراعظم تھااوردوسراوزیراعلٰی، لیکن ''اباجی'' کی شخصیت اتنی بارُعب تھی کہ نواز اور شہباز دونوں خاموشی سے میزپربیٹھے رہے جیسے چھوٹے بچے والد کے سامنے فرمانبرداری سے بیٹھتے ہیں اور صرف اسی وقت بولتے ہیں، جب ''اباجی'' کو کوئی بات یاد دلانی مقصود ہو۔ ان کاپورا مقصد ''اباجی'' کو خوش رکھناتھا۔ ان کا رویّہ بیٹوں کی بجائے درباریوں کی طرح زیادہ تھا۔ اس میں کوئی شُبہ ہی نہیں ہے کہ خاندان میں اصل فیصلہ کرنے والے ''اباجی'' ہی تھے۔

کھانے کے بعد ''اباجی'' میری طرف مُڑے اور باآواز بلندکہا: ''تم بھی میرے بیٹے ہواور میرے یہ دونوں بیٹے تمہارے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرسکتے، اگر یہ ایسا کریں گے تو مجھے جوابدہ ہوں گے۔'' میں انتہائی شرمندہ ہوں، لیکن یہ ان کا طریقہ تھا۔ نوازشریف کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح کسی قسم کے تاثرات نہیں تھے۔ یہ بھی بعد میں ثابت ہوا کہ ''اباجی'' کے ساتھ کھانہ بھی ایک کھیل اور چال تھی۔ بزرگ نے پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ ان کابیٹا مجھے برخاست کرے گا۔ انہوں نے بعد میں کچھ لوگوں سے کہا کہ انہیں میری نظروں کا انداز اچھا نہیں لگاتھا۔

وزیراعظم کویہ یقین دلا کرپاگل بنارہے تھے کہ میں ان کے خلاف سازش کررہا ہوں۔


9 اکتوبر1999ء کو جب میں کولمبو میں تھا، ایک انگریزی اخبار میں یہ خبرچھپی کہ کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹننٹ جنرل طارق پرویز المعروف TP کو اس (واہیات) وجہ سے برخاست کردیاگیاہے کہ وہ میری اجازت کے بغیروزیراعظم سے ملےتھے۔ ظاہرہے کہ یہ خبراُنہی لوگوں نے لگوائی تھی، جو وزیراعظم کویہ یقین دلا کرپاگل بنارہے تھے کہ میں ان کے خلاف سازش کررہا ہوں۔ آج بھی مجھے TP پر شُبہ ہے، عین ممکن ہے کہ وہ مجھے اس وجہ سے برخاست کرانا چاہتے تھے کہ ان کی سبکدوشی کا فیصلہ واپس لے لیاجائے۔ وہ میری اس پرواز سے چنددن پہلے سبکدوش ہونے والے تھے، لیکن میرے کولمبوجانے سے پہلے وہ میرے پاس آئے اور درخواست کی اُنہیں 13 اکتوبرتک مہلت دے دی جائے تاکہ وہ اپنی الوداعی دعوتوں میں شرکت کرسکیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے اُنہیں سبکدوش کئے جانے کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں تھی اور یہ کہ میں چیف تھا اور ایک سپاہی کی حیثیت سے انہیں میرا فیصلہ قبول ہے۔ آیا یہ درخواست انہوں نے اپنے لئے اتنی مہلت پیدا کرنے کے لئے کی تھی تا کہ وہ میرے خلاف سازش کی تکمیل کرسکیں؟ ان کے برادرِنسبتی وزیراعظم کی کابینہ میں وزیر تھے اور TP اپنے آپ کو میری جگہ موزوں اور اہل سمجھتے تھے۔ انہوں نے یہ منصوبہ تقریباً افشا کردیا، جب راولپنڈی کے ایک کثیرالاشاعت اردواخبارمیں خبرچھپی کہ TP نے بیان دیا ہے کہ چنددنوں میں، میں اپنی وردی اتارنے کے بعد، وہ پرویزمشرف اوران کے کارگل میں کردار کے بارے میں راز افشا کریں گے۔ یہ بیان ان کا کورٹ مارشل کراسکتاتھا۔

TP کی قبل از وقت سبکدوشی کی خبر نے، جو 9 اکتوبر کےاخباروں میں شائع ہوئی، نوازشریف کو بہت پریشان کیااور انہوں نے میرے ترجمان پر زوردیا کہ وہ میری طرف سے اس کی تردید شائع کرے۔ ترجمان نے کہا کہ وہ میری اجازت کے بغیرایسی تردید اخباروں کو نہیں دے سکتا اور میں کولمبومیں تھا۔ وزیراعظم اس بات سے سخت برہم ہوئےکیونکہ ان کے خیال میں ان کی درخواست پر فوراً عمل ہونا چاہئے تھا، چاہے میں ملک میں ہوں یا نہیں۔ اُنہیں اس میں اپنی سبکی محسوس ہوئی اور کہا کہ میری واپسی پر مجھ سے بات کریں گے۔ میرے ترجمان نے ضابطے کے مطابق کام کیا تھا۔ میری غیرموجودگی میں وزیراعظم نے وزارتِ دفاع سے ایک وضاعت کے اجرا کے لئے کہا، جسے وزارت دفاع نے کردیا جو صحیح طریقئہ کارتھا۔

سعیدمہدی نے مجھے بعد میں بتایا کہ اس فائل میں TP کی وزیراعظم سےملنے کے لئے درخواست تھی۔


اس شام وزیراعظم لاہورجانے والے تھے۔ ان کی روانگی سے تھوڑا پہلے TP کے برادرنسبتی وزیر، جو اپنا غیرملکی دورہ چھوڑ کرجلدی میں پاکستان واپس آئے تھے، آ کر وزیراعظم سے ملےاورانہیں ایک فائل دی۔ جیسے ہی وہ کمرے سے باہر آئے تو وزیرنے، جو وزیراعظم کے پیچھے چل رہے تھے، انگوٹھا ہوا میں لہرا کر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعیدمہدی کو، جو لابی میں انتظارکررہے تھے، اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سب ٹھیک ہے۔جب نوازشریف اپنے ہیلی کاپٹر میں سوارہونے والے تھے، انہوں نے بغیرسرموڑے سعید مہدی سے پوچھا کہ جنرل ضیاءالدین کب ریٹائرہونے والے ہیں؟ سعید مہدی نے جواب دیا کہ انہیں صحیح تاریخ معلوم نہیں، وہ معلوم کرکے بتائیں گے، لیکن ان کے خیال میں اگلے سال اپریل میں کسی وقت۔وزیراعظم نے سعیدمہدی کو وہ فائل دی اور کہا کہ اس فائل کو وہ وزارت دفاع پہنچادیں۔ مہدی نے پوچھا کہ کیا وہ فائل پڑھ سکتے ہیں؟ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں معلوم ہے وہ ضرور پڑھیں گے کیونکہ آخر وہ انسان ہی ہیں۔ سعیدمہدی نے مجھے بعد میں بتایا کہ اس فائل میں TP کی وزیراعظم سےملنے کے لئے درخواست تھی۔ یہ عجیب بات تھی، کیونکہ لیفٹننٹ جنرل، اگر وہ کورکمانڈر ہیں، تو بھی اپنی ریٹائرمنٹ پر وزیراعظم سے الوداعی ملاقات کے لئے نہیں جاتے ہیں۔

سعید مہدی نے بھی وزیراعظم کو ایک فائل دی۔ جب وزیراعظم نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ تو مہدی نے کہا کہ انہوں نے رات بھرجاگ کر ایک نوٹ لکھا ہے اوردرخواست کی کہ وہ اِسے راستے میں پڑھیں۔ سعید مہدی کایہ کہنا تھا کہ اس نوٹ میں انہوں نے یہ لکھاتھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ وزیراعظم کی سوچ کس طرف جارہی ہے اور انہیں یہ انتباہ بھی کیا تھا وہ غلط رائے قبول نہ کریں اور بہت محتاط رہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی رائے دی تھی کہ اس سے قبل کہ وہ انتہائی قدم اٹھائیں، انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم دونوں کے خاندان کا رابطہ زیادہ ہوتاکہ مجھے بہترطریقے سے جان سکیں، لیکن نوازشریف کا خوف اور ڈر اس حد تک پہنچ چکاتھا کہ کوئی بھی مفید نصیحت ان کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی۔

(جاری ہے)