منگل, اپریل 21, 2009

مردانہ طاقت کا طوفان

میں نے تقریبا سات آٹھ سال ہوگئے ہیں پنجابی مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھنا چھوڑ دیئے ہیں ( ہاں جن ڈراموں میں سہیل احمد ہوتے ہیں وہ دیکھ لیتا ہوں) پچھلے ہفتے ایک دوست کےہاں گیاتھا وہاں ایک پنجابی ڈرامہ لگا تھاجس پر نظر پڑتے ہی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ ڈرامہ تو بکواس تھالیکن ڈرامے سے زیادہ میری توجہ سکرین پر پٹی کی صورت میں جو اشتہار آرہا تھا اس پر تھی جس کو پڑتے ہوئے ڈرامے کے اداکاروں کی جگت بازی پر ہسنے کے بجائے آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

مجھے ہمیشہ سے طنزومزاح سے عشق کی حد تک لگن رہی ہے حالانکہ میں خود نہ مزاح کرسکتا ہوں اور نہ برداشت کرسکتا ہوں لیکن ایک عجیب سی ناقابل بیان لذت پاتا ہوں جب بھی طنزومزاح کتاب کی صورت پڑھوں یا ٹی وی، فلم اور سٹیج شو کی صورت میں دیکھوں۔

یہ شاید سال1995 تھاجب مجھے پنجابی سٹیج ڈراموں کی بقول “کسی“ کےلت لگی تھی حالانکہ اس وقت مجھے پنجابی کی سمجھ "تینوں تے مینوں" سے زیادہ نہیں تھی۔ اس سے پہلے میں عمرشریف اور معین اختر کے اردو ٹی وی اور سٹیج مزاخیہ ڈراموں کا عاشق تھا۔ اُن کے سٹیج ڈرامے "بڈھاگھر پر ہے" "بکرا قسطوں پے" اور "ہم سا ہوتو سامنے آئے" اردومزاخیہ سٹیج ڈراموں کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن پھر عمر شریف فلموں کی طرف چلے گئے اور انہوں نےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کوکچھ عرصےکےلیے خیرباد کہہ دیا۔

میں عمر شریف کےمزاخیہ سٹیج ڈراموں کادیوانہ ہوگیا تھااسی لیے جب بھی فلم لینے بازار جاتا میرا پہلا سوال دکاندار سے ہوتا " عمرشریف کا نیا ڈرامہ آیا ہے؟" حالانکہ مجھے اخبارجہاں کے وساطت سے پہلے ہی معلوم ہوتا کہ اُس کا جواب نفی میں ہوگا۔

ایک دن حصب معمول میری اینٹری دکان میں مندرجہ بالا سوال کے ساتھ ہوئی لیکن اُس دن دکاندار جوخاموش اور سنجیدہ طبیت والا بندہ تھا، کے بجائےاُسکا چھوٹا بھائی جو ہروقت گپیں مارنے والاہنس مکھ قسم کابندہ تھا بیٹھاہوا تھا، اُسنے جواب دیا ہاں!! اور وی سی آر کی کیسٹ ہاتھ میں پکڑا دی جس پر لکھا ہوا تھا "کنگلے پروڑنے" (کچھ ایسے ہی تھا لیکن صحیح املاء یاد نہیں)

میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ چیک کرکے دکھاؤ!! میرا پہلا گمان یہی تھا کہ یہ شرارت کررہا ہے۔ اُس نے کہا "تم عمرشریف دیکھنا چاہتے ہو یامزاخیہ سٹیج ڈرامہ؟" "ظاہر ہے ڈرامہ" میں نے کہا،

“گھر جاؤ اور اس کو دیکھو، عمرشریف بھول جاؤگے" اس نے کہا

وہ ڈرامہ میں گھر لےآیا وی سی آر میں لگایا اور جیسے ہی سہیل احمد اور امان اللہ کے ناموں پر نظر پڑی تو کچھ دلچسپی پیدا ہوئی (سہیل احمد کو پہلی بار پی ٹی وی کے "دن" ڈرامہ میں دیکھا تھا. اور امان اللہ کو ایک دبئی سٹیج شو میں) اور پھر جیسے جیسے ڈرامہ دیکھتاگیا، سہیل احمد اور امان اللہ کا دیوانہ ہوتاگیا۔

اسکے بعد میں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ہر وہ ڈرامہ دو دو تین تین بار دیکھا جس میں سہیل احمد اور امان اللہ ہوتے تھے، حالانکہ جیسے میں نے پہلے کہا ہے میری پنجابی کی سمجھ نہ ہونے کے برابر تھی، میری مادری زبان پشتوہے لیکن پھر بھی کیونکہ پرائمری سکول اردو میڈیم تھااور پھر بچپن کے دوست ہندکو بولنے والے تھے اور یہاں ہانگ کانگ میں پنجابیوں کے ساتھ سلام دعا زیادہ ہے، کم از کم سہیل احمد کی باتیں سمجھ میں آسانی سے آجاتیں، پھر آہستہ آہستہ امان اللہ اور باقیوں کے لہجے سے بھی مانوس ہوگیا۔

1995 سے اب تک میں نےسہیل احمد کے امان اللہ اور بعد میں مستانہ، جاوید، قوی خان، امانت چن اور افتخار ٹھاکروغیرہ وغیرہ کے ساتھ لاتعداد بہترین اوراعلٰی معیار کے مزاخیہ سٹیج ڈرامے دیکھے ہیں جن میں کوئی " double meaning" اور فحش جگت بازی اور نام نہاد ناچ گانانہیں ہوتا تھا۔ سہیل احمد کا یہ ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دیکھنے والوں کو اپنے مزاخیہ سکرپٹ سے ہنسایااور ذہنی راحت دی ہے، نہ کہ فحش جگت بازی اور عورتوں کے اچھلنے کودنے سے جسے ناچ نام دے کر ناچ کے فن سے بھی مذاق کیاگیا ہے ۔

اُس دور میں لاہورتھیٹر سے اپنی مثال آپ بہترین مزاخیہ سٹیج ڈرامے تخلیق کیے گئے جسنے لاہورتھیٹر کوانڈسٹری میں تبدیل کردیا اور عام ناخواندہ سٹیج اداکاروں کو سٹار بنادیاجس کے نتیجے میں ٹی وی اور فلم جو پہلے سٹیج پر اداکاری کرنے والے فنکاروں کو ناکام اداکار اور سٹیج کوان ناکام اداکاروں کی آخری پناہگاہ سمجھتے تھے، سٹیج کی طرف آنے لگے جن میں قوی خان، وسیم عباس، افضل خان عرف ریمبو، نرگس، مدیحہ شاہ اور عمر شریف جسنے فلم کےلیے ہی پہلے سٹیج کو چھوڑا تھا دوبارہ لاہور سے ایک اور کامیاب مزاخیہ سٹیج ڈرامہ “لوٹے تے لفافے“ کیا جس کو بے مثال کامیابی ملی۔

اُس وقت لاہورتھیٹر کو اتنی پزیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی کہ ڈراموں کی ویڈیوکی ڈیمانڈ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پھر آہستہ آہستہ ان پنجابی سٹیج ڈراموں نےویڈیومارکیٹ میں بھارتی فلموں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنالی جس کے نتیجے میں ان کو اشتعارات بھی ملنے لگے۔

اُس وقت ان ڈراموں میں پنکھوں، میٹریس، لاہور کے مقامی ریسٹورنٹ، پان مسالہ، شادی حال وغیرہ وغیرہ جیسے عام مڈل کلاس کی ضرورت کی اشیاء کےاشتعارات آتے کیونکہ ان اشیاء کی جو لوگ مارکیٹنگ کررہے تھے انہیں اپناٹارگیٹ معلوم تھا اور وہ تھا پاکستانی مڈل کلاس، وہ جانتے تھے کہ یہ ڈرامےپاکستان میں خاص طور پر مڈل کلاس میں انتہائی مقبول ہیں اور گھرگھر دیکھے جارہے ہیں۔

لیکن!! پھر اچانک پتہ نہیں کہاں سے نرگس اینڈ کمپنی میدان میں کود آئیں اور لاہور تھیٹر پر مزاخیہ سٹیج ڈراموں کے بجائے “ڈانس نائیٹ شو“ “ڈانس دھماکہ نرگس شو“ وغیرہ وغیرہ جیسے شو ہونے لگے جسنے خالص مزاخیہ ڈراموں کے شائقین کو تھیٹر سے دور کردیا اور اسکے بجائے شرابیوں اور مجرے دیکھنے والوں کی لائنیں ٹکٹ بوکس کے سامنے لگادیں جو صرف اور صرف مجرہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ایسے میں جو اداکار ان مجروں کو ڈرامے کا نام دینے کےلیے استعمال ہوتے وہ واہیات ڈانس کرنے والی لڑکیوں کا مقابلہ ڈانس میں تو نہیں کرسکتے تھے اسلیئے یہ ادکار انتہائی فحش "double meaning" جگت بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے کران نئےشائقین میں اپنے آپ کو مقبول کرنے میں لگ گئے۔

آج لاہور تھیٹرسے جن سٹیج ڈراموں کی ویڈیو پر نمائش ہوتی ان میں اس قسم کے اشتعار آتے ہیں:

السعودیہ کا کستوری خاص کیپسول : مردانہ طاقت کا طوفان!!!!!

السعودیہ کا شربت کریلہ : شوگر کنٹرول کرے مردانہ قوت میں اضافہ کرے!!!!!!

السعودیہ شادی کورس : کمزور مرد شادی سے نہ ڈریں!!!!!!!!!

السعودیہ کا شربت سونا : نامرد کو مکمل مرد بنائے - بوڑوھوں کو سدا جوان رکھے!!!!!!!

ان اشتہارات سے آپ آسانی سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ڈرامے کون دیکھتا ہے۔ اور اس سے ہمارے سماج اور معاشرے کی پستی کااشارہ بھی ملتا ہے۔


1 تبصرہ:

  1. سٹیج ڈرامے تو ایک طرف ، کافی عرصے تو نوائے وقت کا سنڈے میگزین اس قسم کے اشتہاروں اور نجومیوں اور عاملوں کے دعووں سے بھرا پڑا رہا۔ پھر نہ جانے کیوں انتظامیہ کو ہوش آیا اور مضامین کا سلسہ شروع ہوا۔

    کاروباری اصول اپنی جگہ پر، مگر جب اس قسم کے اشتہار جب آپ کو ایک جگہ نظر آنے لگ جائیں تو سمجھ لیجئے کہ اُس کاروبار یا جگہ پر زوال آنے لگا ہے، اور وہ لوگ اپنا خرچہ پانی پورا کرنے کے لئے اب ان لوگوں کے اشتہار چلانے پر مجبور ہیں۔

    پھر بات ایک ضابطہ اخلاق کی بھی ہے۔ میڈیا پر اگر اس قسم کا ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی بات کی جائے تو شور مچ جاتا ہے کہ میڈیا پر پابندیاں لگ گیئ ہیں۔ حالانکہ ایک بات جسے دو بالغ افراد بھی شیئےر کرنے میں ہچکچاتے ہوں، بچوں کے سامنے کیسے کی جا سکتی ہے؟

    جواب دیںحذف کریں