جمعرات, اپریل 3, 2014

لکھنے کا فن کیسے سیکھا جاسکتا ہے؟ - چند باتیں



میرے ذہن میں ایک کہانی عرصے سے گردش کررہی ہے لیکن لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کیونکہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی کہانی یا افسانہ نہیں لکھا ہے. اگر سچ پوچھیں تو مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم  افسانے اور کہانی میں فرق کیا ہوتا ہے۔ اس سے آپ میرے اردو ادب سے نابلد ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

 

مذکورہ کہانی کو لکھنے کے خیال نے میرے ذہن میں سوال اٹھایا کہ کیا کسی زبان کے ادبیات پر دسترس محض مطالعہ کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے جواب نہیں ہے۔ کیونکہ لکھنا، بولنا اور سمجھنا بھی زبان پر مکمل دسترس پانے کے لئےاہم ہے، اور جب تک چاروں اعمال میں مہارت نہ ہو آپ کسی زبان کی ادبیات کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔

اردو زبان مجھے جو تھوڑی بہت آتی ہے اس کی وجہ بچپن اور لڑکپن کی عمر تک میرا مطالعہ کرنے کا جنونی شوق  ہوتا تھا۔ ہمارے مدرسے میں  طلباء میں شوق مطالعہ اجاگر کرنے کی غرض سے "بزم ِپیغام" کے عنوان سے ہر جمعرات کو مدرسے کی لائبریری /درس قرآن والے کمرے میں تقریب کا انعقاد ہوتا تھا۔ اس تقریب کےآخر میں لائبریری کے کتب کے ذخیرےکو زمین پربچھا دیا جاتا اور سب طلباء اس محدود ذخیرے پر ٹوٹ پڑتے۔ کوئی آنکھ مچولی اپنے قبضے میں کرتا، کوئی اے حمید کی کمانڈو سیریز کے ناول پر جھپٹتا، اور کوئی حکایت کا نیا شمارہ اپنے ہاتھ میں پا کر مسرت محسوس کرتا۔ میں نے آنکھ مچولی ایک ،دوبار پڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے ویسا مزا نہیں آیا جیسے اس ڈائجسٹ کی ہردل عزیزی دیکھ کر میں امید کررہا تھا۔ مجھے اے حمید کا کمانڈو ناول قسم کے ناول پسند ہوتےتھے۔ کیونکہ اُس زمانے میں کشمیر میں جہاد کرنا بچپن کی خواہشات کی فہرست میں سے ایک تھی۔

اس زمانے میں مظہرکلیم ایم اے کے عمران سیریز ناول بھی بہت مقبول تھے۔ لیکن ان کے ناول کے سرورق پر غیرملکی عورت کی تصویر ہونے کی وجہ سے مجھے غلط فہمی تھی کہ شاید ان میں  گھٹیا قسم کے رومانوی کہانیاں ہوتی ہوں گی۔ لیکن اتفاقاًعمران سیریز سے تعارف کچھ اس طرح ہوا کہ ایک دوسرے گاؤں میں کرکٹ میچ کھیلنے گئے تھے اور وہاں سے واپسی ہورہی تھی تو مجھے میدان سے باہر جس جگہ کو ہم پویلین کے طور پر استعمال کرتے تھے زمین پر عمران سیریز کا ایک ناول پڑا مل گیا، وہ میں نےاٹھایا اورواپسی پر ایسے ہی سرسری طورپر پڑھنے لگا تو وہ کہانی مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بعد اس سیریزکا میں شیدائی ہوگیا۔پھر جب خود اس قابل ہواکہ بس پر بیٹھ کر اکیلے قصبے تک جانے لگا تو کرکٹر، اخباروطن کے علاوہ عمران سیریز بھی خرید لاتا۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ قصبے سے عمران سیریز کی کاپی خریدتا اور جب گاؤں پہنچتا تو آدھے سے زیادہ ناول پڑھ چکاہوتا۔ جس دوران کہی بارجس اسٹاپ پر اترنا ہوتا وہ خطا ہوا ہے، راہ چلتے لوگوں سے ٹکر ہوئی ہے۔ لیکن تقریباً دو سو ناول پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا جیسےاب عمران سیریزناول کو خاص طور پراس ڈھنگ سے لکھا جارہا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ اوراق کو کالا کیا جاسکے اوراب اس ناول کو پڑھنا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔

حکایت بھی میرا ایک اور پسندیدہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ ہوتا تھا ، حکایت کے مدیراور بانی عنایت اللہ مرحوم کی وساطت سے مجھے معیاری اردو کہانیوں، اور کتابوں کا علم ہوا۔  ان کے ادارے سےشائع کردہ اچھی خاصی کتابوں کا ذخیرہ جمع ہوا۔اس کے علاوہ اخبارجہاں کے وساطت سے مستنصرحسین تارڑ کی تحاریر سے خوشگوارتعارف ہوا۔ مجھے اپنے کتابوں کے ذخیرے سے بہت پیار ہے۔ حالانکہ ہانگ کانگ کےچھوٹے چھوٹے گھروں میں  ان کتابوں کو سنبھالناایک مسئلہ بن جاتا ہے لیکن میں نے گھروالوں کو کبھی بھی کوئی کتاب، رسالہ یا ڈائجسٹ پھینکنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود مجھے شک ہے اس میں سے اچھا خاصا ذخیرہ ردی کے نظر ہوچکا ہے۔ کچھ رسالوں کے انتہائی قیمتی شمارے گم ہوگئے ہیں۔

میرے بچپن میں واقعی کتاب، رسالہ اور ڈائجسٹ میرے بہترین دوست ہوا کرتے تھے،  رات کو بستر پرلیٹنےکے بعد نیند کتاب پڑھتے پڑھتے ہی آتی۔ کبھی کبھی بچلی بے وقت چلی جاتی تو ہانگ کانگ سے ابو کا بیجھا ہوا ٹارچ بہت کام آتا۔ ویسے بھی گاؤں میں ریڈیو اورکتاب کے بعد آپ کا بہترین دوست ٹارچ ہی ہوتا ہے۔

میں نے انگریزی اور اردو دونوں زبانیں مطالعے کےشوق سے ہی سیکھی ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں زبانوں پر ویسی دسترس حاصل نہ ہوسکی جو اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھ کرباقاعدہ سند لینے والے کو مل جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنہوں نے کالج ، یونیورسٹی سے سند نہیں لی وہ اچھے لکھاری نہیں بن سکتے ، لیکن میرا خیال ہے جو غلط بھی ہوسکتا کہ کوئی زبان صرف مطالعے سے نہیں سیکھی جاسکتی، اگر آپ کسی زبان پراس حدتک  دسترس حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کہانی یا افسانہ لکھ سکیں یا اس زبان کے ادب کو سمجھ سکیں تو اس کے لئےآپ کومطالعے کے ساتھ، لکھنے اور بول چال کی مشق بھی لازمی ہےجس کے لئے نصابی تعلیم ہی ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

 میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ مادری زبان پشتوہےتو گھر میں پشتوچلتی ہے، بچپن میں دوستوں سے ہندکو سیکھی، یہاں ہانگ میں پنجابی سے بھی واسطہ پڑا ہے اور کام کاج کے لئے انگریزی اورچائینیز کینٹونیز زبان کا استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں اردو زبان کا بول چال کے لئے استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجابیوں سے اردو میں بات کرتے ہیں  یاتو پنجابی میں جواب دیں گے یا پنجابی زدہ اردو میں۔

آخر میں یہ ضرور کہوں گا کہ مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لئے ایک بہترین جملہ کہاجاتا ہے کہ "کتاب آپ کی بہترین دوست ہے"۔ یہ جملہ اگر کسی کے سمجھ میں آجائے تو سمجھیئے اسے قارون کا خزانہ مل گیا۔ مطالعے نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ میرے مطالعے کے شوق کے مرہون منت ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے کسی زبان کی ادبیات پر دسترس پانے کے لئےکونسی چیز اہمیت رکھتی ہے؟ آپ کو مطالعے کا شوق کیسے ہوا، اور مطالعے کے شوق نے آپ کیا دیا ہے؟

2 تبصرے:

  1. میرے خیال سے اردو مطالعے کی عادت اکثر بچپن میں ہی لگی ہو تو اگلی عمر میں اِس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کرونِک مطالعہ کرنے والے یا پھر لکھنے والوں کی کیس ہسٹری ایک جیسی پائی گئی ہے اور اب جدید زمانے میں بلاگنگ کا وائرس بھی ایسے ہی پس منظر میں رہنے والوں کے ہاں زور پکڑتا ہے۔ بہت اچھا لکھا ۔ آباد رہیئے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔

      اور دھیر سے جواب کے لیے معذرت۔

      حذف کریں