1

ذہنی بیمار پادری کی دھمکی اور ہمارا ردعمل

جب فیس بک پر محمد صل اللہ علیہ وسلم کے کارٹونوں پر ہنگامہ ہوا تھا اس وقت بھی میں یہی کہہ رہا تھا اس حرکت کے خلاف جس طرح ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے یہ غلط ہے۔ اس وقت بہت سارے ساتھی فیس بک کی سخت مخالفت پر اتر آئے اور اپنے اپنے اکاؤنٹ کو بند کردیا، اردو بلاگستان پر بھی فیس بک اور یہودیوں کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا۔

اس تمام ردعمل کی میری مخالفت کی کچھ وجوہات تھیں۔

پہلی وجہ ۔ آج کی اس انٹرنیٹ دنیا میں اگر ہمیں رہنا ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو انٹرنیٹ دنیا کو سمجھنا ہوگا اور یہ بات قبول کرنی ہوگی کہ ہوسکتا ہے ہمیں انٹرنیٹ پر ایسا مواد، یا ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے جو ہم سے مکمل طور پر مختلف خیالات کے لوگ ہوں گے اور ان لوگوں کا الگ پن اس حد تک بھی ہوسکتا ہے کہ جو چیز ہمارے لیے ماں باپ سے بھی زیادہ عزیز و محترم ہے وہ چیز ان لوگوں کے لیے ویسے ہی عزیز اور محترم نہیں ہوسکتی، بالکہ وہ لوگ کسی شخص یا نظریے کی اندھا دھند اور جنونی حد تک دفاع کرنے کے ہمارے رویّے کی وجہ سے ہم سے نفرت اور انتہائی مخالفت کریں اور ہمیں اپنے لیے خطرہ محسوس کریں۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ایسی صورت میں کس طرح ان لوگوں کے ساتھ پرامن اور پرسکون طریقے سے تبادلہ خیال کرنا ہے اور اپنی بات واضح کرنی ہے۔ کیونکہ بہرحال اسی دنیا میں طالبان بھی رہتے ہیں جو مخالف مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کی پرچار کرنے پر قتل بھی کردیتے ہیں۔

دوسری اور اہم ترین وجہ ۔ انٹرنیٹ ایک ایسی دنیا ہے جہاں پر دنیا کے کسی بھی کونے سےکوئی بھی مرد، عورت، بچہ کچھ بھی لکھ سکتا ہے۔ یہ وجہ اہم ترین ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر آپ کو ساٹھ فیصد (یہ میرا اندازہ ہے جو کم یا زیادہ بھی ہوسکتا ہے) ایسا مواد یا لوگ ملیں گے جس کا حقیقت کی دنیا سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ایسے میں ہمیں اس مواد اور ان لوگوں کو پوری طرح نظر انداز کرنا ہوگا، کیونکہ جس شخص کو آپ جانتے نہیں کہ وہ کس دین و دنیا سے تعلق رکھتا ہے، وہ انسانی اقتدار پرایمان رکھتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ، اس کے ساتھ آپ تبادلہ خیال کیسے کرسکتے ہیں اور کیونکہ آپ اپنے نظریات اور خیالات پر انہیں لوگوں سے تبادلہ خیال کرسکتے ہیں جن کو آپ سمجھتے ہیں اپنے دلائل کے ذریعے اپنےنظریّے پر قائل یا اپنا نظریہ سمجھا سکتے ہوں، اور مخالف بھی اسی مطلب سے آپ سے بحث کرے گا، ابلیس کے ساتھ بحث کرنا اپنے آپ پر ظلم کے مترادف ہے۔

اس کے علاوہ دوسری وجوہات بھی ہیں، جیسے جانے انجانے میں دنیا میں ہم خود ان مذموم حرکات کی وجہ شہرت بن جاتے ہیں جیسےموجودہ ایک اور مذموم حرکت بقول امریکی پادری کےقرآن مجید جلانے کی دھمکی۔ یہ ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک گمنام اورذہنی بیمار پادری نے مسلمانوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو، اپنی کتاب کو اور اپنے پیغام کو دنیا میں جہاں بھی صحافت کا پیشہ موجود ہے پہنچا دیا۔ کتنی دکھ اور کرب کی بات ہے مسلمانوں کے ردعمل کی وجہ سے دنیا کے سپر پاور کے صدر، وزیر، اور مسلم دنیا کے حکمران دنیا کے تمام نیوز چینلز پر اس حرکت کے خلاف بیان دیتے ہیں جو اس پادری کی اسلام مخالف کتاب اور اس کے پیغام کے لیے ایک بہترین اور مفت اشتہاری مہم ثابت ہورہی ہے ۔

مجھے ایک دوست نے فیس بک پر ایک پیج جو اس حرکت کی مخالفت میں بنوایا گیا تھا کا ساتھ دینے کا دعوت نامہ بیجھا تھا جو اسی وقت میں نے نظرانداز کردیا کیونکہ مجھے معلوم تھا یہ کسی بیمار ذہنیت کی حرکت ہے جس نے فیس بک والے واقعے سے سبق سیکھ کر سستی شہرت کا بہترین طریقہ معلوم کرلیا ہے۔ مسلمانوں کے پیغمبر یا کتاب کی توہین کرو اور آپ کا نام پوری اسلامی دنیا میں اور پھر اسی کے ذریعے باقی دنیا میں پھیل جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے میرے اکیلے کے نظرانداز کرنے سے کیا ہونے والا تھا، جبکہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے اپنی تہیں نیک کام کرتے ہوئے اس کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کردیئے جس کے نتیجے میں پادری نے اپنی دھمکی پر عمل کیے بغیر اپنے آپ کو، اپنی اسلام کے خلاف کتاب کو، اسلام مخالف بینرز اور اپنے پیغام کو دنیا کے کونےکونے میں ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کروایا ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس پادری کی حرکت کے خلاف ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

اس کا جواب میرے خیال میں انتہائی آسان ہے۔ میرا ایمان ہے کہ کاغذوں کا پلندہ جس میں عربی زبان میں قصے کہانیاں اور انسان کو زندگی گزارنے کی تعلیمات لکھی ہوئی ہے وہ قرآن مجید کا درجہ اسی وقت حاصل کرتا جب انسان پہلے لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرے ورنہ اس انسان کے لیے قرآن مجید کتاب الہی نہیں کاغذوں کا پلندہ ہے۔ ایسے میں میں سمجھتا ہوں میرا اور ہر مسلمان کا قرآن اس کےگھر میں، مسجد میں مکمل تعزیم و تکریم کے ساتھ محفوظ ہے۔ پادری کے پاس جو نام نہاد قرآن ہے وہ اسی ساعت کاغذوں کا پلندہ بن گیا جب پادری نے اپنی ناپاک نیّت کے ساتھ اسے چھوا، اب اس کا درجہ ایک عام کتاب سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اس عام کتاب کو شوق سے ایک بار نہیں لاکھوں بار جلاؤ۔

1

عوامی جمہوریہ چین 4 جون 1989 تیانامین سکوائر قتل عام

4 جون 1989 اظہار آزادی کے لیےایک سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن ایک نادرشاہی حکومت نے نہتے اور کمزورانسانوں کی آواز کو دبانے کے لیے ٹینکوں اور گولیوں کا استعمال کرکے ان کا قتل عام کیا۔ لیکن حق اور سچائی کی آوازکون دبا سکا ہے؟ یہ آواز نہ تو لوہے کے ہاتھی سے دب سکتی ہے اور نہ ہی بندوق کی گولی سے۔ نادرشاہی اس آواز سے اتنی خوف زدہ ہے کہ اپنے گھر کی تمام کھڑکی دروازے بند کرنے کے باوجود اسے ہر وقت یہی خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ آواز کسی نہ کسی کونے کھدرے اسے ندر آناجائے۔





میری اکیلی آواز سے تمہارا خوف چیخ چیخ کر میرے برحق ہونے کی گواہی دے رہا ہے ۔۔۔

اے نادرشاہی چاہے تم کچھ بھی کرلو یہ آواز دبے گی نہیں ۔۔۔

احتجاج کرنا میرا بنیادی حق ہےاوریہ حق تم مجھ سے چھین نہیں سکتے ۔۔۔

میں بولوں گا ۔۔۔ میں احتجاج کروں گا ۔۔۔

اس وقت تک احتجاج کروں گا ۔۔۔

جب تک میرا پیدائشی حق تم مان نہیں لو ۔۔۔

تم حق کی آواز خاموش نہیں کرسکتے۔۔۔

تم میرے جسم کو تو ٹینک کے نیچے روندھ سکتے میری آواز کو نہیں ۔۔۔

تم میرے جسم کوچاردیواری کےاندر بند کرسکتے ہو میری روح کو نہیں ۔۔۔


اے راہ حق کے شہیدو، اے 4 جون تیانامین سکوائر کے شہیدو تمہیں سلام ۔۔۔

تم نے اپنے آج کو آنے والی نسلوں کے لیے قربان کردیا، تمہاری بہادری کو سلام ۔۔۔

اظہار آزادی کی تماری یہ مشعل انشاءاللہ تا قیامت تمہارے جانشین گرنے نہیں دیں گے۔ 

2

کھیل اور کھلاڑی پر نیا بلاگ - آپ بھی شرکت کیجیئے

کچھ عرصے سے دل میں خواہش تھی کہ ایک موضوعاتی بلاگ شروع کیا جائے۔ جیسےابوشامل نے فلم تجزیہ نگاری پر بہت خوبصورت بلاگ فلمستان شروع کیا ہے۔ موضوع تو بےشمار تھے لیکن فٹبال وڑلڈکپ نے کھیل اور کھلاڑی کے موضوع پر بلاگ شروع کرنے کی رغبت دی اور کھیل کود کے نام سے نئے بلاگ کا آغاز کردیا۔

آپ کون سا کھیل پسند کرتے ہیں؟ کون سا کھیل کھیلتے ہوئے مزہ آتا ہے؟ کس ٹیم کے آپ پرستار ہیں؟


دنیا میں شاید ہی کسی کو کھیلنے کودنے سے لگاؤ نہ ہو لیکن میرا معاملہ ایسا ہے کہ مجھے دیوانگی کی حد تک کھیل سے لگاؤ ہے، گالٍف کے علاوہ ایسا کوئی کھیل نہیں ہوگا جو مجھے پسند نہ ہو۔ موقع ملے تو کھیلتا ہوں یا ٹی وی پر ضرور دیکھتا ہوں۔ گھر میں جب بھی ریموٹ کنٹرول پر تو تو میں میں ہوتی ہے اور میں صرف ایک کھیل کا پروگرام دیکھنے کا وعدہ کرتا ہوں تو سامنے سے یہی شکایت آتی ہے کہ تمہیں تو ایسا کوئی کھیل نہیں ہے جو پسند نہیں اسلیئے تمہارے کھیل کے پروگرام تو بند ہونے سے رہے، ویسے واقعی میں ہوتا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔


بچپن میں کرکٹ کے علاوہ گلی ڈنڈا اورآنکھ مچولی وغیرہ جیسے دیسی کھیل کھیلتا تھا پھر لڑکپن میں کرکٹ کھیلنےاورفٹبال دیکھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق پروان چڑھا۔ حالانکہ اس وقت کرکٹ کھیلنے اوردیکھنے کا موقع کم کم ملتا ہے لیکن عشق میں کمی نہیں آئی ہے۔ فٹبال ہر ہفتےدیکھتا ہوں مانچسٹر یونائیٹڈ سےعشق ہے۔


میرے والدین نے مجھے کبھی بھی کھیل کود سے نہیں روکا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ کھیل کود کواب بھی وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، کھیلنے سے ڈانٹ ڈپٹ اور کھبی کھبی تو مار پیٹ کے ذریعے روکتے ہیں لیکن یقینا وہ بھی اپنے بچپن میں کھیلیں ہوں گے اورخوب لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ کھیل کود ایک ایسا عمل ہے جو انسان کوایسا ناقابل بیان عجیب سی لذت اور مسرت دیتی ہے جس سے روح سرساش ہوجاتی ہے جو آپ کے چہرے پر خالص معصوم سی مسکراہٹ بکھیر کر دل میں شادمانی بھردیتی ہے۔

میں نے نئے بلاگ پراب تک کے گزشتہ تمام فیفاوڑلڈکپ کا مختصر تعارف کا سلسلہ شروع کیا ہے برائے کرم ابتدائی تحاریرایک نظر دیکھ کر اپنے تاثرات اورمشوروں سے نوازیں۔ اس کےعلاوہ میری دعوت عام ہے کہ اگر آپ بھی کھیل کھلاڑی کےموضوع پرکچھ لکھنا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ حاضر ہے بسم اللہ کیجیے۔

3

سید ابو الاعلی مودودی ترجمان القرآن - دور جدید کی بیمار قومیں

(ابوشامل بلاگ پر فہد نے سید ابو الاعلی مودودی کےترجمان القرآن سے "دور جدید کی بیمار قومیں" کااقتباس پیش کیا۔ تحریر پڑھتے ہوئے انتہائی کرب کا احساس ہوا کہ اس قوم نے مودودی جیسے مفکر اسلام پیدا کیے لیکن پھر بھی صراط مستقیم حاصل نہ کرپائی۔۔۔ایسا کیوں ہوا ۔۔۔اور ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اس سوال پر پی ایچ ڈی کی جاسکتی ہے۔)

(میں یہاں اسی تحریر کا اپنا اقتباس پیش کررہا ہوں)

(سید ابو الاعلی مودودی، ترجمان القرآن، اکتوبر 1935ء بمطابق رجب 1254ھ)

ایسی حالت میں دراصل مقابلہ اسلام اور مغربی تہذیب کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی افسردہ، جامد اور پس ماندہ تہذیب کا مقابلہ ایک ایسی تہذیب سے ہو جس میں زندگی ہے، حرکت ہے، روشنی علم ہے، گرمی عمل ہے۔ ایسے نا مساوی مقابلے کا جو نتیجہ ہو سکتا ہے وہی ظاہر ہو رہا ہے۔ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں، ان کی تہذیب شکست کھا رہی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ مغربی تہذیب میں جذب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے دلوں اور دماغوں پر مغربیت مسلط ہو رہی ہے۔ ان کے ذہن مغربی سانچوں میں ڈھل رہے ہیں، ان کی فکری و نظری قوتیں مغربی اصولوں کے مطابق تربیت پا رہی ہیں۔ ان کے تصورات، ان کے اخلاق، ان کی معیشت، ان کی معاشرت، ان کی سیاست، ہر چیز مغربی رنگ میں رنگی جا رہی ہے۔ ان کی نئی نسلیں اس تخیل کے ساتھ اٹھ رہی ہیں کہ زندگی کا حقیقی قانون وہی ہے جو مغرب سے ان کو مل رہا ہے۔ یہ شکست دراصل مسلمانوں کی شکست ہے مگر بد قسمتی سے اس کو اسلام کی شکست سمجھا جاتا ہے۔

درحقیقت یہ علماء کا کام تھا کہ جب اس انقلاب کی ابتدا ہو رہی تھی اس وقت وہ بیدار ہوتے، آنے والی تہذیب کے اصول و مبادی کو سمجھتے، مغربی ممالک کا سفر کر کے ان علوم کا مطالعہ کرتے جن کی بنیاد پر یہ تہذیب اٹھی ہے۔ اجتہاد کی قوت سے کام لے کر ان کارآمد علمی اکتشافات اور عملی طریقوں کو اخذ کر لیتے جن کے بل پر مغربی قوموں نے ترقی کی ہے اور ان نئے کل پرزوں کو اصول اسلام کے تحت مسلمانوں کے تعلیمی نظام اور ان کی تمدنی زندگی کی مشین میں اس طرح نصب کر دیتے کہ صدیوں کے جمود سے جو نقصان پہنچا تھا اس کی تلافی ہو جاتی اور اسلام کی گاڑی پھر سے زمانہ کی رفتار کے ساتھ چلنے لگتی۔ مگر افسوس کہ علماء (الا ماشاء اللہ) خود اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہو چکے تھے۔ ان میں اجتہاد کی قوت نہ تھی، ان میں تفقہ نہ تھا، ان میں حکمت نہ تھی، ان میں عمل کی طاقت نہ تھی، ان میں یہ صلاحیت ہی نہ تھی کہ خدا کی کتاب اور رسول خدا کی علمی و عملی ہدایت سے اسلام کے دائمی اور لچکدار اصول اخذ کرتے اور زمانہ کے متغیر حالات میں ان سے کام لیتے.

اس میں شک نہیں کہ علما نے نئی تہذیب کا مقابلہ کرنے کی کوشش ضرور کی، مگر مقابلہ کے لیے جس سر و سامان کی ضرورت تھی وہ ان کے پاس نہ تھا۔ حرکت کا مقابلہ جمود سے نہیں ہو سکتا۔ رفتار زمانہ کو منطق کے زور سے نہیں بدلا جا سکتا، نئے اسلحہ کے سامنے فرسودہ و زنگ آلود ہتھیار کام نہیں دے سکتے۔ علماء نے جن طریقوں سے امت کی رہنمائی کرنی چاہی ان کا کامیاب ہونا کسی طرح ممکن ہی نہ تھا۔ جو قوم مغربی تہذیب کے طوفان میں گھر چکی تھی وہ آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور حواس کے معطل کر کے کب تک طوفان کے وجود سے انکار کرتی اور اس کے اثرات سے محفوظ رہتی؟ جس قوم پر تمدن و تہذیب کا جدید نظام سیاسی طاقت کے ساتھ محیط ہو چکا تھا وہ اپنی عملی زندگی کو مغلوبی و محکومی کی حالت میں اس کے نفوذ و اثر سے کس طرح بچا سکتی تھی؟ آخرکار وہی ہوا جو ایسے حالات میں ہونا چاہیے تھا۔ سیاست کے میدان میں شکست کھانے کے بعد مسلمانوں کے علم اور تہذیب و تمدن کے میدان میں بھی شکست کھائی اور اب ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ دنیائے اسلام کے ہر خطہ میں مغربیت کا طوفان بلا کی تیزی سے بڑھتا چلا آ رہا ہے جس کی رو میں بہتے بہتے مسلمانوں کی نئی نسلیں اسلام کے مرکز سے دور، کوسوں دور نکل گئیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ علمائے اسلام کو اب تک اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا ہے قریب قریب ہر اسلامی ملک میں علماء کی جماعت اب بھی اسی روش پر قائم ہے جس کی وجہ سے ابتداء میں ان کو ناکامی ہوئی تھی۔ چند مستثنی شحصیتوں کو چھوڑ کر علماء کی عام حالت یہ ہے کہ وہ زمانے کے موجودہ رحجانات اور ذہنیتوں کی نئی ساخت کو سمجھنے کی قطعا کوشش نہیں کرتے۔ جو چیزیں مسلمانوں کی نئی نسلوں کو اسلام سے بیگانہ کر رہی ہیں ان پر اظہار نفرت تو ان سے جتنا چاہیے کرا لیجیے لیکن اس زہر کا تریاق بہم پہنچانے کی زحمت وہ نہیں اٹھا سکتے۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے جو پیچیدہ علمی اور عملی مسائل پیدا کر دیے ہیں ان کو حل کرنے میں ان حضرات کو ہمیشہ ناکامی ہوتی ہے۔ اس لیے ان مسائل کا حل اجتہاد کے بغیر ممکن نہیں اور اجتہاد کو یہ اپنے اوپر حرام کر چکے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اور اس کے قوانین کو بیان کرنے کا جو طریقہ آج ہمارے علماء اختیار کر رہے ہیں وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو اسلام سے مانوس کرنے کے بجائے الٹا متنفر کر دیتا ہے اور بسا اوقات ان کے مواعظ سن کر یا ان کی تحریروں کو پڑھ کر بے اختیار دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ خدا کرے کسی غیر مسلم یا بھٹکے ہوئے مسلمان کے چشم و گوش تک یہ صدائے بے ہنگام نہ پہنچی ہو۔

جو اسلامی تعلیم کی طرف جاتا ہے وہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہتا۔ جو دنیا کے کام کا بننا چاہتا ہے وہ اسلامی تعلیم سے بالکل بیگانہ رہتا ہے یہی سبب ہے کہ اس وقت دنیائے اسلام میں ہر جگہ دو ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جو بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک گروہ اسلامی علوم اور اسلامی ثقافت کا علمبردار ہے مگر زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کے رہنمائی کے قابل نہیں۔ دوسرا گروہ مسلمانوں کی علمی، ادبی اور سیاسی گاڑی کو چلا رہا ہے مگر اسلام کے اصول و مبادی سے ناواقف ہے، اسلامی تہذیب کی اسپرٹ سے بیگانہ ہے، اسلام کے اجتماعی نظام اور تمدنی قوانین سے ناآشنا ہے۔ صرف دل کے ایک گوشہ میں ایمان کا تھوڑا بہت نور رکھتا ہے، باقی تمام حیثیتوں سے اس میں اور ایک غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں۔

1

ڈیکٹیٹر کتاب سے ڈرتا ہے، مُلّا سوال سے ڈرتا ہے۔

ڈیکٹیٹر کتاب سے ڈرتا ہے اورمُلّا سوال سے، جس طرح ڈیکٹیٹر اور ملّا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ویسے ہی کتاب اور سوال دونوں ایک دوسرے کے خالق ہیں۔ سوال کتاب لکھنا سکھاتا ہے، کتاب سوال کرنا سکھاتی ہے۔ سوال ضیائے شعور دیتا ہے، کتاب چشمِ خِرَد کے اندھیروں کو اپنی تجلّی سےنور دیتی ہے۔ کتاب کنوّیں کے مینڈک کو سیڑھی بناناسکھاتی ہے، سوال کنوّیں سےباہر نکلنے کی ہمت دیتا ہے۔ کتاب ڈیکٹیٹر کے کرتوتوں کو ننگا کرتی ہے، سوال ملّا کا پول کھولتا ہے۔

پاکستان میں دونوں کی کمی نہیں ہے، ملک کے ایوانوں سے لے کر غریب بستیوں تک ہرطرف آپ کو ڈیکٹیٹر کے ساتھ ایک ملّا ملےگا۔ ڈیکٹیٹر دنیاوی مسائل اور ملّا نے اگلے جہاں کی آڑ میں عام آدمی کویرغمال بنا رکھا ہے۔ دونوں نے اپنے چیلوں کی ایک فوج ظفرموج پال رکھی ہے، یہ چیلے جانتے ہوئے کہ سب گول مال ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی لالچ میں دن رات ان کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں دھول جھونکے کے لیے یہ اپنے چیلوں کو عوام کے لیے آپس میں گھتم گھتا ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں جس سےعام آدمی گروہ بندی کا شکار ہوکر اپنے حقیقی مسائل بول جاتا ہے ۔۔۔۔ عام آدمی بھول جاتا ہے کہ روٹی، کپڑا مکان میرا بنیادی حق ہے۔۔۔صاف پانی، بجلی، بنیادی تعلیم، بنیادی علاج معالج، امن وامان، شادی و خاندانی فلاح و بہبود، پرامن احتجاج، اظہار رائے وغیرہ سب میرے بنیادی حقوق ہیں جن کا دینا حکومت کا احسان نہیں فرض ہے اور اس فرض سے کوتائی ہوئی توحکومت کے پاس حکومت کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں۔

عام آدمی بھول جاتا ہے کہ میرا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام کے ساتھ “یا“ لگانا چاہیے یا نہیں، زارداری طاقتور ہے یا فوج۔۔۔میرے توچھوٹے چھوٹے مسائل ہے جو مجھے حل کرکے اپنی چار دن کی زندگی ہنسی خوشی گزارنی ہے۔۔۔اس ملّا ڈیکٹیٹر ہڑبھونگ میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال کبھی بھی نہیں اٹھا کہ جب پاکستانی خزانے میں میرے بنیادی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ان وزیروں، مشیروں وغیرہ وغیرہ کے کروڑوں اربوں کے اخراجات میرے قومی خزانے سے کیوں ادا کیے جارہے ہیں؟

عام آدمی نے سوال کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔۔۔عام آدمی کو سوال کرنا چاہیے ۔۔۔۔ اے پاکستانی سوال کر۔۔۔ملّا سے سوال کر۔۔۔ڈیکٹیٹر سے سوال کر ۔۔۔۔پوچھ، اپنے ناظم سے سوال کر، اپنے ضلعی کمشنر سے سوال کر۔۔۔اپنے صوبائی وقومی اسمبلی کے وزیر سے سوال کر تمہیں تمہارے بنیادی حقوق اب تک کیوں نہیں ملے؟ اگر وہ کہے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں تو پوچھ پاکستانی خزانے میں میرے لیے پیسے نہیں ہیں تو تمہارے لیے کیوں ہیں؟ تمہیں ملک کے خزانے سے پیسے ملتے ہیں کام کرنے، اس سے پوچھ تم نے اب تک کون کون سے کام کیے ہیں؟ اگر وہ حکومت وقت کی چشم پوشی کا عذر پیش کرے تو پوچھ تو اپنے عہدے پر اب تک کیوں بیٹھا ہے؟؟

سوال کر ۔۔۔ سوال کرنے سے مت ڈر۔

20

لاہور شہر کی طرف آنے اور جانے کے تمام راستے بند کردو

آج میں اپنی گزشتہ تحریر کا دوسرا حصّہ لکھنا چاہتا تھا لیکن لاہور عدالت عالیہ (Lahore High Court) کا فیس بک پر پابندی کے فیصلے اور پھر کراچی پریس کلب (Karachi Press Club) میں جناب ڈاکٹر عواب علوی صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اس پر ہمارے اردو کے نامور بلاگران کا ردعمل پڑھتے ہوئے انتہائی افسوس اور دکھ ہوا کہ تعلیم یافتہ اور باشعور اردوبلاگران (Urdu Bloggers) جو خود بھی سنجیدگی سے بلاگنگ کرتے ہیں ابھی تک آزادی اظہار کی روح اور اہمیت کو سمجھ نہیں پائے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بلاگنگ نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہی اس لیے کی کہ اس کام کے لیے نہ تو حکومتی اشتہارات کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی دائیں بائیں بازو کے سیٹھ کی تجوری کی۔ اوراگر آج آپ لوگ “کچھ نامعلوم افراد“ کی ایک گھٹیا حرکت کو وجہ بنا کر حکومت کی فیس بک (facebook) پر پابندی (facebook ban) کی حمایت کرتے ہیں تو کل کلاں اگر حکومت اسی طرح کسی انفرادی حرکت کو وجہ بنا کر برقی معلومات کی آمدورفت پر مکمل نگرانی کا قانون لے آئے تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟

اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے،
ایک بار پھر دوراتا ہوں کوئی شک و شبہ نہیں
 کہ آزادی اظہار(freedom of speech) کاہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کسی کی ذات چاہے وہ مقدس ہے یا نہیں،
کسی بھی لحاظ سے اس کی تضحیک کریں۔
کسی مذہب، چاہے آپ کا مذہب پر ایمان ہے یا نہیں،
رنگ، نسل اور سماجی حیثیت پر حملہ کریں۔

لیکن نام نہاد حساسیت اور مذہب کے نام پر انسانی بنیادی حق اظہار آزادی کو صلب کرنا بھی اسی طرح غلط ہے اور ناقابل قبول ہے۔ اس لیےفیس بک (facebook) پر جو کچھ ہوا ہے اور اس کے خلاف پاکستانی عدالت کا فیصلہ کسی بھی زاویّے سے صحیح نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ مجھے توہین عدالت کا مجرم ٹھہرایا جائے میرے کچھ سوالات ہیں

پہلا سوال۔ کیا فیس بک پر پابندی سےانٹرنیٹ (Internet)سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مذموم خاکے مِٹ جائیں گے؟
دوسرا سوال۔ کیا فیس بک پر پابندی سے تمام خاکے جن افراد نے خاکے تخلیق کیئے ہیں خود بخود انکی ہارڈ ڈسک (harddisk) سے بھی حذف ہوجائیں گے؟
تیسرا سوال۔ کیا فیس بک پر پابندی سے یہ افراد ان خاکوں کو انٹرنیٹ پر کہیں بھی کسی بھی فورم (forum) یا کسی اور میڈیا(media) پر نہیں اتار سکیں گے؟
چوتھا سوال۔ کیا اب بھی گوگل (google.com.pk) پر یہ خاکے آسانی سے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین تک رسائی نہیں رکھتے؟
پانچواں سوال۔ کیا فیس بک کی پابندی کے بعد انٹرنیٹ پر پابندی اگلا اقدام ہوگا؟

اور سب سے اہم سوالات کہ لاہور میں ہیرا منڈی ہے (Lahore Redlight Area)جہاں پر روزانہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی دہجیاں بکھیرکر توہین رسالت کا ارتکاب کیا جاتا ہے ایسے میں یہی قانون لاگو کرکے لاہور کو جانے اور آنے والے راستوں کو کیوں بند نہیں کیاجاتا؟
اسی طرح ہر شہر میں ریڈ لائٹ ایریا(Redlight Area) ہوگا اسی قانون کا استعمال کرکے ان شہروں پر بھی کیوں پابندی نہیں لگائی جاتی؟
 پاکستانی شہروں (Pakistani Cities)) میں بے شمار انٹرنیٹ کیفے(Internet Cafe or Cyber Cafe) ہیں اور ان میں کیا کچھ ہوتا ہے سب کو معلوم ہے ان پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟

آخری بات کہ اسی فیس بک پر جسے پاکستان میں پابند کیا گیا ہے Im a Muslim & Im Proud جس کے پندرہ لاکھ سے زیادہ پرستار ہیں, I Love Allah جس کے پرستاروں کی تعداد بیس لاکھ تک پونہچ رہی ہے اور Hadith of the Day, وغیرہ وغیرہ جیسی بے شمار صفحات ہیں جہاں سے ایمان کی آبشاریں بہتی ہیں اور جہاں سے ان مذموم حرکات کا جواب دلائل اور پیار و محبت سےدیا جارہا ہے اور ان جوابات کا اثر اس عدالتی فیصلے سےلاکھوں درجے مثبت انداز میں ہورہا ہے اور ہوگا۔

یہاں پر آپ ڈاکٹر علوی صاحب کی وضاعت ملاخطہ کرسکتے ہیں۔ اور اس پوسٹ پر آپ بی بی سی اردو انٹرویو کراچی پریس کلب دیکھ سکتے ہیں۔

2

The Terminal - John's Blog - [Photoblog]往中環

The Terminal - John's Blog - [Photoblog]往中環

یہ میرا انتہائی پسندیدہ تصویری بلاگ ہے۔ میرے شہر ہانگ کانگ کی تصاویر۔