Tuesday, 20 October 2009

جنگ

پاکستان میں اس وقت ایک طرح سے خانہ جنگی ہے۔ کہتے ہیں جنگ کی سب بڑی اچھائی اس کا اختتام ہے، اور یہ ہے بھی سچ کیونکہ جنگ میں کسی کی بھی جیت نہیں ہوتی، ہاں ہارضرور ہوتی ہے، انسانیت کی ۔ جنگ میں انسانیت کی پست ترین اور اعلٰی دونوں قدریں نظر آتی ہیں، جنگ چاہے وہ انسانوں کی ہو یا جانوروں کی دونوں طرف درندگی ہوتی ہے جسے انسانوں نے ہی بہادری اور جرّات کانام دیا ہے، جودرندگی میں مخالف کو مات دےگا وہ بہادر اور جرّاتمند کہلائے گا اور دنیا اسے فاتح کے نام سے بلائےگی۔

مجھے نہیں معلوم کہ درندگی میں ہم طالبان کو مات دے دیں گے یا نہیں، لیکن جو چیز مجھے دن رات پریشان کرتی ہے وہ یہ سوالات ہیں، یہ جنگ وزیرستان کے عام لوگوں پر، خاص طور پر بارہ سے سولہ سال کے بچوں پرکیا اثرات مرتب کرے گی؟ یہی آنے والی نسل ہوگی جو فیصلہ کرےگی کہ انہیں کس راستے پر جانا ہے۔ وزیرستان کے عام قبائل طالبان کیوں بن گئے؟ اورساٹھ سال تک ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ یہ قبائل کیاسوچ رہے ہیں، ان کے مسائل کیاہیں؟ کیونکہ اگر ہم یہ جانتے تو ہمیں یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ یہ قبائل انتہائی آسانی سے عربوں اور ازبک مفروروں کے چنگل میں پھنس سکتے یا پھنس رہے ہیں، اور ہم ان کو پہلے سے ہی سمجھا سکتے کہ یہ لوگ ان کے خیرخواہ نہیں ہیں بلکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے ان کو استعمال کررہے ہیں۔ (بعد میں سمجھانے کی کوشش کی لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی)

طالبان کی نظریات کچھ بھی ہوں (میں طالبان کونیم حکیم قسم کے لوگ سمجھتا ہوں جو معاشرے کی خرابیوں اور اپنی محرومیوں کو اپنے ڈھنگ سے سدھارنا چاہتےہیں) میں صرف ایک بات جانتا ہوں کہ اس جنگ میں چاہے پاک فوج کا جوان شہید ہو یا طالبان کا جنگجو، ایک انسان انسانیت کی درندگی کا شکار ہوکر اپنی خوبصورت زندگی سے معروم ہوگیا، اور پاک فوج کے جوان ہو یا طالبان کا جنگجو دونوں کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی آنسوں تاحیات ان کی آنکھوں سے بہتے رہیں گے جب جب انہیں اپنے پیارے کی یاد آئے گی۔ اور میرے لیے سب سے بڑی بات کہ بحیثیتِ پاکستانی کے دونوں ہر پاکستانی کے بھائی ہیں۔

Saturday, 17 October 2009

Al-Qaeda threat to China a worry for Hong Kong


یہ عنوان ہے ایک مضمون کا جو ہانگ کانگ کے کثیرالاشاعت انگلش اخبارساؤتھ چائنہ مورننگ پوسٹ کے ادارتی صفحات پر ایک ہاگئی سیگل کے نام سے جو اپنے آپ کو وسطی ایشیا میں دہشت گردی پرماہرتجزیہ نگار سمجھتا ہے اورلنڈن یونیورسٹی میں لیکچرار ہے، نے لکھا ہے۔

القائدہ نام کی تنظیم کے پیچھے کون ہیں؟ اس نام کی تنظیم موجودہے بھی یا نہیں؟ اس پر تو ایک غیرجانبدار حقیقی تحقیق کے ضرورت ہے۔ کیونکہ آج تک اس نتظیم نے جو کیا ہے یا جو بکواس کی ہے اس سے مسلمانوں کو دور دور تک کوئی فائدہ نہیں ملا۔ لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسامہ بن لادن اور طالبان نام کا فساد جس نے پیدا کیا ہے وہ موجود ہے اور اس کا نام ہے امریکہ اور اس کے اتحادی برطانیہ، فرانس وغیرہ ہیں۔ ان طاقتوں نے کیپٹلزم اور لبرلزم نظام کو پوری دنیا پر مکمل طور پر نافذ کرنے کیلیئے سویت یونین کا خاتمہ اسلامی مجاہدین کے ذریعے کیا، جو بعد میں پورس کے ہاتھی بن گئے جسے امریکہ نے القائدہ وغیرہ کا نام دے دیا۔

اس مضمون میں راویتی اینٹی اسلام پروپیگنڈہ مشین کی تعصب سے بھرپور سوچ حاوی ہے، جس نے خومخواہ ایک انتہائی بیوقوف انسان جس کو یہ تک نہیں معلوم کہ وہ جو کچھ بک رہا ہے اس سے ان چینی مسلمانوں کو فائدہ تو دور کی بات ہےتکالیف میں اضافہ ہی کرے گاجو پہلے ہی انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں، کےایک ویڈیوبیان سے یہ تجزیہ کررہا ہے کہ القائدہ سے ہانگ کانگ کو بھی خطرہ ہے اورالقائدہ ہانگ کانگ پر بھی وار کرسکتا ہے۔

میں انتہائی حیران ہوں کہ ایسے لوگ اپنے آپ کو ماہر تجزیہ نگار کہتے ہیں۔۔۔

Thursday, 14 May 2009

نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا. فل سٹاپ


اخباری خبر کے مطابق صدر زرداری نے امریکہ میں بعض پاکستانی وزرا کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کا سخت نوٹس لیا ہے. اورنائٹ کلب میں موجودگی اور بھارتی رقاصاؤں پر ڈالر لٹانے پر ناپسندیدگی کا اظہارِ کیا ہے.

یہ سچ ہے کہ پاکستانی سیاست کے حمام میں سب ننگے ہیں. کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے. لیکن جب بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت آتی ہے، پارٹی کے نام نہاد جیالے کچھ حد سے زیادہ ہی کھلم کھلا امانت میں خیانت کرتے ہیں. مشرف کے دور میں قوم کی امانت سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے جو سنگین خیانت ہوئی، وہ قابل فہم ہے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کی حکومت تھی جو جی حضوری کرنے والوں پر سرکاری خزانہ لٹاتے تھے. لیکن اب تو ایک منتخب حکومت ہے جس کو پانچ سال بعد دوبارہ عوام کے سامنے جانا ہے. اسلیئے میں سمجھتا یوں صرف نوٹس ہی نہیں کوئی کاروائی بھی نظر آنی چاہیئے۔

ایسے وقت میں جب قوم کے لاکھوں بچے، خواتین، اور بوڑھے روٹی کے ایک ایک نوالے، اور پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں، اور کھلے میدانوں کے ٹینٹوں میں تنگ دستی و تنگ حالی کی محتاج زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان بے حس وزرا کے کرتوتوں پر ان کو نہ صرف ان کے عہدوں سے برطرف کرنا چاہیئے بالکہ ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست کے دروازے بند کردینے چاہیئے۔

یہ صحیح ہے کہ چاہے بڑی سے بڑی افتاد آجائے، زندگی نام ہی چلتی گاڑی کا ہے جو کسی بھی صورتحال میں نہیں رکتی۔ اوراب بھی پاکستان میں بہت سارے مقامات پر خوشیاں منائی جارہی ہوں گی، ڈھول کی تاپ پربھنگڑا ہورہا ہوگا، لوگ اپنوں کی خوشیوں میں تمام ملکی مسائل بلا کر اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جشن منا رہے ہوں گے، جو ان کا حق ہے۔ لیکن یہ سب ایک عام آدمی کرسکتا ہے۔ لیکن جب آپ عوام الناس کی خدمت کے فیلڈ میں آتے ہیں تو پھر آپ ایک عام آدمی نہیں رہتے اور پھر آپ عام آدمی کی طرح جو آپ کا دل چاہے، کچھ بھی نہیں کرسکتے. کیوں کہ آپ کے پاس قوم کی امانت کے طور پر ایک عہدہ ہےجس کو قبول کرتے ہوئے آپ نے اس عہدے کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں بھی قبول کی تھیں۔

صدر نے زبانی جو نوٹس لیا سو لیا. لیکن یہ اب قوم کی زمہ داری ہے اور فرض ہے کہ جن جن وزرا نے امریکہ میں غیراخلاقی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے ان پر سیاست اور سول سروس کے دروازے بند ہوں.

اب ایسا نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہوگا کہ کچھ بھی کرو، اس کے خلاف اظہار ناپسندیدگی کرو اور پھر سب کچھ بھول جاؤ. نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا. فل سٹاپ

Monday, 11 May 2009

مالاکنڈ’دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی‘

Thursday, 7 May 2009

ایک درویش اور اس کا کمسن چیلا

محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد میں نےجب بھی آصف ذرداری کو ٹی وی یا کسی اخباری ویب سائیٹ پر دیکھا ہے تو وہ اپنے سفید دانت دکھارہے ہوتے ہیں، میں آصف زرداری کے سفید دانت جب بھی دیکھتا ہوں تو معلوم نہیں کیوں مجھے پرانے بلکہ بہت پرانے وقتوں کی ایک مشہور کہانی یاد آجاتی ہے ۔جومیں نے ایک کتاب “سفید جزیرہ” میں پڑی تھی جو کچھ اسطرح ہے کہ،

ایک درویش اور اس کا کمسن چیلا شہر سے دور کسی جنگل میں رہتے تھے۔ درویش عام طورپر یادِخدامیں مصروف رہتا تھا اور چیلا آس پاس کی بستیوں سے بھیک مانگ کر اس کی خدمت کیا کرتا تھا۔

درویش کا دل انسانیّت کے درد سے لبریزتھا اور وہ صبح شام انتہائی سوزوگداز کے ساتھ یہ دعا کیا کرتا تھا “میرے پروردگار! میں ایک بے بس اور بے وسیلہ انسان ہوں اور تیرے بندوں کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا، لیکن اگر تو مجھے بادشاہ بنا دے تو میری زندگی کا ہر سانس بھوکے اور ننگے انسانوں کی خدمت کے لیے وقف ہوگا۔ میں یتیموں، بیواؤں اور نادار لوگوں کی سرپرستی کروں گا۔ میں محتاجوں کے لیے لنگر خانے کھولوں گا۔ میں عدل و انصاف کا بول بالا کروں گا۔ رشوت خور اور بددیانت اہلکاروں کو عبرت ناک سزائیں دوں گا۔ مظلوم مجھے اپنی ڈھال سمجھیں گے اور ظالم میرے نام سے کانپیں گے۔ میں نیکی اور بھلائی کو پروان چڑھائوں گا۔

کمسن چیلے کو یہ یقین تھا کہ کسی دن مرشد کی دعا ضرور سنی جائے گی اورانکےدن پھر جائیں گے۔ لیکن وقت گزرتا گیا۔ چیلا جوان ہوگیااورنیک دل درویش میں بڑھاپے کے آثارظاہر ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ چیلے کے اعتقادمیں فرق آنےلگا، یہاں تک کہ جب درویش دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا تو وہ اس کے قریب بیٹھنے کی بجائے چند قدم دور بیٹھتا اور دبی زبان سے یہ دعا شروع کر دیتا۔

“میرے پروردگار! اب میرا مرشد بوڑھاہوچکا ہے۔ اسکے بال سفید ہوچکے ہیں۔ دانت جھڑ چکے ہیں اور بینائی جواب دے چکی ہے۔ اب وہ مجھے تخت کی بجائے قبر سے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ اگر تجھے ایک نیک دل آدمی کا بادشاہ بننا پسند نہیں تو مجھے بادشاہ بنا دے۔ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا ہر کام اپنے مرشد کی خواہشات کے الٹ ہوگا۔ میں صدق دل سے عہد کرتا ہوں کہ میں ناداروں کو زیادہ نادار اور بے بسوں کو زیادہ بے بس اور مظلوموں کو زیادہ مظلوم بنانےکی کوشش کروں گا۔ میں چوروں اور ڈاکوؤں کی سرپرستی کروں گا۔ میں شرفاء کو ذلیل کروں گا۔ اور ذلیلوں کو عزت کی کرسیوں پر بیٹھاؤں گا۔ میں راشی اور بد دیانت اہلکاروں کی سرپرستی کروں گا۔

ابتداءمیں یہ ہوشیار چیلا چُھپ چُھپ کر دعائیں کیا کرتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ اسکا حوصلہ بڑھتا گیا اور کچھ مدت بعد اس کی حالت تھی کہ جب مرشد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا تو وہ بھی اس کے قریب بیٹھ کرہی بلند آواز میں اپنی دعا دہرانی شروع کردیتا۔ درویش اپنی آنکھوں مین آنسو بھر کر یہ کہتا کہ اگر بادشاہ بن جاؤں تو عدل و انصاف نیکی اور سچائی کا بول بالا کروں اور چیلا قہقہ لگا کر یہ کہتا کہ اگر میں بادشاہ بن جاؤں تو ظلم اور بدی کا جھنڈا بلند کروں۔ درویش کہتا کہ میرے خزانے سے معذور اور نادار لوگوں کو وظائف ملیں گے اور چیلا یہ کہتا کہ میں ان پر سخت جرمانے عائد کروں گا۔ درویش اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا اور بسا اوقات ڈنڈا اٹھا کر پیٹنا شروع کردیتا، لیکن چیلا اپنی روایتی نیازمندی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔

پھر وہی ہوا جو پرانے وقتوں میں ہوا کرتا تھا۔ یعنی ملک کا بادشاہ چل بسا اور تخت کے کئی دعویدار ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر میدان میں آگئے۔ دور اندیش وزیر نے راتوں رات تمام دعوے داروں کو جمع کرکے یہ تجویز پیش کی کہ اب ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ شہر کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں اور علی الصباح باہر سے جو آدمی سب سے پہلے مشرقی دروازے پر دستک دے، اسے بادشاہ تسلیم کر لیا جائے۔

یہ تجویز بااتفاق رائے منظور کی گئی۔ پھر یہ ہوا کہ نیک دل درویش کا چیلا بھیک مانگنے کے لیے کسی چھوٹی موٹی بستی کا رخ کرنے کے بجائے ملک کے دارالحکومت کی طرف جا نکلا۔ پو پھٹتے ہی اس نے شہر کے مشرقی دروازے پر دستک دی، پہریداروں نے دروازہ کھول کر اسےسلامی دی اور امراءاسے ایک جلوس کی شکل میں شاہی محل کی طرف لے گئے۔

نئے بادشاہ نے تخت پر رونق افروز ہوتے ہی یہ حکم جاری کیا کہ میری سلطنت میں جتنے درویش، فقیر اور سادھو ہیں، انھیں کسی تاخیر کے بغیر گرفتار کرلیا جائے۔ اس حکم کی تعمیل کی گئی، لیکن خوش قسمتی سے نئے بادشاہ کے مرشد کو کسی طرح یہ پتہ چل گیا کہ اس کا ہوشیار چیلےکی دعا قبول ہوگئی ہے اور وہ سرحد عبور کرکے کسی دوسرے ملک میں چلا گیا۔

اسکے بعد جو ہوا، وہ کسی تشریح یا تبصرے کا محتاج نہیں۔ نئے بادشاہ نے پوری مستعدی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام وعدے پورے کیے۔ نہروں کا پانی بند کردیاگیا۔ کنوئیں اور تالاب غلاظت سے بھر دیے گئے۔ چوروں اور ڈاکوؤں کو جیلوں سے نکال کر حکومت کا کاروبار سونپ دیاگیا۔ نیک خداپرست انسانوں پر ظلم کی انتہا کردیگئ۔

غرض ان داشمندوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی، جنہوں نے ملک کی بھلائی کے لیے ایک گداگر کو تخت پر بیٹھا دیا تھا۔ جب نئے بادشاہ کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے تو عوام کے لیڈروں نے اسکا حسب ونسب معلوم کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ سابق وزیراعظم کی قیادت میں ایک وفد تلاشِ بسیار کے بعد بادشاہ کے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس سے فریاد کی کہ خدا کے لیے ہمیں اس بلائے ناگہانی سے نجات دلائیے۔

عمررسیدہ درویش اپنے چیلے کے سامنے جانے سے گھبراتا تھا۔ لیکن ارکانِ وفدکی گریہ وزاری سے متاثر وہ یہ خطرہ مول لینے پر آمادہ ہوگیا۔ جب وہ دربار میں حاضرہواتوبادشاہ سلامت کواپنے پیرومرشدکی طرف دیکھتے ہی اپنا ماضی یاد آگیااوراس نے مرعوبیت کے احساس سے مرغوب ہوکرکہا۔ “پیرومرشد! فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

”درویش نے جواب دیا۔ “میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا۔ میں صرف تمہاری رعایا کے لیے رحم کی اپیل کرنے آیا ہوں۔ تم اقتدار کے نشے میں وہ زمانہ بھول گئےہو، جب بھیک مانگا کرتے تھے۔ خدا سے ڈرو۔ یہ سب فانی ہے۔ اگر ہوسکے تو موت سے پہلے کوئی نیک کام کرلو۔”

بادشاہ نے تلخ ہوکر جواب دیا۔ “دیکھیئےقبلہ! آپ میری قوّتِ برداشت کا امتحان لینے کی کوشش نہ کریں۔ یہ آپکی خوش قسمتی ہے کہ آپ میرے مرشد ہیں اور میں آپ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں۔ آپ مجھے جی بھر کر گالیاں دے سکتے ہیں، لیکن خدا کے لیے ان لوگوں کے ساتھ کسی نیکی کا مشورہ نہ دیں۔ آپ کو یاد ہے کہ ہم دونوں ایک ہی وقت میں دعا مانگا کرتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپکی دعا قبول نہ ہوئی اورقدرت نے مجھے بادشاہ بنا دیا؟ اگر ان لوگوں کے اعمال ٹھیک ہوتے اور قدرت کو ان کی بھلائی مقصود ہوتی تو آپ ان کے بادشاہ بنتے۔ لیکن یہ بد بخت تھے۔ انہیں اچھے برے کی تمیز نہ تھی اور قدرت انکی بد اعمالیوں کی سزا دینے کے لیے مجھے بادشاہ بنا دیا۔ اب میں مرتے دم تک اپنا پروگرام پورا کرتا رہوں گا۔ اگر قدرت کو انکی گریہ وزاری پر رحم آجائے اور میری زندگی کے دن پورے ہوجائیں تو اور بات ہے، ورنہ میری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوگی”۔

نیک دل درویش نے جواب دیا۔”برخوردارتم بلکل ٹھیک کہتے ہو۔ اگر یہ لوگ قدرت کی طرف سے کسی انعام یا بہتر سلوک کے مستحق ہوتے میری عمر بھر کی دعائیں رائیگاں نہ جاتیں۔ یہ لوگ جنہوں نے میرے بجائے تمہارے سرپر تاج رکھ دیا ہے، اس قابل نہیں ہیں کہ ان پر رحم کیا جائے۔ تم شوق سے اپنا کام جاری رکھو”۔۔!!

بھائیو!! یہ توصرف ایک کہانی تھی لیکن مجھے اس میں آج کا پاکستان نظر آرہا ہے۔۔۔

Sunday, 3 May 2009

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی (پہلی اور دوسری قسط

میں نے ایک تحریری سلسلہ "ہماری غلط فہمی و خوش فہمی" کے عنوان سے شروع کیا تھاجو ساتویں قسط کو پہنچا ہی تھا کہ اردوٹیک بند ہوگیا اور ساتھ میں میری تقریبا ساری تحریریں بھی ضائع ہوگئیں۔ پھراپنے کمپیوٹر کے ڈوکومنٹ فولڈر میں اسی سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط کے علاوہ، کچھ تحریریں مل گئیں۔ سونے پہ سہاگہ کہ گزرے ہفتے ڈفرستان کے ڈفر نے احسانِ عظیم کرتے ہوئے اردوٹیک کے بند ہونے کی وجہ سے جو تحریریں ضائع ہوگئیں تھیں وہ بھی فراہم کردیں(شکریہ ڈفر) جس میں اسی سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط بھی موجود تھیں۔ جب بلاگر پر بلاگ بنایا تو سوچا کیوں نہ ان کو دوبارہ شائع کیا جائے۔

یہ تحاریر ہیں تو پرانی لیکن بدقسمتی سے اب بھی پاکستانی قوم کے حالات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

اس سے پہلے میں تیسری اور چوتھی قسط شائع کرچکا ہوں۔ آج میں اُسی سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط شائع کررہا ہوں۔
---------------------------------------------

آج کل اردو بلاگ کی دنیا اور انٹرنیٹ پر ایک بحث ہورہی ہے جس میں اپنی اپنی دور کی کوڑیاں لا کر یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میرئیٹ ہوٹل بم دھماکہ دراصل پاکستان کے خلاف کوئی سازش تھی۔ یہاں میں خاص طور پرمحترم جناب اجمل صاحب کی تحریر جسکا عنوان ہے اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق (میرے خیال میں یہاں لفظ “حقائق” کی بجائے “افوائیں” استعمال ہونا چاہیئےتھا اورمحترم شعیب صفدر نے اپنے بلاگ پر اگرفرصت ہوتو!! کے عنوان سے تحریر میں کسی اور صاحب کی تحریرجو انگلش میں ہے پڑھنے کا مشورہ دیا ہےجس کے لکھاری یاتو براس ٹیک کے زاہد حامد ہیں یا ان کے کوئی شاگرد۔

یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ہم اس قسم کی بچکانہ اورغیر منطقی قسم کی افوائیں پھیلا کر کس کا بھلا کر رہے ہیں؟؟ اور سب سے بڑی بات ہم کہنا کیا چارہے ہیں؟؟ میں نےدوتین بارمحترم اجمل صاحب کی تحریر پڑھی کہ سمجھ سکوں وہ حکومت کی نااہلیت پر تنقید کررہے ہیں یا کسی بیرونی سازش سے ہمیں خبردار کررہے ہیں؟؟ اور جو دوسرے صاحب ہیں جس کا ذکر صفدر صاحب نے اپنے بلاگ پر کیا ہے، زاہد حامد کی طرح ایک لمبی تمہید باندھ کرایک ایسی کہانی کی تصویر کھینچی جس کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

جہاں تک میرئیٹ ہوٹل بم دھماکے کاسوال ہے میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میریٹ ہوٹل بم دھماکہ امریکی سازش ہے یا یہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے یہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں یہ ہماری عادت بن چکی ہےکہ ہمیشہ اپنی کوتائیوں اور اپنے قومی فرائض سے چشم پوشی کرکےہر معاملے میں “دال میں کچھ کالا” ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان غیرمنطقی نام نہادحقائق کو اپنی ناکامیوں اور کوتائیوں کے لیےایک عذر کے طورپرپیش کرتے ہیں ۔

آج کل انٹرنیٹ کےعلاوہ پاکستانی ٹی وی پروگراموں میں بھی پاکستان کی حالت پر زبردست بحث مباحثہ ہوتا ہے جسنے مجھے پریشان کردیا ہے اورسوچنے پرمجبور کردیاہے کہ۔۔۔۔۔ہمیں بحیثت پوری قوم شاید کوئی غلط فہمی ہے، اور ساتھ ہی ہم شدید خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں۔

اپنی کم علمی کے باوجود جہاں تک میں سمجھا ہوں کوشش کروں گا اپنی آنے والی تحاریر میں "ہماری غلط فہمی و خوش فہمی" کے عنوان سے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کروں سکوں ۔ اس کے ساتھ میں بلاگ کی دنیا کے ساتھیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے اپنے بلاگ پر وہ ان سوالوں کا کھلے دل اور ذہن سے جواب دیں۔

ہم کیا ہیں؟ ؟
پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟
اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟
اقوامِ عالم میں ہمارا رتبہ کیا ہے؟؟
ہماری مالی و فوجی طاقت کیا ہے؟؟

ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو آج کل ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں آتے ہوں گے۔

"جاری ہے"

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی ۲

یہ تو سچ ہے حقیقت ہمیشہ تکلیف دیتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے حقیقت سے کب تک بھاگاجا سکتا ہے؟ حالانکہ ۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی انسان کو معلوم ہے کہ دراصل حقائق سے بھاگنا ہی اس کے تمام مسائل کی جڑہے اور حقائق کا سامنا کرنے میں ہی اس کے تمام مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔

لیکن پھر بھی انسان خاص طور پر ہم پاکستانی تو ہمیشہ حقیقت سننا، سمجھنا اور جاننا ہی نہیں چاہتے، ہماری مثال اُس نشئی کی طرح ہے جو نشے کے سراب میں دنیا کی تمام تکالیف، ناکامیوں، پریشانیوں اور تلخ حقائق سے چھٹکارا حاصل کرکےاپنے آپ کو آسمانوں میں اڑتا ہوا پاتاہے اور اس سراب سےباہرتلخ حقیقت سے بھاگنے کے لیئے بار بار نشے کی گود میں پناہ ڈھونڈ تا ہے کیونکہ حقیقت تو بہت بھیانک ہے، حقیقت میں تو وہ بدبودارخستہ جسم لیےغلیظ نالوں اور کھنڈرات میں بیٹھاہے، ہاں حقیقت!! تو بہت ظالم اور تلخ ہے، حقیقت میں تو اس کی زندگی نالی میں رینگتے ہوئے کیڑے سے بدتر ہے، حقیقت میں تومعاشرہ اسےسماج کا ایک ناسور سمجھتی ہے۔ لیکن نشے کے استعمال سےوہ ان حقائق کا سامنا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ حقائق کا سامنا کرنے سے اسے سراب کی جنت سے نکل کر حقیقی دنیا میں واپس آنا ہوگا جوکامیابی، عزت و توقیری کیلیئے بےباکی، انتھک محنت، قربانیاں اور عمل مانگتی ہے۔

پاکستانی مسلمانوں کو بھی نام نہاد “شاندار ماضی” کے نشے کا عادی بنا دیا گیاہے۔ اس نشے نے ہمیں حقائق سے اتنا دور کردیا کہ اب ہمیں ”حقیقت“ نظر ہی نہیں آتی، اورسب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ جس شاندار ماضی پر ہمیں فخر ہے اور جسکو واپس لانے کیلیئے ہم اپنے ہی لوگوں کے چھیتڑے اڑا رہے ہیں وہ ہمارا ہے ہی نہیں۔ اس سراب نے پاکستانی قوم کو شدیدترین غلط فہمی اور خوش فہمی میں مبتلا کردیاہے اور اس کے ذریعے ہماری ایسی برائن واشنگ کی گئی کہ ہم خطرناک حد تک حائیپوکریٹیکل ہوگئے ہیں کیونکہ ہم جو اپنے آپکوسمجھتے ہیں حقیقت میں اسکے بلکل برعکس ہیں ۔

ہمارے ناقص فرسودہ تعلیمی اور آمرانہ و جاگیردارانہ سیاسی نظام نےہمیں یہ نشہ سکولوں میں، دینی مدرسوں میں اور اخبارات ورسائل، کتابوں کےذریعے خوب، خوب پلایا، اس نشے کے سراب میں ہمیں بتایاگیا کہ سلطان محمود غزنوی ، محمد بن قاسم وغیرہ جو اصل میں بیرونی حملہ آور تھے ہمارے ہیرو ہیں اورانہوں نےجوفتوحات ہمیں مغلوب کرکے حاصل کی اور ہم پرحکومت کی وہ یہ کامیابیاں اس لیئے حاصل کرسکے کیونکہ وہ مسلمان تھے، اور آج ویسی ہی فتحوحات ہم آج کی اقوام پر بھی حاصل کرسکتے ہیں اورکرنے چاہیں کیونکہ ہم بھی مسلمان ہیں اور یہ ہمارا دینی فرض ہے، سوائے ہمارے باقی تمام اقوام بھٹکی ہوئی ہیں، ان اقوام کو راہ راست پر لانے کیلیئے ہمیں ان پر فتح حاصل کرنی ہوگی اور ان کی راہنمائی کرکے انہیں سیدھے راستے پر لانا ہوگا یہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیئے ، یہی ہماری تمام تکالیف اور پریشانیوں کاحل ہے، بس وہ صبح بہت جلد آنے ہی والی ہے جب ہمارے دروازے پر ایک نیا غزنوی، ایوبی دستک دےگا، ہمارا ہاتھ پکڑ کرہمیں اس دنیا پر فتح دلائےگا اور اس دن ہم اس دنیا پر اسلام کا دستور قائم کریں گے۔

اور ساتھ ہی ہمارے ذہنوں میں یہ بھی ٹھونسا جاتا ہے کہ دنیا میں بنا کسی عملی کام اور کامیابی کے، عزت و توقیری اور اقوام عالم میں برتری ہمارا پیدائیشی حق ہے کیونکہ ہم مسلمان کےگھر میں پیدا ہوئے ہیں، اور اقوام عالم کوہمارا یہ حق بغیر کسی اعتراز کے دینا ہوگا۔ اور کیونکہ موجودہ وقت کی طاقتور اقوام کو معلوم ہے کہ ہم اور صرف ہم ہی اُن کی اجاداری کو ختم کرسکتے ہیں اسلیئے یہ اقوام ہم سے خوف زدہ ہیں اور ہمیں ختم کرنے کیلیئے یہ خفیہ طورپر (کھلم کھلانہیں کرسکتے کیونکہ وہ ڈرتےہیں ہماری طاقت سے ہا ہا ہا ہا ) ہمارے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں اور اصل میں یہ اقوام ہی ہمارے تمام مالی، سماجی اور معاشرتی مسائل کے زمہ دار ہیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ ہم ان مسائل سے باہر نکل کران کی اجاداری کو للکاریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اصل میں ہم کیاہیں؟؟ ہم کیوں خود کو فریب دے رہے ہیں؟ ہم حقائق کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ امریکہ تو بہت دور کی بات ہے ہم روایتی جنگ میں اسرائیل جیسے چھوٹے ملک کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے؟ آخر وہ کون سے حقائق ہیں (یہاں میں حقائق کی بات کررہا ہوں بھڑکیاں مارنے کی نہیں) جسکے بل بوتے پرہم ہندوستان اور امریکہ جیسے ممالک کو بھی للکار رہے ہیں؟

اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟

جو ہمارے سماج میں ایک غریب ترین شخص کی ہوتی ہے، جوگاؤں میں غریب مزارعین، موچیوں، نائیوں وغیرہ کی ہوتی ہے، جن کا ہمارے سماج نے ”کمی کمین“ نام رکھا ہے (تمام معزز پیشہ ور کاریگروں سے معذرت۔ اصل میں تو آپ لوگ ہی پاکستان کا حقیقی سرمایہ ہو) اور جن کو ہمارے سماج میں کم ترین درجے کے بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیئے جاتے۔ ملک سے باہر پاکستانی قوم کو دنیا کے ہر ملک میں اس میں ہمارے برادراسلامی ممالک، اور یہاں تک کہ اپنے پاکستانی نسل کے غیرملکی بھی شامل ہیں، عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، انہیں ان پڑھ ، جاہل گوار، غیرمہذب سمجھا جاتا ہے، دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں ہمارے پاکستانی رہتےہیں وہاں بھی ہم سب سے پسماندہ ، مالی، علمی اور معاشرتی لحاظ سے سب سے پیچھے ہیں، اقوام عالم میں پاکستانی قوم علمی، سماجی، مالی، معاشرتی ہر لحاظ سے ایک پسماندہ ترین قوم ہے، ہماری آدھی سے زیادہ آبادی کو بنیادی ضروریات جیسے پینے کا پانی، بجلی، بنیادی صحت و تعلیم وغیرہ میسّر نہیں ہیں، ہماری آبادی کے پچّاس فیصد بچے سکول نہیں جاتے، ہماری 65 فیصد آبادی ان پڑھ ہے، ہم کرپٹ ترین ممالک میں شمار کیئے جاتے ہیں، مالی طور پر ہم ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈیفیکٹو ڈیفالٹ ہیں کیونکہ ہمیں قرضوں کی قسط ادا کرنے کیلیئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے، ہماری معیشیت کی حالت اس مریض جیسی ہے جو لائف سپورٹ مشین کی مددسےزندہ ہے جو امریکہ، فرانس، برطانیہ، جاپان اور سعدی عرب دے رہا ہے، ہماری نصف سے زیادی آبادی غربت اور نیستی کے بھنور میں پھسنی ہوئی ہے، ہمارا سماج اور معاشرہ اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہے۔ غرضیکہ ہمارے ملک کو درپیش مسائل کی ایک طویل نہ ختم ہونے والی فہرست ہے ۔

، ہماری قوم منافقت کی پست ترین درجے پر ہےکیونکہ ہرپاکستانی مکمل تو دور کی بات ہے بنیادی اسلامی تعلیمات پر بھی عمل نہیں کرتا، جھوٹ، دھوکہ بازی، غیبت، حسدوبغض، غرضیکہ ہر وہ گناہ جو ہمارے مذہب میں منع ہے وہ کرتا ہے لیکن امریکہ اور مغرب کی مخالفت ہو یا اسلام کا دفاع جب احتجاج کے لیئے سڑکوں پر آتا ہے تو مرنے مارنے پرتیار ہوجاتا ہے اور انتہاہِ ظلم یہ کہ خود اپنے ہی خون سے ہولی کھیلتا ہے اور اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی؟؟؟

"جاری ہے" تیسری قسط ملاخطہ کریں

Thursday, 30 April 2009

میرا گاؤں میرا دیش

آج کل میری مصروفیات ایسی ہیں کہ جن کو کرتے ہوئے مجھے خود اپنے آپ پر ہنسی آرہی ہے، اورجواچانک ہی میرے پلے پڑگئیں. میری یہ ایک بری عادت ہے کہ جس کام کے پیچھے پڑجاؤں اس سے چِمٹ سا جاتا ہوں. چاہے وہ کام آتا ہو یا نہیں. پہلے بلاگ بنانے کے پیچھے لگ گیا تھا. کبھی اِدھراورکبھی اُدھر بلاگ بنانے لگا اور بالآخر بلاگ سپاٹ پرکسی حد تک حسبِ منشا بلاگ بنانے میں کامیاب ہوگیا.

آجکل ایک اردوفورم ترتیب دے رہا ہوں اورمزّے کی بات ہے فورم ترتیب دینے اور اسے چلانے کے بارے میں الف ب سے بھی واقف نہیں ہوں. لیکن بس اپنی عادت سے مجبوردن رات اس کام پےلگا ہوا ہوں. واقعی یہ سوچنے کی بات ہے، کہ جو کام آتا نہیں وہ آدمی کیوں کرے؟ لیکن اس بے نام کھجلی کا کیا کیا جائے جو پنگا لینے پر مجبور کرتی ہے.

تمہید بہت ہوگئی، اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف. اردو فورم بنانے کا قصہ کچھ یوں ہے کہ گزرے سوموارایک عزیزکو ویکیپیڈیا کے بارے میں بتا رہا تھا، وہ بھی میرے ساتھ ہی بیٹھا تھا، اس نے ویسے ہی ویکیپیڈیا میں ہمارے گاؤں شینکہ (جو کہ اٹک کے علاقہِ چھچھ میں واقع ہے) کے بارے میں تلاش کیا تو ہمیں وہاں ایک ویب ایڈریس ملا www.shinka1.com

ارے!! واہ!! کیا یہ ہمارے گاؤں کی ویب سائیٹ ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یقین نہیں آرہا تھا. خوشگوارحیرت اور تجسّس کے ساتھ ویب سائیٹ پر گئے تو واقعی ہمارے گاؤں کی ویب سائیٹ نکلی. اب جس شخص نےگیارہ سال سے اپنے گاؤں کو نہ دیکھا ہو، اور اس پراسے گاؤں کی شدّت سے یاد بھی آرہی ہو، اس کے سامنے اچانک وہی گلیاں، محلے، کھیت، اور لوگ جس میں اس نے بچپن گزراہو دیکھ لے تو اس کی کیا حالت ہوگی یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو اپنے آبائی گاؤں یا شہر سے لمبے عرصے کے لیے دور ہوا ہو. ویب سائیٹ پرگاؤں کے بارے میں پڑھا. اورتصویریں بھی دیکھیں جس سےبچپن کی یادیں تازہ ہوگئی اور بہت سکون بھی ملا.

قطہ نظرغیرمعیاری ڈیزائن اور مواد کے، گاؤں کے نوجوانوں نے اپنی بساط کے مطابق ایک اچھی کوشش کی ہے جس کے لیے ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے. کیونکہ کوشش سے ہی آدمی سیکھتا ہے اور اپنا میعار بہتر کرتا ہے.

گاؤں کی ویب سائٹ دیکھنےکےبعد میں ویب ماسٹر فہیم کی گیسٹ بک پراس کا شکریہ ادا کرنے گیا تووہیں مجھے خیال آیا کہ میری طرح جو لوگ بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں ان کا اپنے خاندان کےعلاوہ گاؤں سےرابطہ ختم ہوجاتا ہے، اورچاہنے کے باوجود اپنے گاؤں، قصبے سے اپنی محبت کا اظہارکرنے کے لیے اورگاؤں والوں سے میل ملاپ کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جہاں سے ان کی پردیس میں رہتے ہوئےگاؤں سےرابطہ قائم رہے، اور دوستوں کے ساتھ میل ملاپ بھی ہوتی رہے. اگلا خیال یہی تھا کہ اگر ویب سائیٹ بن سکتی ہےتوویب فورم کیوں نہیں.

بس پھر کیا تھا اردو محفل کی طرف دوڑ لگائی کیوں کہ کچھ عرصہ پہلے اردو محفل پر نبیل صاحب اور مکی صاحب کی "فری ویب ہوسٹ پر اردو فورم بنائیں" کےعنوان سے تحریریں دیکھی تھیں. ان کو پڑھنے کے بعد خوشی ہوئی کہ فورم بنانا اتنا مشکل نہیں ہے، بالکہ سب سے بڑا مسلہ فورم کو ہوسٹ کرانا ہے اور وہ بھی مفت، اور پھر اس سے بھی زیادہ کھٹن کام فورم کو کامیابی اور منظم طریقے سے چلانا ہے.

اردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی فورم بنانے سے پہلے اِدھر اُدھر کچھ اور تجربات بھی کیئے لیکن ناکام ونامراد، سخت مایوسی میں واپس اردو محفل پر لوٹ آتا. اس کے علاوہ اردومحفل پرساتھیوں کے تجربات پڑھنے کے بعد تو اور بھی مایوسی ہوئی. مایوس اس لیے بھی ہورہا تھا کہ تقریباً ہر مشورہ اور راہنمائی outdated ہوگئی تھی.

آخرکاراردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی2 سے فورم بنانے کا فیصلہ کرلیا، مفت ہوسٹنگ فراہم کرنے والی فرم یوای یو او پر۔ اوراب تک کے تجربات کی روشنی میں ایک بہت اچھی سروس ہے اور پھر ہے بھی مفت۔

اپنے پہلے فورم کا نام رکھنے کے مرحلے نے بھی کافی پریشان کیا، کیونکہ کبھی فیصلہ کرتا فورم صرف میرے گاؤں شینکہ کے لیے مختص ہونا چاہیے، پھر سوچتا نہیں یار، آس پاس کےگاؤں اورعلاقہ چھچھ کے دیہات اور قصبوں کو بھی شامل کیا جائے. کافی غیر ضروری سوچ بچار کے بعد آخرالذکرکےحق میں فیصلہ ہوا.

اردومحفل کےنبیل صاحب کی ہدایات پرعمل کرتا ہوااردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی2 کامیابی سے انسٹال کرلیا، جس کے بعد ایک زبردست یایایایایاہوووو کا نعرہ لگا کردوباراپنی کرسی پرہی چھلانگیں لگا کر جشن منایا۔ واقعی بے خوشی ہوئی تھی اپنے پہلے اردو فورم کو زندگی کی ابتدائی سانسیں لیتے ہوئے.

لیکن یہ کیا؟ اردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی2 بھی تو outdated ہوچکا ہے. لیکن کم ازکم کام تو کررہا ہے اور تمہیں کیا چاہیے؟ اب مجھے مطمئن ہوجانا چاہیے تھا. لیکن نا جی اس کھجلی کا کیا کیا جائے اس کا توکوئی علاج ہی نہیں ہے، جو باربار نئے سے نئے تجربات اورغیر ضروری ایڈونچر پر اکساتی ہے.

اب جی اِدھراُدھر مارا مارا پِھرنےلگا upgrade معلومات ڈھوندنےکےلیے، اورگھومتے گھومتے القلم فورم کے محمد کاشف مجید صاحب کے بلاگ پرپہنچ گیا اور ان کی ہدایات جو کم و بیش اردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی2 جیسی ہی تھیں پرعمل کرتے ہوئے ایک اور کامیابی کے ساتھ اردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی3 بھی انسٹال کرلیا.

لیکن یہ کیا؟ اردوپی‌ایچ‌پی‌بی‌بی3 کا بھی ایک نیا ورژن آگیا ہے 3.0.2 اورجس کے بارے میں محمد کاشف صاحب نے بھی تاکید کی کہ اس کو اپ گریڈ کرلیا جائے. سو چاروناچار اپنے آپ کو کوستے ہوئے یہ نیا ورژن بھی انسٹال کرلیا.

اور اسطرح بالآخرمیراخیال حقیقت کے روپ میں 30 اپریل 2009 کو چھاچھی حجرہ فورم کے نام سے اردوفورم کی دنیا میں وارد ہوا. ابھی فورم باقائدہ لانچ نہیں ہوا، ٹیسٹنگ اور انتظام کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اور کچھ مسائل بھی ہیں جن کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اب فورم تو بن گیا لیکن بقول نبیل صاحب کے فورم ترتیب دینا تو بہت آسان ہے، اصل کھٹن مرحلہ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ کا فورم کامیابی کے ساتھ انسٹال ہوجائے. کیونکہ فورم صرف بنانا ہی نہیں ہوتا اس کو چلانا بھی ہوتا ہے جس کے لیے ممبران کی ضرورت ہوتی ہے. اور جس طرح کسی ملک کی حالت کا اندازہ اس کی عوام سے اورعوام کی ملک کی حالت سے لگایا جاسکتا ہے، ویسے ہی فورم کی کامیابی اور معیارکا اندازہ اسکے ممبران سے لگایا جاسکتا ہے. اور ایک فورم کا اعلٰی معیار اور کامیابی اس کے ممبران کی مرعونِ منّت ہے.

کامیابی سے قطہ نظر کم از کم فورم تو بن گیا، اور مجھ جیسے "ان پڑھ" عام آدمی کےلیے یہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے. اور انشاءاللہ فورم کو بھی ساتھیوں کی مدد سےاچھے طریقے سےچلانےکی پوری کوشش کروں گا۔

اگر آج مجھ جیسا پرائمری پاس ان پڑھ بھی اردو فورم ترتیب دے سکتا ہے، بلاگ بنا سکتا ہے، انٹرنیٹ فورمز وغیرہ پراردو آسانی سے لکھ سکتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کوئی بھی کرسکتا ہے۔ اور اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے نبیل صاحب اور ان کےہم رکاب ساتھی، شاکر القادری صاحب، محمدکاشف مجید صاحب، اردوماسٹروالے ساجداقبال صاحب اور عمار ضیاء خاں صاحب۔ ان لوگوں کی شبانہ روز محنت اور اردو کی بے لوث خدمت کی وجہ سے ہی آج آئی ٹی میں اردو تھوڑی بہت ترقی کررہی ہےجس کے لیے اردو زباں اور اس سےمحبت کرنے والے تاقیامت ان کے احسان مند رہیں گے۔

میں ان سب حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ ان کی محنت کا اجر دونوں جہانوں میں اپنی نہ ختم ہونے والی رحمت و برکت کا مینا برسا کر دے۔