جمعہ، 3 جنوری، 2014

ہائی جیکنگ ڈرامہ۔۔۔ جوابی وار۔ جنرل پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس (پانچویں قسط)

ہائی جیکنگ ڈرامہ۔۔۔ جوابی وار۔ 


جب علی اور سلطان راولپنڈی سے راوانہ ہوئے تھے تو شاہد نے پرائم منسٹر ہاؤس کےحفاظتی دستے کے سربراہ میجر کو حکم دینے کے لئے ٹیلی فون کیاکہ وہ پرائم منسٹرہاؤس کو بند اور محفوظ کردیں۔ لیکن میجر کی بیوی نے بتایا تھاکہ وہ ورزش کے لئے گئے ہیں۔ خوش قسمتی سے وہ پرائم منسٹر ہاؤس کے میدان میں ہی ورزش کررہے تھے لہٰذا ان سے جلد ہی رابطہ ہوگیا۔ انہوں نے پرائم منسٹر ہاؤس میں ہر طرح کی آمدورفت بند کردی تھی اور وہاں پر موجود فوجی گارڈ کو بتایا کہ ان سے کیا توقع کی جاتی ہےاور یہ بھی بتایا کہ ان کے چیف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور انہیں آئندہ ہونے والے اقدامات کے بارے میں اس طرح بتایا ، گویا یہ تمام کاروائی چیف کے احکامات کے تحت ہے۔ اسی طرح صدارتی تحفظ پر مامور میجر کو جاوید سلطان نے حکم دیا کہ پہلے وہ ایوانِ صدرمیں ہر طرح کی آمدورفت بندکریں اور اس کےبعد وہاں سے تھوڑے فاصلے پر واقع ٹیلی ویژن اسٹیشن جاکر اسے اپنی تحویل میں لے لیں۔ ایوانِ صدر بغیر کسی پریشانی کے محفوظ کردیا گیاتھا۔

"جب اس کا وقت آیا کہ وہ میرے لئے کچھ کرےتواس نے کچھ نہ کیا اور ساکت بیٹھایہ دیکھتا رہا کہ میں جیتوں گا یا ہاروں گا"


کراچی میں پانچ بج کرچالیس منٹ ہوئے تھے، جب کراچی کے کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل مظفرعثمانی کو لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان نے ٹیلی فون کیا اور کہاکہ وہ ایئرپورٹ کو اپنی تحویل میں لے لیں اور چیف جب اُتریں تو اُن کا استقبال کریں۔ اس کے بعد کراچی میں واقعات بہت تیزی کے ساتھ حرکت میں آئے اور جنرل عثمانی نے فوری احکامات صادر کئے۔ انہوں نے بریگیڈیئرطارق فتح  کو، جو کراچی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹرتھے، حکم دیا کہ وہ ایئرٹریفک کنٹرول کو اپنی تحویل میں لے لیں اور بریگیڈیئرنوید کے ساتھ، جو ایئرپورٹ سیکورٹی کے کمانڈرتھے، تعاون کریں۔ اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ طارق فتح نے صرف یہ کیا کہ وہ ہوائی اڈے پر گئے اور ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفترمیں بیٹھ گئے۔ یہ وہ شخص تھا، جسے میں نے ترقی کی راہ پر لگانے میں کافی مددکی تھی، لیکن جب اس کا وقت آیا کہ وہ میرے لئے کچھ کرےتواس نے کچھ نہ کیا اور ساکت بیٹھایہ دیکھتا رہا کہ میں جیتوں گا یا ہاروں گا۔

"گورنر نے کمانڈر پر بغاوت کا الزام لگایااور سنگین نتائج کی دھمکی دی"


شام پانچ بج کرپینتالیس منٹ پر لاہورمیں فوج حرکت میں آچکی تھی اور سپاہیوں کے چار دستے تیار کئے گئے۔ ایک گورنرسردارذولفقارعلی کھوسہ کو حراست میں لینے کے لئے گورنر ہاؤس، دوسرا ٹیلی ویژن اسٹیشن، تیسرا وزیراعظم کی رہائش گاہ اور چوتھارائے ونڈمیں وزیر اعظم کی نئی خاندانی رہائش گاہ پرگیا۔ گورنر اپنے دفتر میں تھےاور دو سو لوگوں کے اجتماع کے لئےایک تقریرتیارکررہے تھے۔ جب دو سپاہیوں نے ان کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو گورنر کے ذاتی محافظوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن سپاہیوں نے انہیں ایک طرف ہٹادیا۔ کمانڈر، گورنر کے دفتر میں داخل ہوئےاور ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے ساتھ بریگیڈیئر ہیڈکوارٹر چلیں۔ گورنر نے کمانڈر پر بغاوت کا الزام لگایااور سنگین نتائج کی دھمکی دی۔

" قوم نے، جو گھروں میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی تھی، محسوس کیا کہ دال میں کچھ کالا ہے"


اُس وقت تک نوازشریف کی چال کو ناکام بنانے کے لئے راولپنڈی، کراچی اور لاہورمیں کاروائی شروع ہوچکی تھی۔ شاہد علی اور جاوید سلطان، اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ لاہورمیں میجر جنرل طارق مجید نے پنجاب کے گورنرکو تحویل میں لینے، وزیراعظم کی دونوں رہائش گاہوں، ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشنوں اور شہر میں داخلے اور خروج کے تمام راستوں کو بندکرنے کے احکامات صادر کردیئے تھے۔ کراچی میں، جہاں فاصلے بہت زیادہ ہیں ، سپاہی حرکت میں آچکے تھے۔

ایوانِ صدر کو محفوظ کرنے کے بعد جاوید سلطان کے سپاہی ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر کی جانب گئے، جو وہاں سے ایک میل کے فاصلے پر تھا اور اُسے تحویل میں لے لیا۔ چھے بجے کی انگریزی کی خبریں شروع ہوئیں اور ان میں میری برطرفی کا کوئی اعلان نہیں تھا، حالانکہ وہ اہم ترین خبر ہونی چاہئےتھی۔ پرائم منسٹرہاؤس میں نوازشریف اور ان کے جو ساتھی ٹیلی ویژن کے سامنے سرجوڑے بیٹھے تھے، خطرہ محسوس کرنے لگے۔ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری، جو ایک بریگیڈیئرتھے، اپنے عہدے کا رعب ڈال کرپرائم منسٹر ہاؤس سے باہر جانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ سیدھے ٹیلی ویژن اسٹیشن گئے، جہاں انہوں نے ایک میجر پر، جو اس جگہ کے انچارج تھے، رعب ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ چند سیکنڈ کے لئے آمناسامنا ہوا، لیکن جوان میجر نے انتہائی ہوشیاری کا ثبوت دیا۔ اُسے معلوم تھا کہ مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عنقریب ہی ایک اور زیادہ  طاقتور فوج آجائے گی، جو دوبارہ اسٹیشن کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ ملٹری سیکرٹری نے میجر اور ان کے گارڈ کو نہتا کرکے ایک کمرے میں بندکردیا۔ خبریں ختم ہونے سے ذرا پہلے خبریں پڑھنے والی خاتون کو ایک کاغذ دیا گیا، جو انہوں نے تذبذب کی حالت میں پڑھا کہ جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف آف سٹاف کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین کی تقرری کردی گئی ہے، جنہیں چارستاروں والے جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ملٹری سیکرٹری خوش وخرم وزیر اعظم ہاؤس واپس چلے گئےلیکن قوم نے، جو گھروں میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی تھی، محسوس کیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

"پرویزمشرف کے ہوائی جہاز کو پاکستان میں کسی بھی قیمت پر کہیں بھی نہ اُترنے دیا جائے"


خبریں نشر ہونے کے شروع میں وزیراعظم گھبراگئے تھے کہ میرا ہوائی جہاز تقریباً ایک گھنٹے بعد کراچی میں اُترنے والا تھا اور فوج کو اس کا سربراہ واپس مل جانے کی صورت میں جوابی وار کوشکست دینے کا موقع پارا پارا ہوجائے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہی وہ نکتہ تھا، جب نوازشریف اس نتیجے پر پہنچے کہ مجھے پاکستان اُترنے سے روکا جائے۔ انہوں نے اپنے مشیر برائے سندھ غوث علی شاہ کو، جو کراچی میں تھے، ٹیلی فون کیا۔ کراچی ، جو سندھ کادارلحکومت ہے، ایک کروڑبیس لاکھ سے زائد آبادی کا بین الاقوامی شہر ہے اور ہمارا سب سے بڑا مالی اور تجارتی مرکز اور ہماری سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ وزیراعظم نے شاہ کو ہدایت کی کہ وہ فوراًپولیس کا ایک بھاری دستہ لے کرہوائی اڈے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ میرا جہاز وہاں نہ اُترے۔ اگر کسی وجہ سے اس کا اترنا نہ رک سکےتو ہوائی جہاز کو کسی دور جگہ کھڑا کردیا جائے اور فوراً اس میں ایندھن بھرکردوبارہ دوسرے ملک جانے کے لئے روانہ کردیا جائے۔

غوث علی شاہ صوبے کے قائم مقام وزیراعلٰی تھے۔ انہیں نوازشریف نے منتخب وزیراعلٰی کی جگہ رکھاہوا تھا۔ یہ بھی نواز شریف کی بہت سی غیرآئینی حرکتوں میں سے ایک تھی۔ وہ فوراً ایک بھاری پولیس پارٹی اور اپنے چندصوبائی وزیروں اور افسروں کو لے کر ہوائی اڈے کی طرف چل دیئے۔ اس کے بعد وزیراعظم نے ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کراچی میں یہی ہدایات دیں کہ پرویزمشرف کے ہوائی جہاز کو پاکستان میں کسی بھی قیمت پر کہیں بھی نہ اُترنے دیا جائے، اس کو کہیں بھی، کدھربھی جانے پر مجبورکردو تاکہ وہ ملک سے باہرچلاجائے۔ پانچ منٹ کے بعد انہوں نے یہی ہدایات پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکے چیئرمین کو دیں اور کہا کہ وہ ہوائی جہاز کے پائلٹ سے کہیں کہ وہ پاکستان کی حدود سے نکل جائے۔ چیئرمین نے ہاں کیااور نہ ناں۔  جس وقت یہ سب بات چیت ہورہی تھی، میری پرواز نے کراچی ایئرٹریفک کنٹرول سے پہلارابطہ کیا اور انہیں اطلاع دی کہ ہمارا اترنے کا وقت اندازاً چھے بج کرپچپن منٹ تھا۔ چھے بج کر دس منٹ پر کراچی کے کورکمانڈرلیفٹیننٹ جنرل عثمانی نے میجر جنرل ملک افتخارعلی خان کو، جن کے ساتھ میں نے ایئرٹریفک کنڑول ٹاور پر بعد میں بات کی تھی، حکم دیا کہ وہ فوری ری ایکشن گروپ  (Immediate Reaction Group) کو کراچی ایئرپورٹ بھیج دیں تاکہ میری پرواز وہاں اترسکے۔

"بریگیڈیئرجبار کو فوراً احکامات دیئے کہ وہ فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ پرجائیں اور ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کو اپنی تحویل میں لے لیں"


بے چین اور بوکھلائے ہوئے وزیراعظم نے ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دوبارہ ٹیلی فون کیا اور ہدایات دیں کہ میری پرواز کا رُخ مسقط یا ابوظہبی کی طرف موڑدیا جائے لیکن دبئی کی طرف نہیں۔ ڈائریکٹرسول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرٹریفک کنٹرول کو ٹیلی فون کرکے میری پرواز کی صورت حال پوچھی۔ ہوائی اڈہ بندکرنے کے طریقہء کارپربات کی اور یہ کہ ہمارے ہوائی جہاز کو بغیراُن کی اجازت کے، اترنے نہ دیا جائے۔ چند منٹ بعد میجر جنرل افتخار نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور انہیں پہلے احکامات کے برخلاف احکامات دیئےکہ وہ میری پرواز کا رُخ نہ بدلیں اور اسے کراچی میں اترنے دیں۔ جواباً ان سے کہاگیاکہ وہ ڈائریکٹرسول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفتر رابطہ کریں۔ افتخار کو اس میں شرارت کی بُوآئی اور انہوں نے اپنے بریگیڈیئرجبار کو فوراً احکامات دیئے کہ وہ فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ پرجائیں اور ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ طارق فتح کو بھی حکم دیا کہ وہ فوراً کراچی ایئرپورٹ جائیں اور پی کے -805 کے باحفاظت اترنے کے لئے اگر انہیں طاقت بھی استعمال کرنی پڑے تو کریں، لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ طارق فتح نے کچھ نہ کیا۔

(سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی تصنیف "سب سے پہلے پاکستان" سے اقتباس)

(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں