سوموار، 31 مئی، 2010

ڈیکٹیٹر کتاب سے ڈرتا ہے، مُلّا سوال سے ڈرتا ہے۔

ڈیکٹیٹر کتاب سے ڈرتا ہے اورمُلّا سوال سے، جس طرح ڈیکٹیٹر اور ملّا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ویسے ہی کتاب اور سوال دونوں ایک دوسرے کے خالق ہیں۔ سوال کتاب لکھنا سکھاتا ہے، کتاب سوال کرنا سکھاتی ہے۔ سوال ضیائے شعور دیتا ہے، کتاب چشمِ خِرَد کے اندھیروں کو اپنی تجلّی سےنور دیتی ہے۔ کتاب کنوّیں کے مینڈک کو سیڑھی بناناسکھاتی ہے، سوال کنوّیں سےباہر نکلنے کی ہمت دیتا ہے۔ کتاب ڈیکٹیٹر کے کرتوتوں کو ننگا کرتی ہے، سوال ملّا کا پول کھولتا ہے۔

پاکستان میں دونوں کی کمی نہیں ہے، ملک کے ایوانوں سے لے کر غریب بستیوں تک ہرطرف آپ کو ڈیکٹیٹر کے ساتھ ایک ملّا ملےگا۔ ڈیکٹیٹر دنیاوی مسائل اور ملّا نے اگلے جہاں کی آڑ میں عام آدمی کویرغمال بنا رکھا ہے۔ دونوں نے اپنے چیلوں کی ایک فوج ظفرموج پال رکھی ہے، یہ چیلے جانتے ہوئے کہ سب گول مال ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی لالچ میں دن رات ان کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں۔ عام آدمی کی آنکھوں میں دھول جھونکے کے لیے یہ اپنے چیلوں کو عوام کے لیے آپس میں گھتم گھتا ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں جس سےعام آدمی گروہ بندی کا شکار ہوکر اپنے حقیقی مسائل بول جاتا ہے ۔۔۔۔ عام آدمی بھول جاتا ہے کہ روٹی، کپڑا مکان میرا بنیادی حق ہے۔۔۔صاف پانی، بجلی، بنیادی تعلیم، بنیادی علاج معالج، امن وامان، شادی و خاندانی فلاح و بہبود، پرامن احتجاج، اظہار رائے وغیرہ سب میرے بنیادی حقوق ہیں جن کا دینا حکومت کا احسان نہیں فرض ہے اور اس فرض سے کوتائی ہوئی توحکومت کے پاس حکومت کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں۔

عام آدمی بھول جاتا ہے کہ میرا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام کے ساتھ “یا“ لگانا چاہیے یا نہیں، زارداری طاقتور ہے یا فوج۔۔۔میرے توچھوٹے چھوٹے مسائل ہے جو مجھے حل کرکے اپنی چار دن کی زندگی ہنسی خوشی گزارنی ہے۔۔۔اس ملّا ڈیکٹیٹر ہڑبھونگ میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال کبھی بھی نہیں اٹھا کہ جب پاکستانی خزانے میں میرے بنیادی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ان وزیروں، مشیروں وغیرہ وغیرہ کے کروڑوں اربوں کے اخراجات میرے قومی خزانے سے کیوں ادا کیے جارہے ہیں؟

عام آدمی نے سوال کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔۔۔عام آدمی کو سوال کرنا چاہیے ۔۔۔۔ اے پاکستانی سوال کر۔۔۔ملّا سے سوال کر۔۔۔ڈیکٹیٹر سے سوال کر ۔۔۔۔پوچھ، اپنے ناظم سے سوال کر، اپنے ضلعی کمشنر سے سوال کر۔۔۔اپنے صوبائی وقومی اسمبلی کے وزیر سے سوال کر تمہیں تمہارے بنیادی حقوق اب تک کیوں نہیں ملے؟ اگر وہ کہے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں تو پوچھ پاکستانی خزانے میں میرے لیے پیسے نہیں ہیں تو تمہارے لیے کیوں ہیں؟ تمہیں ملک کے خزانے سے پیسے ملتے ہیں کام کرنے، اس سے پوچھ تم نے اب تک کون کون سے کام کیے ہیں؟ اگر وہ حکومت وقت کی چشم پوشی کا عذر پیش کرے تو پوچھ تو اپنے عہدے پر اب تک کیوں بیٹھا ہے؟؟

سوال کر ۔۔۔ سوال کرنے سے مت ڈر۔

2 تبصرے:

  1. سوال کرنے آتے تو یہ قوم (بشمول میں) میٹرک پاس نہ کر لیتی؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. سوال کون کرے گا ہر طرف ہر محلے ہر گلی میں ڈکٹیٹر بسے ہیں یعنی خود غرض لوگ ۔ یہی عوام ہیں تو ان کے منتخب کردہ کیا ہوں گے ۔ بات کتاب کی بھی آپ نے کی ہے ۔ کیا کتاب صرف دوسروں کو دکھانے کیلئے ہے ؟ کتا میں تو واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے
    سورت ۔ 13۔ الرعد ۔ آیت۔ 11۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
    اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے
    سورت ۔ 53۔ النّجم ۔ آیت۔ 39۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
    اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

    جواب دیںحذف کریں